ملائیشیا جنوبی ایشیا کے ان ممالک میں شمار ہوتا ہے جہاں غیر ملکی ہنر مند افراد کے لیے روزگار کے متعدد مواقع موجود ہیں۔ کم بے روزگاری، تیزی س...
ملائیشیا جنوبی ایشیا کے ان ممالک میں شمار ہوتا ہے جہاں غیر ملکی ہنر مند افراد کے لیے روزگار کے متعدد مواقع موجود ہیں۔ کم بے روزگاری، تیزی سے ترقی کرتی ڈیجیٹل معیشت، مضبوط مینوفیکچرنگ سیکٹر اور کاروباری ماحول کی وجہ سے ہر سال مختلف ممالک سے ہزاروں افراد یہاں ملازمت اور بہتر مستقبل کی تلاش میں آتے ہیں۔ خاص طور پر آئی ٹی، فنانس، سیمی کنڈکٹر مینوفیکچرنگ، آئل اینڈ گیس اور شیئرڈ سروسز کے شعبوں میں غیر ملکی ماہرین کی طلب برقرار ہے۔
سال 2026 میں ملائیشیا نے اپنے ایمپلائمنٹ پاس نظام میں اہم تبدیلیاں نافذ کیں، جن کا اطلاق یکم جون 2026 سے کیا گیا۔ ان تبدیلیوں کے تحت مختلف کیٹیگریز کے لیے کم از کم تنخواہ کی حد میں اضافہ کیا گیا جبکہ پہلی مرتبہ کیٹیگری 3 کے ملازمین کو بھی اپنے اہل خانہ کو ساتھ لانے کی اجازت دی گئی۔ حکومت کا مقصد ہنر مند افرادی قوت کو راغب کرنا اور مقامی افرادی قوت کی ترقی کے ساتھ توازن برقرار رکھنا ہے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 2026 میں ملائیشیا کی آبادی تقریباً 3 کروڑ 44 لاکھ ہے۔ ملک کا دارالحکومت کوالالمپور ہے جبکہ پوتراجایا انتظامی دارالحکومت کی حیثیت رکھتا ہے۔ قومی زبان بہاسا ملائشیا ہے، تاہم کاروبار، تعلیم اور سرکاری اداروں میں انگریزی بھی وسیع پیمانے پر استعمال ہوتی ہے۔ ملک کی کرنسی ملائیشین رنگٹ (آر ایم) ہے اور بے روزگاری کی شرح تقریباً 2.9 سے 3 فیصد کے درمیان رہنے کی وجہ سے اسے جنوب مشرقی ایشیا کی مضبوط معیشتوں میں شمار کیا جاتا ہے۔
ملائیشیا میں غیر ملکیوں کے لیے سب سے عام راستہ ایمپلائمنٹ پاس ہے، جو کمپنی کی جانب سے اسپانسر کیا جاتا ہے۔ اس کے لیے سب سے پہلے ملائیشیا میں رجسٹرڈ کمپنی سے ملازمت کی پیشکش حاصل کرنا ضروری ہوتی ہے۔ اس کے بعد آجر ایکسپیٹری ایٹ سروسز ڈیویژن (ای ایس ڈی) یا مائی ایکسپیٹ سینٹر کے ذریعے ورک پاس کی درخواست جمع کراتا ہے۔ بعض کیٹیگریز میں لوکل سکسیشن پلان بھی لازمی قرار دیا گیا ہے۔ طبی معائنہ، نجی ہیلتھ انشورنس اور ضرورت پڑنے پر سنگل انٹری ویزا حاصل کرنے کے بعد ملازم ملائیشیا جا سکتا ہے۔
نئے قواعد کے مطابق ایمپلائمنٹ پاس کی تین کیٹیگریز متعارف ہیں۔ کیٹیگری 1 کے لیے ماہانہ کم از کم تنخواہ 20 ہزار رنگٹ یا اس سے زیادہ مقرر کی گئی ہے، جبکہ کیٹیگری 2 کے لیے یہ حد 10 ہزار سے 19 ہزار 999 رنگٹ ہے۔ کیٹیگری 3 کے لیے کم از کم تنخواہ 5 ہزار سے 9 ہزار 999 رنگٹ ہے، تاہم مینوفیکچرنگ کے بعض شعبوں میں کم از کم تنخواہ 7 ہزار رنگٹ رکھی گئی ہے۔ کیٹیگری 1 اور 2 کے ملازمین زیادہ سے زیادہ 10 سال جبکہ کیٹیگری 3 کے ملازمین 5 سال تک ایمپلائمنٹ پاس پر کام کر سکتے ہیں۔
جو افراد طویل مدت تک ملائیشیا میں رہنا چاہتے ہیں، ان کے لیے ریزیڈنس پاس-ٹیلنٹ (آر پی-ٹی) اور ملائشیا مائی سیکنڈ ہوم (ایم ایم 2 ایچ) جیسے پروگرام بھی موجود ہیں۔ تاہم مستقل رہائش حاصل کرنا اب بھی ایک محدود اور صوابدیدی عمل ہے، جس کی کوئی مقررہ مدت یا ضمانت موجود نہیں۔ اسی طرح شہریت حاصل کرنے کے لیے مستقل رہائش کے بعد طویل قیام اور بہاسا ملائشیا زبان سمیت دیگر شرائط پوری کرنا ضروری ہوتا ہے۔
روزگار کے اعتبار سے کوالالمپور، سائبرجایا، پینانگ، جوہر بہرو اور پیٹالنگ جایا غیر ملکیوں کے لیے اہم شہر سمجھے جاتے ہیں۔ کوالالمپور میں آئی ٹی، بینکاری اور ملٹی نیشنل کمپنیوں کے دفاتر موجود ہیں، جبکہ سائبرجایا ڈیجیٹل معیشت اور شیئرڈ سروسز کا بڑا مرکز ہے۔ پینانگ سیمی کنڈکٹر اور الیکٹرانکس مینوفیکچرنگ کے لیے معروف ہے، جبکہ جوہر بہرو کو سنگاپور کے قریب ہونے کی وجہ سے صنعتی اور لاجسٹکس سرگرمیوں کا فائدہ حاصل ہے۔
رہائشی اخراجات شہر کے لحاظ سے مختلف ہوتے ہیں۔ کوالالمپور میں ایک بیڈروم اپارٹمنٹ کا ماہانہ کرایہ تقریباً 1,800 سے 3,000 رنگٹ کے درمیان ہے۔ یوٹیلٹی بلز پر 150 سے 300 رنگٹ، گروسری پر 400 سے 700 رنگٹ، پبلک ٹرانسپورٹ پر 200 سے 400 رنگٹ اور نجی ہیلتھ انشورنس پر تقریباً 150 سے 400 رنگٹ ماہانہ خرچ آ سکتا ہے۔ مجموعی طور پر ملائیشیا کا رہائشی خرچ سنگاپور، متحدہ عرب امارات اور برطانیہ کے مقابلے میں کم سمجھا جاتا ہے۔
ملازمتوں کے لحاظ سے آئی ٹی، گلوبل بزنس سروسز، سیمی کنڈکٹر مینوفیکچرنگ، آئل اینڈ گیس، فنانس، صحت اور تحقیق کے شعبوں میں طلب زیادہ ہے۔ ان شعبوں میں تجربہ اور مہارت کے مطابق سالانہ تنخواہیں تقریباً 84 ہزار سے 3 لاکھ رنگٹ یا اس سے بھی زیادہ ہو سکتی ہیں۔ کم رہائشی اخراجات کی وجہ سے بہت سے غیر ملکی پیشہ ور افراد سالانہ قابل ذکر بچت بھی کر لیتے ہیں، خاص طور پر اگر وہ کوالالمپور کے بجائے پینانگ یا جوہر بہرو جیسے شہروں میں رہائش اختیار کریں۔
ملائیشیا پہنچنے کے بعد نئے آنے والوں کو رہائش کا انتظام، نجی ہیلتھ انشورنس، بینک اکاؤنٹ کھلوانا، موبائل سم حاصل کرنا، بچوں کا اسکول میں داخلہ اور دیگر بنیادی امور مکمل کرنا ہوتے ہیں۔ عام طور پر بینک اکاؤنٹ کھولنے کے لیے ایمپلائمنٹ پاس اور ملازمت سے متعلق دستاویزات درکار ہوتی ہیں، جبکہ رہائش کے لیے اکثر دو سے تین ماہ کا سیکیورٹی ڈپازٹ طلب کیا جاتا ہے۔
اہل خانہ کے حوالے سے بھی 2026 میں اہم سہولت فراہم کی گئی ہے۔ اب کیٹیگری 3 ایمپلائمنٹ پاس رکھنے والے افراد بھی اپنی شریک حیات اور بچوں کے لیے ڈیپنڈنٹ پاس حاصل کر سکتے ہیں، جبکہ بعض صورتوں میں شریک حیات کو الگ منظوری کے بعد ملازمت کرنے کی بھی اجازت دی جا سکتی ہے۔ بچوں کو مقامی یا بین الاقوامی اسکولوں میں داخلہ دلوانے کی سہولت بھی موجود ہے۔

COMMENTS