ملائیشیا کی فیڈریشن آف ملائیشین مینوفیکچررز (ایف ایم ایم) نے حکومت کی جانب سے متعارف کرائے گئے غیر ملکی کارکنوں کے نئے مرکزی انتظامی نظام ک...
ملائیشیا کی فیڈریشن آف ملائیشین مینوفیکچررز (ایف ایم ایم) نے حکومت کی جانب سے متعارف کرائے گئے غیر ملکی کارکنوں کے نئے مرکزی انتظامی نظام کا خیرمقدم کرتے ہوئے وزارتِ انسانی وسائل پر زور دیا ہے کہ اس نظام کی منتقلی کا عمل مکمل طور پر ہموار، شفاف اور مؤثر بنایا جائے تاکہ صنعتوں کو کسی نئی رکاوٹ کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
ایف ایم ایم کے صدر جیکب لی چور کوک نے ایک بیان میں کہا کہ نئے نظام پر منتقلی کے دوران واضح آپریشنل رہنما اصول، درخواستوں کے بڑھتے ہوئے حجم کو سنبھالنے کے لیے مضبوط ڈیجیٹل انفراسٹرکچر اور صنعتی تنظیموں کے ساتھ مسلسل رابطہ انتہائی ضروری ہے۔ ان کے مطابق اگر ان پہلوؤں پر توجہ نہ دی گئی تو پرانے مسائل کی جگہ نئے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے غیر ملکی کارکنوں کے کوٹے کے تمام معاملات کو فارین ورکرز سینٹرلائزڈ منیجمنٹ سسٹم اور ای کوٹا پلیٹ فارم کے تحت یکجا کرنا ایک اہم اصلاح ہے، تاہم مستقبل میں ڈیجیٹل بھرتی کے نظام میں ہونے والی تمام بہتریاں اسی مرکزی پلیٹ فارم کو مضبوط بنانے پر مرکوز ہونی چاہئیں، نہ کہ نئے اور متوازی نظام متعارف کرانے پر۔
جیکب لی کے مطابق حکومت کو اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ملٹی ٹیئر لیوی کو بھی جلد نافذ کرنا چاہیے، جس کا مطالبہ ایف ایم ایم کافی عرصے سے کرتی آ رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس نظام سے موجودہ سخت انتظامی پابندیوں اور مختلف شعبوں کے لیے مقررہ تناسب کی جگہ ایک زیادہ لچکدار اور ضرورت پر مبنی طریقہ کار متعارف کرایا جا سکتا ہے۔
انہوں نے وضاحت کی کہ ایم ٹی ایل ایم کے تحت کمپنیوں کو ان کی حقیقی افرادی قوت کی ضرورت کے مطابق غیر ملکی کارکن رکھنے کی اجازت دی جا سکتی ہے، جبکہ مختلف سطحوں پر لیوی کی شرح مقرر کر کے صنعتوں کو آٹومیشن کی طرف راغب کیا جا سکتا ہے اور وقت کے ساتھ غیر ملکی افرادی قوت پر انحصار کم کیا جا سکتا ہے۔
ایف ایم ایم کی تجویز کے مطابق وہ کمپنیاں جن کے مجموعی ملازمین میں غیر ملکی کارکنوں کا تناسب 10 سے 15 فیصد تک ہو، انہیں ترجیحی بنیادوں پر کم لیوی دی جا سکتی ہے، جو موجودہ 1850 رنگٹ کی شرح سے بھی کم ہو سکتی ہے۔ اس کے برعکس، جن کمپنیوں میں غیر ملکی کارکنوں پر زیادہ انحصار ہو، ان کے لیے شفاف فارمولے کے تحت بتدریج زیادہ لیوی مقرر کی جا سکتی ہے، بشرطیکہ اس بارے میں صنعتوں کو پہلے سے مناسب اطلاع دی جائے۔
جیکب لی نے مزید کہا کہ ہر صنعت کی ضروریات ایک جیسی نہیں ہوتیں، اس لیے لیبر اصلاحات کو تمام شعبوں پر یکساں انداز میں نافذ نہیں کیا جا سکتا۔ خاص طور پر برآمدات پر انحصار کرنے والی مینوفیکچرنگ صنعتوں میں نیم ہنر مند اور آپریشنل کارکن اب بھی انتہائی اہم کردار ادا کرتے ہیں، اس لیے ان صنعتوں کی عملی ضروریات کو مدنظر رکھنا ضروری ہے۔
ان کے مطابق ایم ٹی ایل ایم کو صرف غیر ملکی کارکنوں کی تعداد محدود کرنے کی پالیسی کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے بلکہ اسے صنعتی ترقی اور معاشی تبدیلی کے ایک مؤثر آلے کے طور پر استعمال کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے تجویز دی کہ لیوی سے حاصل ہونے والی آمدنی کو آٹومیشن، افرادی قوت کی تربیت، پیداواری صلاحیت میں اضافے اور خصوصاً چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار کی معاونت پر خرچ کیا جائے۔
یہ مطالبات ایسے وقت سامنے آئے ہیں جب یکم جولائی کو ملائیشین کابینہ نے غیر ملکی کارکنوں کے انتظام کے لیے قائم ون اسٹاپ سینٹر کو وزارتِ انسانی وسائل کے ماتحت منتقل کرنے کی منظوری دی، جبکہ یہ فیصلہ 6 جولائی سے باقاعدہ نافذ العمل ہو چکا ہے۔
نئے نظام کے تحت غیر ملکی کارکنوں کے تمام کوٹے کی درخواستیں صرف ایف ڈبلیو سی ایم ایس کے ای کوٹا ماڈیول کے ذریعے جمع کرائی جائیں گی، جبکہ پہلے رائج دستی یا کیس بائی کیس منظوری کے طریقہ کار کو مکمل طور پر ختم کر دیا گیا ہے۔
ایف ایم ایم نے اس اصلاح کو طویل عرصے سے زیرِ انتظار قدم قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے مختلف سرکاری اداروں کے درمیان بکھرے ہوئے منظوری کے عمل کو یکجا کیا جا سکے گا، جس سے درخواستوں پر کارروائی تیز، شفاف اور زیادہ مؤثر ہو گی۔
تنظیم نے اس عزم کا بھی اظہار کیا کہ وہ وزارتِ انسانی وسائل اور دیگر متعلقہ اداروں کے ساتھ مل کر کام جاری رکھے گی تاکہ نئے نظام کا نفاذ کامیاب بنایا جا سکے اور مینوفیکچرنگ شعبے کو درپیش عملی مسائل کا بروقت حل نکالا جا سکے۔

COMMENTS