اگر آپ نے اپنی تنخواہ کی سلپ اور ای پی ایف یا سوکسو کی کنٹری بیوشن ریکارڈ کا موازنہ کیا ہے اور دونوں میں فرق نظر آیا ہے، تو اس معاملے کو نظر...
اگر آپ نے اپنی تنخواہ کی سلپ اور ای پی ایف یا سوکسو کی کنٹری بیوشن ریکارڈ کا موازنہ کیا ہے اور دونوں میں فرق نظر آیا ہے، تو اس معاملے کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔ بعض اوقات ملازمین کی تنخواہ سے ای پی ایف یا سوکسو کی کٹوتی تو کر لی جاتی ہے، لیکن متعلقہ اداروں میں مطلوبہ رقم جمع نہیں کرائی جاتی یا پھر ریکارڈ میں رقم کم درج ہوتی ہے۔
ملائیشیا میں ای پی ایف (ایمپلائز پراویڈنٹ فنڈ) اور سوکسو (سوشل سیکورٹی آرگنائزیشن) کی ادائیگی قانون کے تحت لازمی ہے۔ اگر کوئی آجر مقررہ کنٹری بیوشن جمع نہیں کراتا تو ملازمین متعلقہ سرکاری اداروں سے شکایت درج کرا سکتے ہیں تاکہ معاملے کی تحقیقات کی جا سکیں۔
سب سے پہلے ملازمین کو چاہیے کہ وہ اپنی تنخواہ کی سلپس کا موازنہ ای پی ایف اور پیکرسو (سوکسو) کے آن لائن ریکارڈ سے کریں۔ ای پی ایف کی معلومات کے ڈبلیو ایس پی آئی-اکاؤن ایپ یا ویب پورٹل سے دیکھی جا سکتی ہیں، جبکہ سوکسو کی کنٹری بیوشن پیکرسو پریہاتین ایپ یا ویب پورٹل کے ذریعے چیک کی جا سکتی ہے۔ اگر کسی مہینے کی کنٹری بیوشن غائب ہو یا تنخواہ کی سلپ سے مختلف ہو تو اس کی نشاندہی ضرور کریں۔
یہ بھی ضروری ہے کہ ہر فرق جان بوجھ کر کی گئی خلاف ورزی نہیں ہوتا۔ بعض اوقات پے رول کی غلطی، انتظامی تاخیر یا ملازم کی معلومات میں کسی غلط اندراج کی وجہ سے بھی ایسا ہو سکتا ہے۔ تاہم ایسی ہر صورت میں معاملے کی وضاحت اور تحقیقات ضروری ہیں۔
قانون کے مطابق آجر پر لازم ہے کہ وہ ملازم اور اپنی دونوں حصوں کی ای پی ایف کنٹری بیوشن اگلے مہینے کی 15 تاریخ تک جمع کرائے۔ اگر ایسا نہ کیا جائے تو ایمپلائز پراویڈنٹ فنڈ ایکٹ 1991 کے تحت آجر کو تین سال تک قید، 10,000 رنگٹ تک جرمانہ یا دونوں سزائیں دی جا سکتی ہیں۔
اگر آجر ملازم کی تنخواہ سے ای پی ایف کی رقم کاٹ لے لیکن اسے ای پی ایف میں جمع نہ کرائے تو سزا مزید سخت ہو سکتی ہے۔ ایسی صورت میں چھ سال تک قید، 20,000 رنگٹ تک جرمانہ یا دونوں سزائیں دی جا سکتی ہیں۔ اس کے علاوہ تاخیر سے ادائیگی کی صورت میں لیٹ چارجز اور ملازم کے اکاؤنٹ میں واجب الادا منافع بھی ادا کرنا پڑ سکتا ہے۔
سوکسو کے لیے بھی عمومی طور پر یہی اصول لاگو ہوتا ہے اور کنٹری بیوشن اگلے مہینے کی 15 تاریخ تک جمع کرانا ضروری ہے۔ تاخیر کی صورت میں سالانہ 6 فیصد شرح سے سود عائد کیا جا سکتا ہے۔ اگر کوئی آجر اہل ملازمین کی رجسٹریشن یا لازمی کنٹری بیوشن ادا نہ کرے تو اسے دو سال تک قید، 10,000 رنگٹ تک جرمانہ یا دونوں سزاؤں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
اگر ملازم خود کو محفوظ محسوس کرتا ہے تو سب سے پہلے اپنی کمپنی کے ایچ آر یا ہے رول ڈیپارٹمنٹ سے تحریری طور پر رابطہ کرنا بہتر ہے۔ ای میل یا کسی سرکاری میسجنگ پلیٹ فارم کے ذریعے متاثرہ مہینوں کی تفصیل، تنخواہ کی سلپس اور کنٹری بیوشن ریکارڈ شیئر کیے جا سکتے ہیں۔ اس سے کمپنی کو غلطی درست کرنے کا موقع ملتا ہے اور ملازم کے پاس تحریری ریکارڈ بھی موجود رہتا ہے۔
البتہ اگر ملازم کو خدشہ ہو کہ شکایت کرنے پر اس کے خلاف کارروائی ہو سکتی ہے یا اسے نقصان پہنچ سکتا ہے، تو وہ براہ راست متعلقہ ادارے سے رابطہ کر سکتا ہے۔
اگر مسئلہ ای پی ایف سے متعلق ہو تو ملازم کے ڈبلیو ایس پی 1879 ایمپلائز کمپلینٹ فارم اگینسٹ آ ڈیفالٹنگ ایمپلائر کے ذریعے شکایت درج کرا سکتا ہے۔ شکایت کے ساتھ شناختی معلومات، ای پی ایف ممبرشپ نمبر، آجر کی تفصیلات، ملازمت کا دورانیہ، تنخواہ کی معلومات، تنخواہ کی سلپس، ای پی ایف اسٹیٹمنٹ اور اگر موجود ہوں تو کمپنی کے ساتھ ہونے والی تحریری گفتگو بھی جمع کرانا مفید ہوتا ہے۔ ای پی ایف ضرورت پڑنے پر تحقیقات، بقایا رقم کی وصولی اور قانونی کارروائی کر سکتا ہے۔
اگر مسئلہ سوکسو کنٹری بیوشن کا ہو تو ملازم براہ راست پیکرسو سے رابطہ کر سکتا ہے۔ شکایت پیکرسو کسٹمر سروس سینٹر، سیسپا پورٹل یا قریبی پیکرسو دفتر کے ذریعے درج کرائی جا سکتی ہے۔ اس کے لیے شناختی دستاویزات، آجر کی مکمل معلومات، تنخواہ کی سلپس، پیکرسو کنٹری بیوشن ریکارڈ، ملازمت کا معاہدہ اور دیگر متعلقہ دستاویزات فراہم کرنا ضروری ہو سکتا ہے۔
اگر ای پی ایف یا سوکسو کی عدم ادائیگی کے ساتھ ساتھ تنخواہ کی عدم ادائیگی، غیر قانونی کٹوتی، پے سلپ نہ دینا یا ملازمت کے قانون کی دیگر خلاف ورزیاں بھی موجود ہوں تو ملازم محکمہ محنت سے بھی شکایت کر سکتا ہے۔ تاہم ای پی ایف اور سوکسو کی ریکوری کے لیے بنیادی ذمہ داری متعلقہ اداروں یعنی ای پی ایف اور پیکرسو کی ہی ہوتی ہے۔
شکایت درج ہونے کے بعد متعلقہ ادارہ فراہم کردہ معلومات کا جائزہ لیتا ہے اور تحقیقات کرتا ہے کہ آیا آجر نے قانونی ذمہ داری پوری کی یا نہیں۔ اگر خلاف ورزی ثابت ہو جائے تو آجر کو بقایا کنٹری بیوشن، لیٹ چارجز، سود اور دیگر واجبات ادا کرنے کا حکم دیا جا سکتا ہے، جبکہ ضرورت پڑنے پر قانونی یا فوجداری کارروائی بھی کی جا سکتی ہے۔ ملازمین کو چاہیے کہ وہ تمام دستاویزات اور شکایت کا ریفرنس نمبر اپنے پاس محفوظ رکھیں۔

COMMENTS