پیتالنگ جایا: ملائیشیا کی وزارت صحت نے واضح کیا ہے کہ ملک میں نرسوں کی کمی پوری کرنے کے لیے غیر ملکی نرسوں کی بھرتی کا منصوبہ فی الحال فوری ...
پیتالنگ جایا: ملائیشیا کی وزارت صحت نے واضح کیا ہے کہ ملک میں نرسوں کی کمی پوری کرنے کے لیے غیر ملکی نرسوں کی بھرتی کا منصوبہ فی الحال فوری طور پر نافذ کرنا ممکن نہیں۔ وزارت کے مطابق اس عمل میں کئی پیچیدہ انتظامی، قانونی اور مالی معاملات شامل ہیں، جنہیں مکمل کرنے میں وقت درکار ہوگا۔
وزارت صحت کے سیکریٹری جنرل حسنول زم زم احمد نے ایک خصوصی صحت سے متعلق پوڈکاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ غیر ملکی نرسوں کی خدمات حاصل کرنے کے لیے صرف بھرتی کافی نہیں بلکہ مختلف ممالک کے درمیان سرکاری سطح پر تعاون بھی ضروری ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ نرسوں کی پیشہ ورانہ اسناد کی منظوری، رجسٹریشن اور دیگر قانونی تقاضے بھی پورے کرنا ہوتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اگر غیر ملکی نرسوں کو ملازمت پر رکھا جائے تو حکومت کو متعدد اضافی اخراجات بھی برداشت کرنا پڑ سکتے ہیں۔ ان اخراجات میں بھرتی کرنے والے ایجنٹس کی فیس، انتظامی اخراجات اور دیگر متعلقہ معاملات شامل ہیں، جیسا کہ غیر ملکی گھریلو ملازمین کی بھرتی کے دوران ہوتا ہے۔
حسنول زم زم احمد کے مطابق موجودہ صورتحال میں وزارت صحت کی ترجیح غیر ملکی نرسوں پر انحصار کرنے کے بجائے مقامی ہیلتھ کیئر افرادی قوت کو مضبوط بنانا ہے تاکہ سرکاری اسپتالوں اور صحت کے مراکز میں نرسوں کی کمی کو مقامی سطح پر پورا کیا جا سکے۔
اسی مقصد کے تحت وزارت صحت اپنے تربیتی اداروں کی استعداد کار میں اضافہ کر رہی ہے۔ اس منصوبے کے تحت ہر تربیتی بیچ میں نرسنگ طلبہ کی تعداد تقریباً 3 ہزار سے بڑھا کر 5 ہزار تک کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے آئندہ برسوں میں تربیت یافتہ نرسوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوگا اور صحت کے شعبے کو درپیش افرادی قوت کی کمی کم کرنے میں مدد ملے گی۔
وزارت صحت نے یہ بھی اعلان کیا کہ آئندہ سال سے نجی نرسنگ کالجوں کے ساتھ باقاعدہ تعاون کا آغاز کیا جائے گا تاکہ زیادہ تعداد میں تربیت یافتہ نرسیں تیار کی جا سکیں۔ اس شراکت داری کا مقصد سرکاری اور نجی شعبے کی صلاحیتوں کو یکجا کر کے صحت کے نظام کو مزید مضبوط بنانا ہے۔
اس کے علاوہ وزارت سابق اور ریٹائرڈ نرسوں کو دوبارہ خدمات انجام دینے کا موقع دینے پر بھی غور کر رہی ہے۔ حسنول زم زم احمد نے بتایا کہ بعض نرسیں ذاتی یا خاندانی وجوہات کی بنا پر قبل از وقت ریٹائرمنٹ اختیار کر لیتی ہیں، لیکن بعد میں دوبارہ ملازمت کرنا چاہتی ہیں۔ ایسی نرسوں کو ضرورت کے مطابق کنٹریکٹ کی بنیاد پر دوبارہ تعینات کیا جا سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس وقت یہی عملی اور فوری طور پر قابلِ عمل متبادل موجود ہیں، جبکہ غیر ملکی نرسوں کی بھرتی کے منصوبے پر مستقبل میں حالات اور ضروریات کے مطابق غور کیا جا سکتا ہے۔
ملائیشیا کا سرکاری صحت کا نظام گزشتہ چند برسوں سے نرسوں اور دیگر طبی عملے کی کمی کا سامنا کر رہا ہے۔ بڑھتی ہوئی آبادی، صحت کی سہولیات کی طلب میں اضافہ اور تجربہ کار عملے کی ریٹائرمنٹ جیسے عوامل نے اس مسئلے کو مزید نمایاں کیا ہے۔ اسی وجہ سے حکومت مختلف متبادل حکمت عملیوں پر کام کر رہی ہے تاکہ صحت کی خدمات کا معیار برقرار رکھا جا سکے۔
وزارت صحت کا مؤقف ہے کہ مقامی نرسوں کی تربیت، نجی تعلیمی اداروں کے ساتھ تعاون اور سابق نرسوں کی واپسی جیسے اقدامات طویل مدت میں زیادہ مؤثر اور پائیدار ثابت ہو سکتے ہیں۔ اسی لیے فی الحال وزارت کی تمام توجہ ملکی افرادی قوت کو مضبوط بنانے پر مرکوز ہے۔

COMMENTS