ملائیشیا کے شہر کلانگ میں واقع بس اسٹینڈ پر امیگریشن حکام کی جانب سے کیے گئے مشترکہ آپریشن کے دوران ایک ہزار سے زائد غیر ملکیوں کی جانچ پڑتا...
ملائیشیا کے شہر کلانگ میں واقع بس اسٹینڈ پر امیگریشن حکام کی جانب سے کیے گئے مشترکہ آپریشن کے دوران ایک ہزار سے زائد غیر ملکیوں کی جانچ پڑتال کی گئی، جبکہ متعدد افراد کے خلاف امیگریشن قوانین کے تحت تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔ کارروائی کے دوران دستاویزات نہ رکھنے والے بعض غیر ملکی مختلف سمتوں میں بھاگ نکلے، جبکہ کئی افراد نے گرفتاری سے بچنے کے لیے بسوں سے چھلانگیں بھی لگائیں۔
یہ کارروائی اتوار کی دوپہر تقریباً 12 بجے شروع ہوئی۔ جیسے ہی امیگریشن اہلکار علاقے میں پہنچے، وہاں موجود متعدد غیر ملکیوں نے فرار ہونے یا چھپنے کی کوشش کی۔ تاہم حکام نے آپریشن شروع ہونے سے پہلے ہی بس اسٹینڈ اور اطراف کے علاقوں کو گھیرے میں لے لیا تھا، جس کے باعث فرار کی کوشش کرنے والے کئی افراد کو روک لیا گیا۔
یہ مشترکہ آپریشن سیلانگور امیگریشن ڈیپارٹمنٹ کی قیادت میں کیا گیا، جس میں نیشنل رجسٹریشن ڈیپارٹمنٹ، وزارتِ داخلی تجارت و لاگتِ زندگی اور پوتراجایا امیگریشن ڈیپارٹمنٹ کے اہلکار بھی شریک تھے۔
حکام کے مطابق مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے ایک ہزار سے زائد غیر ملکیوں کی شناخت، سفری دستاویزات اور ورک پاسز کی جانچ کی گئی تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ آیا وہ قانونی طور پر ملائیشیا میں مقیم اور ملازمت کر رہے ہیں یا نہیں۔
عینی شاہدین کے مطابق متعدد غیر قانونی تارکینِ وطن قریبی دکانوں، گلیوں اور دیگر مقامات کی طرف بھاگے تاکہ گرفتاری سے بچ سکیں، لیکن پہلے سے تعینات اہلکاروں نے ان میں سے کئی افراد کو روک لیا۔
ایک مقامی دکاندار، جس نے اپنا نام ظاہر نہیں کیا، نے بتایا کہ کلانگ بس اسٹینڈ کا یہ علاقہ خصوصاً ہفتہ وار تعطیلات کے دوران بڑی تعداد میں غیر ملکی مزدوروں کی آمد کا مرکز بن جاتا ہے۔ اس کے مطابق مختلف ممالک کے شہری یہاں ایک دوسرے سے ملاقات، خریداری اور اپنے وطن کی اشیاء حاصل کرنے کے لیے جمع ہوتے ہیں۔
اس دکاندار نے یہ بھی کہا کہ بعض افراد عوامی مقامات پر پان کی پیک تھوکتے ہیں، جس سے پیدل چلنے کے راستے گندے ہو جاتے ہیں اور علاقے میں صفائی کے مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ اس کے مطابق یہاں زیادہ تر بنگلہ دیش، میانمار اور نیپال سے تعلق رکھنے والے افراد آتے ہیں۔
امیگریشن حکام نے بتایا کہ گرفتار کیے جانے والے افراد کے خلاف امیگریشن ایکٹ 1959/63 کی دفعہ 15(1)(سی) کے تحت ویزے کی مدت ختم ہونے کے باوجود قیام اور دفعہ 6(1)(سی) کے تحت درست سفری دستاویزات یا ورک پاس نہ رکھنے کے الزامات پر تحقیقات جاری ہیں۔
کارروائی کے دوران حکام کو ایک ایسا اسٹال بھی ملا جو مبینہ طور پر ایک غیر قانونی غیر ملکی چلا رہا تھا۔ ابتدائی معلومات کے مطابق وہاں سے کرسٹل نما ایک مشتبہ منشیات، جسے میتھ ایمفیٹامین قرار دیا جا رہا ہے، کے علاوہ پان کے پتے اور اسمگل شدہ سگریٹ فروخت کیے جا رہے تھے۔ حکام کے پہنچنے سے پہلے اسٹال چلانے والا شخص مبینہ طور پر فرار ہو گیا۔
اسی آپریشن کے دوران قریبی ایک ہوٹل پر بھی چھاپہ مارا گیا، جہاں ایسے شواہد ملے جن سے شبہ ظاہر کیا گیا کہ ہوٹل کو مبینہ طور پر جسم فروشی کے اڈے کے طور پر استعمال کیا جا رہا تھا۔ ایک کمرے سے لبریکینٹ، کنڈوم اور استعمال شدہ ٹشوز برآمد ہوئے، جبکہ وہاں موجود خواتین حکام کے پہنچنے سے پہلے ہی فرار ہو چکی تھیں۔
تاہم ایک غیر ملکی مرد کو ہوٹل کے ایک کمرے میں بند حالت میں پایا گیا، جسے ہتھکڑیاں لگا کر باہر لایا گیا۔ حکام نے اس معاملے کی بھی الگ سے تحقیقات شروع کر دی ہیں۔
امیگریشن ڈیپارٹمنٹ نے اعلان کیا ہے کہ وہ پیر کے روز ایک پریس کانفرنس کرے گا، جس میں آپریشن کی مکمل تفصیلات، گرفتار افراد کی تعداد اور آئندہ قانونی کارروائی سے متعلق معلومات فراہم کی جائیں گی۔
ملائیشیا میں وقتاً فوقتاً ایسے مشترکہ آپریشن کیے جاتے ہیں جن کا مقصد غیر قانونی طور پر مقیم افراد، جعلی دستاویزات کے استعمال اور امیگریشن قوانین کی خلاف ورزیوں کی نشاندہی کرنا ہوتا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ایسی کارروائیاں ملکی امیگریشن نظام پر مؤثر عملدرآمد کو یقینی بنانے کے لیے جاری رہیں گی۔

COMMENTS