ملائیشیا میں ایک دکان کے مالک کی سوشل میڈیا پوسٹ کے بعد غیر ملکی کارکنوں کی تنخواہوں، ملازمت کے مواقع اور امیگریشن قوانین پر نئی بحث شروع ہ...
ملائیشیا میں ایک دکان کے مالک کی سوشل میڈیا پوسٹ کے بعد غیر ملکی کارکنوں کی تنخواہوں، ملازمت کے مواقع اور امیگریشن قوانین پر نئی بحث شروع ہوگئی ہے۔ پوسٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ ایک غیر ملکی شہری، جس کے پاس ورک پرمٹ موجود نہیں تھا، نے روزانہ 90 رنگٹ اجرت اور دیگر مراعات کے ساتھ ملازمت کا مطالبہ کیا، جس پر سوشل میڈیا صارفین نے مختلف آراء کا اظہار کیا۔
یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا جب ایک دکان کے مالک نے تھریڈز پر اپنی ملاقات کی تفصیلات شیئر کیں۔ پوسٹ کے مطابق ایک غیر ملکی شہری پاسپورٹ کے ساتھ ملازمت کی تلاش میں دکان پر آیا، تاہم اس کے پاس قانونی ورک پرمٹ موجود نہیں تھا۔
پوسٹ میں بتایا گیا کہ درخواست گزار نے روزانہ 90 رنگٹ اجرت کا مطالبہ کیا، جو ماہانہ تقریباً 2700 رنگٹ بنتی ہے۔ اس کے علاوہ اس نے دیگر الاؤنسز کی بھی خواہش ظاہر کی۔ دکان کے مالک کے مطابق زبان کی دشواری کے باوجود اس نے امیدوار سے بات چیت جاری رکھی، لیکن آخرکار ملازمت دینے سے انکار کر دیا۔
دکان کے مالک نے دعویٰ کیا کہ ملازمت نہ ملنے پر درخواست گزار ناراض ہو گیا۔ بعد ازاں اس نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ روزانہ 90 رنگٹ کے حساب سے ماہانہ تنخواہ 2700 رنگٹ بنتی ہے، اور اس صورتحال پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ "ملائیشیا کو اس مسئلے پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔"
یہ پوسٹ مختصر وقت میں وائرل ہوگئی اور اس پر سینکڑوں صارفین نے تبصرے کیے۔ متعدد افراد نے اپنی ذاتی تجربات بھی بیان کیے۔ بعض صارفین کا کہنا تھا کہ انہیں بھی ایسے غیر ملکی ملازمین کی جانب سے روزانہ 150 رنگٹ تک اجرت کی درخواست موصول ہو چکی ہے، جبکہ کچھ افراد نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ بعض درخواست گزار کھانے اور رہائش کی سہولت بھی چاہتے ہیں۔
کئی صارفین نے اس بات پر زور دیا کہ مقامی ملازمتوں میں پہلے ملائیشین شہریوں کو ترجیح دی جانی چاہیے۔ بعض نے کہا کہ اگر ایسے مطالبات قبول کیے جائیں تو مستقبل میں مزید افراد بھی اسی نوعیت کی شرائط پیش کر سکتے ہیں۔
کچھ تبصروں میں غیر قانونی طور پر کام کرنے والے افراد کے خلاف امیگریشن حکام کو اطلاع دینے کی تجویز بھی دی گئی۔ بعض صارفین کا مؤقف تھا کہ بغیر ورک پرمٹ کام کرنے والے افراد کو ملازمت دینا قانون کی خلاف ورزی ہے، اس لیے اس معاملے میں متعلقہ اداروں کو کارروائی کرنی چاہیے۔
دوسری جانب چند صارفین نے اس مسئلے کو وسیع تناظر میں دیکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔ ان کے مطابق اگر بعض آجر غیر قانونی یا غیر دستاویزی غیر ملکی کارکنوں کو ملازمت دیتے ہیں تو اس سے مزدوری کے نظام میں مسائل پیدا ہوتے ہیں، جو بعد میں اجرت، ملازمت کی شرائط اور افرادی قوت کے حوالے سے اختلافات کا سبب بن سکتے ہیں۔
ملائیشیا میں غیر ملکی کارکنوں کی بھرتی اور قانونی حیثیت گزشتہ کچھ عرصے سے حکومتی توجہ کا مرکز رہی ہے۔ حکومت پہلے ہی غیر ملکی کارکنوں کے انتظامی نظام میں اصلاحات، قانونی ورک پرمٹ کے نفاذ اور مقامی افرادی قوت کو زیادہ مواقع فراہم کرنے کے لیے مختلف اقدامات کا اعلان کر چکی ہے۔ اسی تناظر میں غیر قانونی ملازمت، اجرت کے تعین اور امیگریشن قوانین پر عوامی بحث بھی مسلسل جاری ہے۔
یہ واقعہ کسی سرکاری پالیسی یا قانونی فیصلے سے متعلق نہیں بلکہ ایک سوشل میڈیا پوسٹ اور اس پر عوامی ردعمل پر مبنی ہے۔ تاہم اس نے غیر ملکی کارکنوں کی بھرتی، تنخواہوں کی توقعات، مقامی روزگار اور قانون پر عمل درآمد جیسے اہم موضوعات کو دوبارہ عوامی بحث کا حصہ بنا دیا ہے۔

COMMENTS