ملائیشیا میں غیر ملکی کارکنوں کے انتظام کے لیے متعارف کرایا گیا فارن ورکر سینٹرلائزڈ مینجمنٹ سسٹم (ایف ڈبلیو سی ایم ایس) غیر ملکی کارکنوں ...
ملائیشیا میں غیر ملکی کارکنوں کے انتظام کے لیے متعارف کرایا گیا فارن ورکر سینٹرلائزڈ مینجمنٹ سسٹم (ایف ڈبلیو سی ایم ایس) غیر ملکی کارکنوں کے استحصال کو کم کرنے اور بھرتی کے عمل میں شفافیت بڑھانے میں مؤثر ثابت ہوا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس ڈیجیٹل نظام نے پہلے سے موجود دستی طریقہ کار کی جگہ لے کر انتظامی عمل کو زیادہ منظم بنایا ہے، جس سے غیر ضروری مداخلت اور بدعنوانی کے امکانات میں کمی آئی ہے۔
یونیورسٹی ٹیکنالوجی مارا (یو آئی ٹی ایم) سیلانگور کیمپس کے شعبہ معاشیات و مالیاتی مطالعات کی سینئر لیکچرر ڈاکٹر نورالعین احمد اطوری نے کہا کہ اگر ایف ڈبلیو سی ایم ایس متعارف نہ کرایا جاتا تو غیر ملکی کارکنوں سے متعلق سرگرم کارٹیل مزید مضبوط ہو سکتے تھے۔ ان کے مطابق ماضی میں مختلف محکموں میں الگ الگ دستی کارروائیوں کی وجہ سے بعض عناصر کے لیے نظام کا غلط استعمال کرنا نسبتاً آسان تھا، جبکہ مرکزی ڈیجیٹل پلیٹ فارم نے اس عمل کو بہتر بنایا ہے۔
ڈاکٹر نورالعین کے مطابق پرانے دستی نظام میں معلومات مختلف مقامات پر محفوظ کی جاتی تھیں، جس سے شفافیت برقرار رکھنا مشکل ہو جاتا تھا۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی ڈیجیٹل نظام کی بدولت درخواستوں کی پراسیسنگ زیادہ منظم ہوئی ہے، لین دین کے اخراجات کم کرنے کی صلاحیت پیدا ہوئی ہے اور ہر مرحلے کا باقاعدہ ڈیجیٹل ریکارڈ اور آڈٹ ٹریل محفوظ رہتی ہے۔
انہوں نے وضاحت کی کہ ادارہ جاتی معاشیات کے نقطۂ نظر سے ایسا نظام معلومات کے فرق کو کم کرنے میں مدد دیتا ہے۔ جب تمام معلومات ایک مربوط پلیٹ فارم پر دستیاب ہوں تو غیر ضروری درمیانی کردار، اختیارات کے غلط استعمال اور غیر شفاف طریقہ کار کے امکانات بھی محدود ہو جاتے ہیں۔
یہ بیان ایک حالیہ رپورٹ کے بعد سامنے آیا جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ غیر ملکی کارکنوں سے متعلق بعض کارٹیل اب بھی سرگرم ہیں اور وہ وقت کے ساتھ اپنے طریقہ کار میں تبدیلی لا کر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارروائیوں سے بچنے کی کوشش کرتے ہیں۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ ان مبینہ نیٹ ورکس کے ذریعے بعض عناصر نے لاکھوں رنگٹ منافع حاصل کیا۔
اس سے قبل ملائیشیا مائیکرو ٹریڈرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین تان پینگ بینگ نے بھی خبردار کیا تھا کہ ایف ڈبلیو سی ایم ایس کو سیاسی تنازع کا حصہ بنانا مناسب نہیں ہوگا۔ ان کے مطابق اس نظام نے غیر ملکی کارکنوں کی بھرتی کے عمل میں گورننس، شفافیت اور انتظامی کارکردگی کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر اس نظام کو مؤثر انداز میں جاری نہ رکھا گیا تو غیر ملکی کارکنوں کے انتظام میں حاصل ہونے والی بہت سی اصلاحات متاثر ہو سکتی ہیں۔ ان کے مطابق ایک مرکزی ڈیجیٹل پلیٹ فارم بھرتی کے عمل کو زیادہ منظم بناتا ہے اور مختلف مراحل کو ایک ہی نظام کے تحت لاتا ہے۔
ڈاکٹر نورالعین نے مزید کہا کہ کسی بھی ڈیجیٹل نظام کی کامیابی کا اندازہ صرف اس کی موجودگی سے نہیں لگایا جا سکتا بلکہ اس کے عملی نتائج کو بھی دیکھنا ضروری ہے۔ ان کے مطابق اس مقصد کے لیے واضح اشاریے مقرر کیے جانے چاہییں، جن کی بنیاد پر نظام کی کارکردگی کا جائزہ لیا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ ان اشاریوں میں غیر ملکی کارکنوں کی بھرتی پر آنے والی لاگت میں کمی، درخواستوں کی منظوری کے دورانیے میں بہتری، آجروں کی قوانین پر عمل درآمد کی شرح، دھوکہ دہی کے واقعات میں کمی اور حکومتی آمدنی میں اضافہ شامل ہونا چاہیے۔
ان کے مطابق اگر یہ اہداف مسلسل حاصل ہوتے رہیں تو ایف ڈبلیو سی ایم ایس نہ صرف انتظامی اور معاشی کارکردگی کو بہتر بنائے گا بلکہ سرمایہ کاروں کا اعتماد بھی مضبوط کرے گا۔ ایک شفاف اور جوابدہ نظام کاروباری ماحول کو زیادہ مستحکم بنانے میں بھی مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔
ملائیشیا میں غیر ملکی کارکن مختلف شعبوں، خصوصاً تعمیرات، مینوفیکچرنگ، خدمات اور زراعت میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ اسی وجہ سے ان کی بھرتی اور انتظام کے لیے ایک منظم، شفاف اور قابلِ نگرانی نظام کو معیشت اور لیبر مارکیٹ دونوں کے لیے اہم سمجھا جاتا ہے۔ حکومت اور متعلقہ ادارے وقتاً فوقتاً ایسے اقدامات پر زور دیتے رہے ہیں جن کے ذریعے بھرتی کے عمل کو زیادہ مؤثر اور قانون کے مطابق بنایا جا سکے۔

COMMENTS