کراچی میں ملائیشیا کے قونصل جنرل نے پاکستان میں زیرتعلیم ملائیشین طلبہ کے ساتھ ایک خصوصی ملاقات اور تعارفی پروگرام کا انعقاد کیا، جس کا مقص...
کراچی میں ملائیشیا کے قونصل جنرل نے پاکستان میں زیرتعلیم ملائیشین طلبہ کے ساتھ ایک خصوصی ملاقات اور تعارفی پروگرام کا انعقاد کیا، جس کا مقصد طلبہ اور قونصل خانے کے درمیان روابط کو مزید مضبوط بنانا، باہمی تعاون کو فروغ دینا اور بیرونِ ملک مقیم ملائیشین طلبہ کی حوصلہ افزائی کرنا تھا۔
یہ پروگرام 17 جولائی 2026 کو قونصل خانہ ملائیشیا، کراچی اور پرستوان پلاجر ملائشیا پاکستان (پی پی ایم پی) کے باہمی تعاون سے منعقد کیا گیا، جس میں خاص طور پر جامعہ بنوریہ العالمیہ میں زیرِ تعلیم ملائیشین طلبہ نے شرکت کی۔
پروگرام کا بنیادی مقصد پاکستان میں تعلیم حاصل کرنے والے ملائیشین طلبہ اور کراچی میں موجود ملائیشیا کے قونصل خانے کے درمیان تعلقات کو مزید مضبوط بنانا تھا۔ اس کے ساتھ ساتھ طلبہ کو عملی طور پر کسی سرکاری تقریب کے انتظام و انصرام کا تجربہ فراہم کرنا بھی اس پروگرام کا اہم حصہ تھا، جہاں انہیں قونصل خانے کی رہنمائی میں تقریب کے مختلف انتظامی امور میں حصہ لینے کا موقع ملا۔
تقریب کا آغاز تلاوتِ سورۃ یٰسین سے کیا گیا، جس کے بعد طلبہ کے نمائندے نے خطاب کیا۔ بعد ازاں کراچی میں ملائیشیا کے قونصل جنرل نے شرکاء سے گفتگو کرتے ہوئے نئے آنے والے طلبہ کا خیر مقدم کیا اور ان کے تعلیمی سفر کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔
اپنے خطاب میں قونصل جنرل نے طلبہ کو محنت، نظم و ضبط اور ذمہ داری کے ساتھ اپنی تعلیم جاری رکھنے کی تلقین کی۔ انہوں نے طلبہ کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے کہا کہ بیرونِ ملک تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ اپنے ملک کے نمائندے ہوتے ہیں، اس لیے انہیں اپنے کردار اور طرزِ عمل سے ملائیشیا کا مثبت تشخص اجاگر کرنا چاہیے۔
اس موقع پر قونصل جنرل نے یہ بھی بتایا کہ وہ جولائی 2026 کے اختتام پر کراچی میں اپنی سفارتی ذمہ داریاں مکمل کر کے اپنی مدتِ ملازمت ختم کر رہے ہیں۔ انہوں نے پاکستان میں اپنی تعیناتی کے دوران ملنے والے تعاون پر اظہارِ تشکر بھی کیا۔
تقریب کے دوران طلبہ کی خدمات اور تعاون کو سراہتے ہوئے انہیں تعریفی اسناد بھی پیش کی گئیں۔ ان اسناد کا مقصد طلبہ کی سرگرمیوں، تعاون اور قونصل خانے کے ساتھ ان کے مثبت کردار کو تسلیم کرنا تھا۔
اس کے بعد شرکاء کے لیے خصوصی ضیافت کا اہتمام کیا گیا، جس میں ملائیشیا کی ریاست کلانتن کے روایتی کھانے پیش کیے گئے۔ ان میں ناسی کِرابو، چاکلیٹ اسٹیمنگ کیک اور لوبیا کی میٹھی ڈش شامل تھیں۔ دلچسپ بات یہ تھی کہ یہ تمام روایتی کھانے خود ملائیشین طلبہ نے تیار کیے تھے، جس سے تقریب کو مزید ثقافتی رنگ ملا۔
پروگرام کے اختتام پر طلبہ، قونصل خانے کے عملے اور ان کے اہلِ خانہ کے درمیان دوستانہ ملاقات اور تبادلۂ خیال کا خصوصی سیشن بھی رکھا گیا۔ اس موقع پر شرکاء نے ایک دوسرے سے ملاقات کی، تجربات شیئر کیے اور بیرونِ ملک رہتے ہوئے باہمی تعاون کو مزید مضبوط بنانے پر زور دیا۔
منتظمین کے مطابق اس پروگرام نے نہ صرف قونصل خانے اور پاکستان میں مقیم ملائیشین طلبہ کے درمیان تعلقات کو مزید مستحکم کیا بلکہ بیرونِ ملک رہنے والے ملائیشین شہریوں میں اتحاد، باہمی تعاون اور قومی یکجہتی کے جذبے کو بھی فروغ دیا۔ ایسے پروگرام طلبہ کو ایک دوسرے کے قریب لانے کے ساتھ ساتھ انہیں اپنی قومی شناخت برقرار رکھنے اور سفارتی اداروں کے ساتھ رابطے مضبوط رکھنے کا بھی موقع فراہم کرتے ہیں۔
یہ پروگرام اس بات کی بھی عکاسی کرتا ہے کہ ملائیشیا کے سفارتی مشنز بیرونِ ملک مقیم اپنے طلبہ اور شہریوں سے مسلسل رابطہ برقرار رکھنے اور ان کی تعلیمی و سماجی سرگرمیوں کی حوصلہ افزائی کے لیے مختلف اقدامات کرتے رہتے ہیں۔

COMMENTS