ملائیشیا کی نیشنل اینٹی ڈرگز ایجنسی نے انکشاف کیا ہے کہ گزشتہ پانچ برسوں کے دوران کمرشل گاڑیوں سمیت مختلف ڈرائیوروں میں شابو اور کیٹم کے اس...
ملائیشیا کی نیشنل اینٹی ڈرگز ایجنسی نے انکشاف کیا ہے کہ گزشتہ پانچ برسوں کے دوران کمرشل گاڑیوں سمیت مختلف ڈرائیوروں میں شابو اور کیٹم کے استعمال کا رجحان نمایاں طور پر بڑھا ہے، جو اب سڑکوں کی حفاظت کے لیے ایک سنجیدہ مسئلہ بنتا جا رہا ہے۔
نیشنل اینٹی ڈرگز ایجنسی کے ڈائریکٹر جنرل داتوک رسلن جوسوہ نے بتایا کہ متعدد ڈرائیور طویل وقت تک گاڑی چلانے اور کام کے دوران خود کو بیدار اور متحرک رکھنے کے لیے شابو اور کیٹم کا استعمال کرتے ہیں۔ ان کے مطابق یہ تاثر عام پایا جاتا ہے کہ یہ نشہ آور اشیا جسمانی توانائی اور برداشت میں اضافہ کرتی ہیں، حالانکہ ان کے اثرات ختم ہونے کے بعد ڈرائیور اچانک بے ہوش ہو سکتے ہیں یا ان کی جسمانی اور ذہنی صلاحیت متاثر ہو سکتی ہے، جس سے حادثات کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
یہ بات بدھ کے روز ملک بھر میں کمرشل گاڑیوں کے ڈرائیوروں کے خلاف کیے گئے مشترکہ انسدادِ منشیات آپریشن کے بعد سامنے آئی۔ اس کارروائی کے دوران مجموعی طور پر 244 ڈرائیوروں کی اسکریننگ کی گئی، جن میں سے 22 افراد کی عمریں 21 سے 61 سال کے درمیان تھیں اور ان کے ٹیسٹ شابو، کیٹم یا گانجا کے استعمال کی وجہ سے مثبت آئے۔
یہ تقریباً 10 گھنٹے پر مشتمل آپریشن صبح 8 بجے شروع ہوا، جس میں روڈ ٹرانسپورٹ ڈپارٹمنٹ، نیشنل اینٹی ڈرگز ایجنسی، لینڈ پبلک ٹرانسپورٹ ایجنسی، پولیس اور وزارتِ سیاحت، فنون اور ثقافت سمیت کئی اداروں نے مشترکہ طور پر حصہ لیا۔
رسلن جوسوہ نے مزید بتایا کہ منشیات کے استعمال کا رجحان صرف نوجوانوں تک محدود نہیں بلکہ درمیانی عمر کے افراد میں بھی دیکھا جا رہا ہے۔ تاہم سب سے زیادہ شرح 19 سے 39 سال کے افراد میں ریکارڈ کی گئی، جو تقریباً 70 فیصد ہے۔
انہوں نے ایک اور تشویشناک پہلو کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ شابو، کیٹامین اور ایکسٹسی جیسی مصنوعی منشیات کی لت کی شرح اب تقریباً 80 فیصد تک پہنچ چکی ہے، جو ملک میں منشیات کے بڑھتے ہوئے استعمال کی عکاسی کرتی ہے۔
ادھر روڈ ٹرانسپورٹ ڈپارٹمنٹ (جے پی جے) کے ڈائریکٹر جنرل داتوک عیدی فاضلی رملی نے واضح کیا کہ منشیات کے استعمال میں ملوث ڈرائیوروں کے خلاف کسی قسم کی نرمی نہیں برتی جائے گی۔ ان کے مطابق ایسے ڈرائیوروں کے پی ایس وی یا جی ڈی ایل پیشہ ورانہ لائسنس تحقیقات کے لیے روک لیے جائیں گے جبکہ ان کے ڈرائیونگ لائسنس بھی معطل کیے جا سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ صرف ڈرائیور ہی نہیں بلکہ ٹرانسپورٹ کمپنیاں بھی اپنے ملازمین کی قانونی حیثیت اور منشیات سے پاک ہونے کی ذمہ دار ہوں گی۔ اگر کوئی کمپنی منشیات استعمال کرنے والے ڈرائیوروں کو ملازمت پر رکھتی ہے یا لائسنس کی شرائط پر عمل نہیں کرتی تو اس کے خلاف بھی کارروائی کی جا سکتی ہے، جس میں آپریٹر لائسنس کی معطلی شامل ہے۔
ماہرین کے مطابق شابو ایک طاقتور محرک ہے جو وقتی طور پر نیند اور تھکاوٹ کو کم کر دیتا ہے، جبکہ کیٹم بھی بعض افراد بیدار رہنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ تاہم دونوں اشیا فیصلہ کرنے کی صلاحیت، ردعمل کی رفتار اور گاڑی پر کنٹرول کو متاثر کر سکتی ہیں، جس سے سڑک پر موجود دیگر افراد کی جان کو بھی خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ ایسے مشترکہ آپریشنز کا مقصد صرف قانون نافذ کرنا نہیں بلکہ سڑکوں پر محفوظ ماحول کو یقینی بنانا اور ٹرانسپورٹ کے شعبے میں ذمہ داری کو فروغ دینا بھی ہے۔ اسی لیے متعلقہ ادارے آئندہ بھی نگرانی اور جانچ کے عمل کو جاری رکھیں گے۔

COMMENTS