ملائیشیا کے امیگریشن ڈیپارٹمنٹ نے کہا ہے کہ حالیہ برسوں میں ایسے غیر ملکیوں کے خلاف کارروائیوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے جو سوشل وزٹ پاس یا ٹو...
ملائیشیا کے امیگریشن ڈیپارٹمنٹ نے کہا ہے کہ حالیہ برسوں میں ایسے غیر ملکیوں کے خلاف کارروائیوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے جو سوشل وزٹ پاس یا ٹورسٹ پاس پر ملک میں داخل ہونے کے بعد غیر قانونی طور پر ملازمت یا دیگر معاشی سرگرمیوں میں ملوث پائے گئے۔ محکمہ کا کہنا ہے کہ امیگریشن قوانین کی خلاف ورزی کے خلاف کارروائیاں مزید سخت کی جا رہی ہیں اور قانون پر عمل درآمد میں کوئی نرمی نہیں برتی جائے گی۔
امیگریشن کے ڈائریکٹر جنرل داتوک زکریا شعبان کے مطابق، سال 2023 میں ایسے 1,279 افراد کو گرفتار کیا گیا تھا۔ یہ تعداد 2024 میں بڑھ کر 2,644 ہو گئی، جبکہ گزشتہ سال 2,630 گرفتاریاں ریکارڈ کی گئیں۔ رواں سال 15 جولائی تک ایسے 451 افراد کو حراست میں لیا جا چکا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ یہ افراد سوشل وزٹ پاس یا سیاحتی ویزے کے ذریعے ملائیشیا میں داخل ہوئے، لیکن بعد میں انہوں نے ان شرائط کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ملازمت اختیار کی یا معاشی سرگرمیوں میں حصہ لیا جن کی ان کے پاس موجود ویزا یا پاس کے تحت اجازت نہیں تھی۔
داتوک زکریا شعبان نے کہا کہ محکمہ ایسے تمام افراد کے خلاف کارروائی جاری رکھے گا جو امیگریشن قوانین یا دی گئی سہولتوں کا غلط استعمال کرتے ہیں۔ ان کے مطابق، امیگریشن قوانین کی خلاف ورزی پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
انہوں نے مزید بتایا کہ 15 جولائی تک ملک بھر میں 7,105 نفاذی آپریشنز کیے گئے، جن کے دوران مختلف امیگریشن جرائم میں ملوث 41,596 غیر ملکیوں کو حراست میں لیا گیا۔ یہ کارروائیاں حکومت کی جانب سے 2026 کو "ایئر آف انفورسمنٹ" قرار دینے کے بعد مزید تیز کی گئی ہیں، جس کا مقصد امیگریشن دستاویزات کے غلط استعمال اور متعلقہ قوانین کی خلاف ورزی روکنا ہے۔
محکمہ امیگریشن نے صرف غیر قانونی طور پر کام کرنے والے افراد ہی نہیں بلکہ ایسے آجروں کے خلاف بھی کارروائی کی ہے جو بغیر درست ورک پرمٹ یا قانونی دستاویزات کے غیر ملکی کارکنوں کو ملازمت دیتے ہیں۔ داتوک زکریا کے مطابق اب تک 1,127 آجروں کے خلاف کارروائی کی جا چکی ہے کیونکہ وہ غیر قانونی طور پر غیر ملکی کارکنوں کو ملازمت یا پناہ فراہم کر رہے تھے۔
انہوں نے کہا کہ یہ اعداد و شمار اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ امیگریشن قوانین پر عمل درآمد مزید سخت کیا جا رہا ہے اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی جاری رہے گی۔
اسی موقع پر مائگرینٹ ری پیٹری ایشن پروگرام 2.0 کے بارے میں بھی معلومات فراہم کی گئیں۔ داتوک زکریا نے بتایا کہ 15 جولائی تک 114 ممالک سے تعلق رکھنے والے 275,755 غیر ملکی اس پروگرام میں شامل ہو چکے ہیں، جس سے حکومت کو 137.76 ملین رنگٹ کی آمدنی حاصل ہوئی ہے۔
انہوں نے وضاحت کی کہ اس پروگرام کا مقصد غیر قانونی طور پر مقیم تارکین وطن کو رضاکارانہ طور پر اپنے آبائی ممالک واپس جانے کا موقع فراہم کرنا ہے، جس سے امیگریشن حراستی مراکز پر دباؤ بھی کم ہوتا ہے اور انتظامی عمل زیادہ مؤثر انداز میں جاری رکھا جا سکتا ہے۔
اس کے علاوہ محکمہ امیگریشن نے نئے طرز کے ملائشین انٹرنیشنل پاسپورٹ کے اجرا کے بارے میں بھی تازہ اعداد و شمار جاری کیے۔ داتوک زکریا کے مطابق یکم جولائی سے 17 جولائی کے درمیان 63,475 نئے پاسپورٹ جاری کیے جا چکے ہیں، جبکہ اس منصوبے کا تیسرا مرحلہ بھی شروع ہو چکا ہے اور ملک کے مختلف پاسپورٹ دفاتر میں نئے پاسپورٹ جاری کیے جا رہے ہیں۔
سوشل وزٹ پاس بنیادی طور پر سیاحت، اہل خانہ سے ملاقات، مختصر دوروں یا دیگر محدود مقاصد کے لیے جاری کیا جاتا ہے۔ اس پاس کے تحت عام طور پر ملازمت یا کاروباری سرگرمیوں کی اجازت نہیں ہوتی۔ اگر کوئی شخص ان شرائط کی خلاف ورزی کرتا ہے تو وہ امیگریشن قوانین کے تحت کارروائی کا سامنا کر سکتا ہے۔ اسی طرح ایسے آجر بھی قانون کی زد میں آ سکتے ہیں جو بغیر قانونی اجازت نامے کے غیر ملکیوں کو ملازمت فراہم کرتے ہیں۔

COMMENTS