ملائیشیا کی ریاست صباح میں امیگریشن قوانین کی مختلف خلاف ورزیوں کے مقدمات میں عدالت نے 18 غیر قانونی تارکین وطن کو قید اور جرمانے کی سزائیں ...
ملائیشیا کی ریاست صباح میں امیگریشن قوانین کی مختلف خلاف ورزیوں کے مقدمات میں عدالت نے 18 غیر قانونی تارکین وطن کو قید اور جرمانے کی سزائیں سنائی ہیں۔ تمام ملزمان نے اپنے خلاف عائد الزامات کا اعتراف کیا، جس کے بعد عدالت نے امیگریشن ایکٹ 1959/63 کی متعلقہ دفعات کے تحت فیصلے جاری کیے۔
یہ فیصلہ کوٹا کنابالو کی سیشن عدالت میں سنایا گیا، جہاں جج حرمان حسین نے فلپائن، انڈونیشیا اور پاکستان سے تعلق رکھنے والے 18 ملزمان کے مقدمات کی سماعت کی۔ عدالت کے مطابق تمام افراد نے الگ الگ سماعتوں کے دوران اپنے جرائم کا اعتراف کیا، جس کے بعد انہیں قانون کے مطابق سزا دی گئی۔
عدالتی کارروائی کے مطابق 11 فلپائنی شہریوں اور ایک انڈونیشیائی شہری کو بغیر کسی قانونی سفری دستاویز یا درست پاس کے صباح میں داخل ہونے کا مجرم قرار دیتے ہوئے گرفتاری کی تاریخ سے چار ماہ قید کی سزا سنائی گئی۔ ان کے خلاف امیگریشن ایکٹ 1959/63 کی دفعہ 6(1)(سی) کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا، جس میں جرم ثابت ہونے پر پانچ سال تک قید، دس ہزار رنگٹ تک جرمانہ یا دونوں سزائیں دی جا سکتی ہیں۔
اسی مقدمے میں دو دیگر افراد پر دفعہ 15(1)(سی) کے تحت مقررہ مدت سے زیادہ عرصہ صباح میں قیام کرنے کا الزام ثابت ہوا۔ ان میں ایک پاکستانی شہری کو 10,000 رنگٹ جرمانہ عائد کیا گیا، جبکہ جرمانہ ادا نہ کرنے کی صورت میں اسے 12 ماہ قید بھگتنا ہوگی۔ دوسری جانب ایک فلپائنی خاتون کو اسی جرم پر 12 ماہ قید کی سزا سنائی گئی۔
عدالت نے مزید تین فلپائنی شہریوں کو بھی بغیر قانونی دستاویزات کے صباح میں داخل ہونے کے جرم میں چار ماہ قید کی سزا دی۔ تاہم تحقیقات سے یہ بھی ثابت ہوا کہ یہ افراد اس سے قبل ملائیشیا سے بے دخل کیے جا چکے تھے لیکن دوبارہ غیر قانونی طور پر ملک میں داخل ہوئے۔
اس سنگین خلاف ورزی پر عدالت نے ان تینوں افراد کو اضافی چھ ماہ قید اور ایک کوڑے (ایک مرتبہ عدالتی کوڑوں کی سزا) کا حکم بھی دیا۔ یہ سزا غیر قانونی طور پر دوبارہ ملائیشیا میں داخل ہونے کے جرم کی بنیاد پر سنائی گئی۔
ایک اور پاکستانی شہری نے بغیر درست سفری دستاویز کے صباح میں داخل ہونے اور اپنے جاری کردہ پاس کی شرائط کی خلاف ورزی کا اعتراف کیا۔ عدالت نے اسے مجموعی طور پر 4,500 رنگٹ جرمانہ ادا کرنے کا حکم دیا۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں یہ بھی ہدایت دی کہ تمام سزا یافتہ افراد کو قید مکمل کرنے یا جرمانہ ادا کرنے کے بعد مزید قانونی کارروائی کے لیے ملائیشین امیگریشن ڈیپارٹمنٹ کے حوالے کر دیا جائے۔ اس کے بعد متعلقہ امیگریشن قوانین کے مطابق ان کے خلاف مزید اقدامات، بشمول ملک بدری، کیے جا سکتے ہیں۔
استغاثہ کی جانب سے مقدمات کی پیروی محکمہ امیگریشن کے پراسیکیوشن آفیسر کامرول یوسف نے کی۔ حکام کے مطابق امیگریشن قوانین پر سختی سے عمل درآمد جاری رکھا جائے گا تاکہ غیر قانونی داخلے، زائد مدت قیام اور دیگر خلاف ورزیوں کی روک تھام ممکن بنائی جا سکے۔
ملائیشیا میں امیگریشن قوانین کے تحت بغیر قانونی اجازت کے ملک میں داخل ہونا، ویزا یا پاس کی مدت ختم ہونے کے باوجود قیام کرنا یا پہلے ملک بدر کیے جانے کے بعد دوبارہ غیر قانونی طور پر داخل ہونا قابل سزا جرائم ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ ان قوانین کا مقصد ملکی سرحدوں کی حفاظت، قومی سلامتی اور امیگریشن نظام کو مؤثر بنانا ہے۔

COMMENTS