کوالالمپور: ملائیشیا سوسائٹی فار آکیوپیشنل سیفٹی اینڈ ہیلتھ نے کلانگ میں آئرن پروسیسنگ فیکٹری میں بوائلر دھماکے کے نتیجے میں ایک غیر ملکی ک...
کوالالمپور: ملائیشیا سوسائٹی فار آکیوپیشنل سیفٹی اینڈ ہیلتھ نے کلانگ میں آئرن پروسیسنگ فیکٹری میں بوائلر دھماکے کے نتیجے میں ایک غیر ملکی کارکن کی ہلاکت کے بعد وزارتِ انسانی وسائل سے مطالبہ کیا ہے کہ کام کی جگہوں پر باقاعدہ اور وقفے وقفے سے ہونے والے حفاظتی معائنے دوبارہ متعارف کرائے جائیں۔
تنظیم کے مطابق باقاعدہ انسپیکشنز صنعتی حادثات کی روک تھام میں اہم کردار ادا کرتے ہیں اور کمپنیوں کو ممکنہ خطرات کی بروقت نشاندہی اور اصلاح کا موقع فراہم کرتے ہیں، جس سے کارکنوں کی جانوں کا تحفظ بہتر انداز میں ممکن بنایا جا سکتا ہے۔
ایم ایس او ایس ایچ کے صدر داتوک ویرا احمد فخرال انوار اسماعیل نے اپنے بیان میں کہا کہ کام کی جگہ پر حفاظتی اقدامات کو اخراجات نہیں بلکہ ایک سرمایہ کاری سمجھنا چاہیے، کیونکہ محفوظ ماحول نہ صرف کارکنوں کی جانوں کی حفاظت کرتا ہے بلکہ کاروبار کے تسلسل اور پائیداری کو بھی یقینی بناتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ "منافع دوبارہ کمایا جا سکتا ہے، کمپنی کی ساکھ بھی بحال کی جا سکتی ہے، لیکن جان سے جانے والے کارکن واپس نہیں لائے جا سکتے۔ اسی لیے حفاظت کوئی اضافی خرچ نہیں بلکہ ایک ایسی سرمایہ کاری ہے جو کاروبار کے مستقبل کا تعین کرتی ہے۔"
احمد فخرال نے کلانگ کے صنعتی حادثے میں جان گنوانے والے غیر ملکی کارکن کے اہل خانہ سے تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ واقعہ اس بات کی واضح یاد دہانی ہے کہ اگر کام کی جگہ پر حفاظتی اصولوں کو نظر انداز کیا جائے تو اس کے نتائج نہ صرف انسانی جانوں کے ضیاع کی صورت میں سامنے آتے ہیں بلکہ کمپنی کی کارکردگی اور مستقبل بھی متاثر ہوتا ہے۔
تنظیم نے فیکٹریز اینڈ مشینری ایکٹ 1967 کے تحت لازمی ورک پلیس انسپیکشن ختم کیے جانے پر بھی تشویش ظاہر کی۔ ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ دنیا کے کئی ممالک میں خود نگرانی کو ایک مؤثر نظام سمجھا جاتا ہے، لیکن ملائیشیا کی بہت سی صنعتیں ابھی اس مرحلے تک نہیں پہنچیں جہاں صرف داخلی نگرانی پر مکمل انحصار کیا جا سکے۔
ایم ایس او ایس ایچ کے مطابق حالیہ برسوں میں پیش آنے والے صنعتی حادثات ظاہر کرتے ہیں کہ متعدد ادارے اپنی ہی حفاظتی پالیسیوں پر مکمل عمل درآمد نہیں کر رہے۔ کئی کمپنیوں میں حفاظتی طریقہ کار موجود تو ہے، لیکن اس پر عمل نہیں کیا جاتا، آڈٹ تو کیے جاتے ہیں مگر ان کے بعد مؤثر اصلاحی اقدامات نہیں ہوتے، جبکہ خطرات کی نشاندہی کے باوجود انہیں بروقت دور نہیں کیا جاتا۔
احمد فخرال نے مزید کہا کہ ملائیشیا میں 90 فیصد سے زیادہ کاروبار چھوٹے اور درمیانے درجے کے اداروں پر مشتمل ہیں۔ موجودہ معاشی حالات میں بعض آجر کاروبار کو جاری رکھنے کو ترجیح دیتے ہیں، جس کی وجہ سے بعض اوقات ورک پلیس سیفٹی پر مطلوبہ توجہ نہیں دی جاتی۔
انہوں نے وضاحت کی کہ حقیقت میں صنعتی حادثات کسی بھی کاروبار کے لیے سب سے مہنگے نقصانات میں شمار ہوتے ہیں۔ ایسے حادثات سے پیداوار متاثر ہوتی ہے، مشینری کو نقصان پہنچتا ہے، آرڈرز اور ترسیل میں تاخیر ہوتی ہے، انشورنس کے اخراجات بڑھ جاتے ہیں، قانونی کارروائی کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور کمپنی کی ساکھ کے ساتھ ساتھ صارفین کا اعتماد بھی متاثر ہوتا ہے۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ملازمین کی تربیت، مشینری کی باقاعدہ دیکھ بھال اور حفاظتی قوانین پر عمل درآمد کے لیے کی جانے والی سرمایہ کاری، کسی بڑے صنعتی حادثے سے ہونے والے نقصانات کے مقابلے میں کہیں کم لاگت رکھتی ہے۔
یہ مطالبہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب حالیہ دنوں میں ملائیشیا میں صنعتی حادثات کے کئی واقعات رپورٹ ہوئے ہیں، جن کے بعد کام کی جگہوں پر حفاظتی نظام اور نگرانی کے طریقہ کار پر دوبارہ بحث شروع ہو گئی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ باقاعدہ انسپیکشنز اور حفاظتی اصولوں پر سختی سے عمل درآمد مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔

COMMENTS