ملائیشیا کے انسدادِ بدعنوانی ادارے (ایم اے سی سی) نے غیر ملکی کارکنوں سے متعلق مبینہ کرپشن نیٹ ورک کے خلاف جاری تحقیقات کے دوران تقریباً 2....
ملائیشیا کے انسدادِ بدعنوانی ادارے (ایم اے سی سی) نے غیر ملکی کارکنوں سے متعلق مبینہ کرپشن نیٹ ورک کے خلاف جاری تحقیقات کے دوران تقریباً 2.5 ملین رنگٹ مالیت کے لگژری اثاثے ضبط کر لیے ہیں، جبکہ 14 بینک اکاؤنٹس منجمد کیے گئے ہیں جن میں تقریباً 1.1 ملین رنگٹ موجود تھے۔ اس کارروائی کے دوران مجموعی طور پر 38 افراد کو گرفتار کیا گیا، جن میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار، سرکاری ملازمین اور غیر ملکی شہری شامل ہیں۔
ایم اے سی سی کے ذرائع کے مطابق یہ کارروائی گزشتہ بدھ کو پوتراجایا، سیلانگور، نیگری سمبیلان اور ملاکا میں کی گئی گرفتاریوں کے بعد سامنے آئی۔ گرفتار کیے گئے 38 افراد میں سے 33 ملزمان کو ریمانڈ پر لیا گیا تاکہ مزید تفتیش کی جا سکے۔
ابتدائی تحقیقات کے مطابق ملزمان پر امیگریشن سے متعلق مختلف قوانین کی خلاف ورزیوں میں ملوث ہونے کا شبہ ہے۔ ان پر الزام ہے کہ انہوں نے بعض غیر ملکی شہریوں کو درست سفری دستاویزات کے بغیر ملائیشیا میں قیام کی اجازت دی، جبکہ کچھ معاملات میں سوشل وزٹ پاس کو ملازمت کے لیے استعمال کرنے میں بھی سہولت فراہم کی گئی۔ یہ دونوں اقدامات ملائیشیا کے امیگریشن قوانین کی خلاف ورزی تصور کیے جاتے ہیں۔
تحقیقات کے دوران جن 14 بینک اکاؤنٹس کو منجمد کیا گیا، ان میں پانچ اکاؤنٹس کمپنیوں کے جبکہ نو اکاؤنٹس انفرادی افراد کے نام پر تھے۔ حکام ان اکاؤنٹس میں موجود مالی لین دین کا جائزہ لے رہے ہیں تاکہ مبینہ غیر قانونی سرگرمیوں سے ممکنہ تعلق کا تعین کیا جا سکے۔
ایم اے سی سی نے اس کیس میں بڑی مقدار میں نقد رقم اور قیمتی اشیا بھی ضبط کی ہیں۔ ضبط شدہ اثاثوں میں 393,150 رنگٹ نقد رقم، 18 ملین انڈونیشین روپیہ (تقریباً 4,050 رنگٹ)، 10 لگژری گاڑیاں اور تین موٹر سائیکلیں شامل ہیں، جن کی مجموعی مالیت تقریباً 1.8 ملین رنگٹ بتائی گئی ہے۔
اس کے علاوہ حکام نے ایک گرام وزن کے 14 سونے کے ٹکڑے، جن کی مالیت تقریباً 8,300 رنگٹ ہے، 80 زیورات جن کی مالیت تقریباً 118,500 رنگٹ ہے، تین قیمتی گھڑیاں جن کی قیمت تقریباً 42,200 رنگٹ ہے، ایک لگژری ہینڈ بیگ جس کی مالیت تقریباً 9,000 رنگٹ ہے، اور 17 موبائل فون جن کی مجموعی قیمت تقریباً 48,000 رنگٹ ہے، بھی اپنی تحویل میں لے لیے ہیں۔
ایم اے سی سی کے ذرائع کے مطابق اس معاملے میں اب تک نو الگ الگ تحقیقاتی فائلیں کھولی جا چکی ہیں۔ ہر فائل میں مختلف افراد، مالی لین دین اور مبینہ خلاف ورزیوں کا الگ الگ جائزہ لیا جا رہا ہے تاکہ تمام پہلوؤں کی مکمل تحقیقات کی جا سکیں۔
اسی کیس سے متعلق ایک علیحدہ پیش رفت میں ایم اے سی سی نے گزشتہ روز پوتراجایا ہیڈکوارٹرز میں ایک اور قانون نافذ کرنے والے ادارے کے اہلکار کو بھی گرفتار کیا۔ تاہم ابتدائی کارروائی کے بعد اسے ضمانت پر رہا کر دیا گیا جبکہ تحقیقات جاری ہیں۔
ایم اے سی سی کے چیف کمشنر داتوک سری عبد حلیم امان نے رابطہ کیے جانے پر گرفتاریوں کی تصدیق کی۔ تاہم انہوں نے تحقیقات کے مفاد میں مزید تفصیلات جاری نہیں کیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ تفتیش مکمل ہونے کے بعد قانون کے مطابق مزید کارروائی کی جائے گی۔
یہ کارروائی ملائیشیا میں امیگریشن نظام سے متعلق مبینہ بدعنوانی اور غیر قانونی سرگرمیوں کے خلاف جاری وسیع تحقیقات کا حصہ ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ایسے نیٹ ورکس کے خلاف کارروائی کا مقصد امیگریشن قوانین پر مؤثر عمل درآمد، سرکاری نظام میں شفافیت برقرار رکھنا اور اختیارات کے ناجائز استعمال کی روک تھام کو یقینی بنانا ہے۔

COMMENTS