ملائیشیا میں گزشتہ ایک دہائی کے دوران شرحِ پیدائش میں مسلسل کمی ریکارڈ کی جا رہی ہے، جس کے باعث ماہرین نے حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ نوجوان خ...
ملائیشیا میں گزشتہ ایک دہائی کے دوران شرحِ پیدائش میں مسلسل کمی ریکارڈ کی جا رہی ہے، جس کے باعث ماہرین نے حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ نوجوان خاندانوں، خصوصاً ملازمت پیشہ خواتین، کے لیے مؤثر معاونتی نظام کو مزید مضبوط بنائے۔ ماہرین کے مطابق اگر یہ رجحان برقرار رہا تو مستقبل میں ملک کو افرادی قوت، معاشی ترقی اور بڑھتی عمر کی آبادی جیسے کئی اہم چیلنجز کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ملائیشیا کو 2021 سے باضابطہ طور پر ایک "ایجنگ نیشن" قرار دیا جا چکا ہے، جبکہ اندازہ ہے کہ 2048 تک ملک "ایجڈ نیشن" کی سطح پر پہنچ جائے گا۔ اس وقت 65 سال یا اس سے زائد عمر کے افراد ملکی آبادی کا تقریباً 7 فیصد ہیں۔ اسی دوران محکمہ شماریات ملائیشیا کے مطابق شرحِ پیدائش 2015 میں 16.7 فی ایک ہزار آبادی سے کم ہو کر 2024 میں 12.2 فی ایک ہزار رہ گئی، جبکہ 2024 میں صرف 414,918 بچوں کی پیدائش ریکارڈ کی گئی، جو گزشتہ 44 برسوں کی کم ترین سالانہ تعداد ہے۔
رواں سال بھی یہی رجحان برقرار رہا۔ 2026 کی پہلی سہ ماہی میں 94,807 بچوں کی پیدائش ہوئی، جو گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں 3.1 فیصد کم ہے۔ محکمہ شماریات اس کمی کی وجوہات میں بدلتا ہوا طرزِ زندگی، بڑھتی ہوئی مہنگائی، شادیوں میں تاخیر اور مجموعی شرحِ افزائش میں کمی کو شامل کرتا ہے۔ اس وقت ملائیشیا کی شرحِ افزائش 1.6 ہے، جبکہ آبادی کے قدرتی استحکام کے لیے یہ شرح 2.1 ہونی چاہیے۔
یونیورسٹی سائنس ملائیشیا کی ڈاکٹر نک نورلیاتی فطری محمد نور کے مطابق بہت سی ملازمت پیشہ خواتین بچے کی پیدائش کے بعد ایک مشکل صورتحال کا سامنا کرتی ہیں۔ ان کے بقول نومولود بچے کی دیکھ بھال کے ساتھ ملازمت جاری رکھنا آسان نہیں ہوتا، جبکہ بڑھتی ہوئی مہنگائی کے باعث بہت سے خاندانوں کے لیے ایک ہی فرد کی آمدنی پر گزارہ کرنا بھی ممکن نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بعض جوڑے بچوں کی تعداد محدود رکھنے یا ان کے درمیان زیادہ وقفہ رکھنے کا فیصلہ کرتے ہیں تاکہ مالی ذمہ داریوں اور خاندانی ضروریات میں توازن برقرار رکھا جا سکے۔
انہوں نے اس بات کی بھی نشاندہی کی کہ زچگی کے بعد ذہنی صحت سے متعلق مسائل، جیسے ذہنی دباؤ، بے چینی یا پوسٹ پارٹم ڈیپریشن بھی کئی خواتین کو متاثر کرتے ہیں۔ ایسے مسائل نہ صرف خاندان کی فلاح و بہبود بلکہ خواتین کی ملازمت، کارکردگی اور دوبارہ کام پر واپسی کو بھی متاثر کر سکتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق اگر شرحِ پیدائش میں کمی کا موجودہ رجحان برقرار رہا تو اگلے 20 سے 30 سال میں ملائیشیا کی لیبر فورس میں نئے افراد کی تعداد نمایاں طور پر کم ہو سکتی ہے۔ اس سے مختلف صنعتوں میں افرادی قوت کی کمی پیدا ہونے کا خدشہ ہے، جبکہ معیشت کی ترقی کی رفتار بھی متاثر ہو سکتی ہے۔ اس کے علاوہ ملک کا انحصار غیر ملکی کارکنوں پر بڑھ سکتا ہے اور ریٹائرمنٹ، پنشن، صحت اور سماجی تحفظ کے نظام پر مالی دباؤ میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
اسی تناظر میں ڈاکٹر نک نورلیاتی نے حکومت کی جانب سے متعارف کرائے گئے بعد از زچگی چھٹی الاؤنس کو ایک اہم قدم قرار دیا۔ وزیرِ اعظم داتک سری انور ابراہیم نے مئی 2026 میں قومی یومِ مزدور کی تقریب کے دوران اس اسکیم کا اعلان کیا تھا۔ اس کے تحت وہ مائیں جو 98 دن کی مکمل تنخواہ کے ساتھ زچگی کی چھٹی کے بعد مزید 30 دن کی اضافی چھٹی لیں گی، انہیں سوشل سیکیورٹی آرگنائزیشن کے ذریعے ایک مرتبہ ان کی متوقع ماہانہ تنخواہ کا 80 فیصد بطور الاؤنس دیا جائے گا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ اقدام مثبت ہے، لیکن صرف مالی امداد کافی نہیں ہوگی۔ اس کے ساتھ معیاری اور کم لاگت بچوں کی نگہداشت کی سہولیات، لچکدار اوقاتِ کار، کام کی جگہ پر بریسٹ فیڈنگ کی سہولت، ملازمت کا تحفظ اور والدین دونوں کے لیے معاون پالیسیاں بھی ضروری ہیں۔ کئی ممالک، جیسے سویڈن، فرانس، جرمنی اور جنوبی کوریا، اسی قسم کے جامع خاندانی معاونتی نظام کے ذریعے خواتین کی ملازمت اور شرحِ پیدائش دونوں میں بہتری لانے کی کوشش کر چکے ہیں۔
ڈاکٹر نک نورلیاتی کے مطابق خاندانی معاونت کو صرف ایک سماجی مسئلہ نہیں بلکہ قومی ترقی کی حکمتِ عملی کا حصہ سمجھنا چاہیے، کیونکہ مستقبل میں آبادی، معیشت، صحت، سماجی تحفظ اور لیبر مارکیٹ سب پر اس کے اثرات مرتب ہوں گے۔

COMMENTS