ملائیشیا میں انسانی حقوق کی تنظیم پوسات کوماس کی جانب سے جاری کردہ ملائشیا ریس ازم رپورٹ 2025 کے مطابق سال 2025 کے دوران نسل پرستی اور عدم...
ملائیشیا میں انسانی حقوق کی تنظیم پوسات کوماس کی جانب سے جاری کردہ ملائشیا ریس ازم رپورٹ 2025 کے مطابق سال 2025 کے دوران نسل پرستی اور عدم برداشت کے 107 واقعات ریکارڈ کیے گئے، جو گزشتہ 11 برسوں میں سب سے زیادہ تعداد ہے۔ رپورٹ کے مطابق یہ اعداد و شمار ملک میں سماجی ہم آہنگی، مساوات اور مختلف نسلی و مذہبی گروہوں کے درمیان تعلقات کے حوالے سے اہم سوالات پیدا کرتے ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مجموعی طور پر ریکارڈ کیے گئے 107 واقعات میں سے 43 کیسز، یعنی تقریباً 40 فیصد، پارلیمنٹ سے متعلق تھے۔ تنظیم کے مطابق یہ گزشتہ گیارہ برسوں میں سب سے بڑا تناسب ہے اور اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ نسلی اور مذہبی بنیادوں پر تقسیم پیدا کرنے والی زبان سیاسی سطح پر زیادہ نمایاں ہو رہی ہے۔ رپورٹ کے مطابق منتخب نمائندوں کی جانب سے اکثریتی بیانیے، غیر ملکیوں کے خلاف بیانات اور مذہبی بنیادوں پر تقسیم پیدا کرنے والی گفتگو میں اضافہ دیکھنے میں آیا، جس سے ایسے طرزِ عمل کے معمول بننے کا خدشہ پیدا ہوتا ہے۔
پوسات کوماس کے ڈائریکٹر جیرالڈ جوزف نے رپورٹ کے اجرا کے موقع پر کہا کہ یہ رپورٹ صرف واقعات کی فہرست نہیں بلکہ معاشرے کے سامنے رکھا گیا ایک آئینہ ہے، جس میں موجود مسائل واضح طور پر نظر آتے ہیں۔ ان کے مطابق رپورٹ کا مقصد مختلف شعبوں میں موجود امتیازی رویوں کی نشاندہی کرنا اور ان کے حل کی ضرورت کو اجاگر کرنا ہے۔
رپورٹ میں صرف سیاسی ماحول ہی نہیں بلکہ روزمرہ زندگی کے مختلف شعبوں کا بھی جائزہ لیا گیا ہے۔ اس کے مطابق نسل پرستی اور امتیازی سلوک کے واقعات ملازمت، تعلیمی اداروں، رہائش اور دیگر سماجی معاملات میں بھی سامنے آئے۔ اگرچہ ایسے واقعات اکثر عوامی سطح پر زیادہ نمایاں نہیں ہوتے، لیکن متاثرہ افراد اور کمیونٹیز پر ان کے اثرات نمایاں ہوتے ہیں۔
پوسات کوماس سے وابستہ یوگاویلان بالمورلی نے کہا کہ رپورٹ سے ظاہر ہوتا ہے کہ نسل پرستی صرف انفرادی رویوں تک محدود نہیں بلکہ بعض پالیسیوں، سماجی بیانیوں اور روزمرہ کے طرزِ عمل میں بھی اس کی جھلک موجود ہے۔ ان کے مطابق مسئلے کے مؤثر حل کے لیے ادارہ جاتی سطح پر اصلاحات اور واضح اقدامات کی ضرورت ہے۔
ملائیشیا کے نائب وزیر برائے قومی اتحاد یونسوارن راماراج نے بھی اس مسئلے کی سنگینی کو تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ تقسیم پیدا کرنے والے بیانیے عوامی اعتماد کو متاثر کر سکتے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ سیاست دانوں اور ارکان پارلیمنٹ کو اپنی ذمہ داری کا احساس کرتے ہوئے ایسے بیانات سے گریز کرنا چاہیے جو معاشرے میں نفرت یا تقسیم کو بڑھاوا دیں۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر نفرت انگیز مواد کی نگرانی مزید مشکل ہو گئی ہے کیونکہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے ذریعے تیار یا پھیلائے جانے والے تبصرے بھی تیزی سے سامنے آ رہے ہیں۔ ان کے مطابق حکومت قومی اتحاد کو مضبوط بنانے کے لیے مختلف اقدامات پر کام کر رہی ہے، جن میں ایک آزاد ہارمونی کمیشن کے قیام اور زیادہ جامع سیاسی نظام کو فروغ دینے کی تجاویز شامل ہیں۔
دوسری جانب اسی دوران صحافی کالی داس سبرامنیم کی گرفتاری نے بھی اظہارِ رائے اور صحافتی آزادی کے حوالے سے نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ رپورٹس کے مطابق وہ غیر دستاویزی تارکین وطن مزدوروں کی رہائش اور کام کے حالات پر رپورٹنگ کر رہے تھے جب انہیں مبینہ طور پر غیر قانونی داخلے کی دفعات کے تحت حراست میں لیا گیا۔
سابق رکن پارلیمنٹ چارلس سینٹیاگو نے اس گرفتاری پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ صحافی معاشرے کے ان پہلوؤں کو سامنے لاتے ہیں جو اکثر نظروں سے اوجھل رہتے ہیں، خاص طور پر کمزور اور غیر محفوظ طبقات سے متعلق مسائل۔ ان کے مطابق رپورٹنگ کے دوران کسی صحافی کو گرفتار کرنا نہ صرف میڈیا بلکہ عوام کے معلومات حاصل کرنے کے حق کے لیے بھی تشویشناک پیغام ہے۔
ملائیشیا کی معیشت میں غیر ملکی مزدور اہم کردار ادا کرتے ہیں، خصوصاً تعمیرات، مینوفیکچرنگ، شجرکاری اور گھریلو ملازمتوں جیسے شعبوں میں۔ تاہم بڑی تعداد میں ایسے کارکن بھی موجود ہیں جن کے پاس قانونی دستاویزات نہیں ہیں۔ مختلف ماہرین کے مطابق اس کی وجوہات میں بھرتی کے پیچیدہ نظام، انتظامی رکاوٹیں اور بعض استحصالی طریقہ کار شامل ہیں۔ ایسے مزدور اکثر کم اجرت، غیر محفوظ کام کے ماحول اور گرفتاری یا ملک بدری کے خدشات کا سامنا کرتے ہیں۔
یہ رپورٹ اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ نسل پرستی اور عدم برداشت کے واقعات صرف انفرادی سطح تک محدود نہیں بلکہ مختلف سماجی، سیاسی اور ادارہ جاتی شعبوں میں بھی ان کے اثرات دیکھے جا سکتے ہیں۔ اسی وجہ سے رپورٹ میں شفاف پالیسیوں، بہتر احتساب، ذمہ دار سیاسی رویے اور سماجی ہم آہنگی کو فروغ دینے کے لیے مؤثر اصلاحات پر زور دیا گیا ہے۔

COMMENTS