ملائیشیا میں عام تاثر یہ ہے کہ معاشی دباؤ یا کاروباری مشکلات کے دوران سب سے پہلے کم مہارت رکھنے والے ملازمین اپنی نوکریوں سے محروم ہوتے ہیں...
ملائیشیا میں عام تاثر یہ ہے کہ معاشی دباؤ یا کاروباری مشکلات کے دوران سب سے پہلے کم مہارت رکھنے والے ملازمین اپنی نوکریوں سے محروم ہوتے ہیں، لیکن ایک نئی تحقیق نے اس تصور کے برعکس نتائج پیش کیے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق گزشتہ چند برسوں میں سب سے زیادہ ملازمتیں اعلیٰ مہارت رکھنے والے ملازمین نے کھوئی ہیں۔
یہ انکشاف مے انویسٹمنٹ بینک کی تحقیق میں سامنے آیا، جس کا حوالہ مقامی میڈیا نے دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق 2021 سے 2025 کے درمیان نوکری سے فارغ کیے گئے ملازمین میں آدھے سے زیادہ افراد اعلیٰ مہارت رکھنے والے تھے۔ یہی رجحان 2026 کے پہلے پانچ ماہ کے دوران بھی برقرار رہا۔
تحقیق کے مطابق اس گروپ میں منیجرز، پروفیشنلز، ٹیکنیشنز اور ایسوسی ایٹ پروفیشنلز شامل ہیں۔ یہ وہ ملازمین ہیں جو عموماً اداروں میں تجربہ کار، تکنیکی یا انتظامی ذمہ داریاں انجام دیتے ہیں۔
رپورٹ میں وضاحت کی گئی ہے کہ اس رجحان کا مطلب یہ ضروری نہیں کہ کمپنیاں جان بوجھ کر زیادہ ہنر مند ملازمین کو نشانہ بنا رہی ہیں۔ تحقیق کے مطابق ان میں سے بڑی تعداد نے ممکنہ طور پر رضاکارانہ علیحدگی اسکیم یا قبل از وقت ریٹائرمنٹ پیکجز کے تحت اداروں سے علیحدگی اختیار کی۔
یہ اسکیمیں عام طور پر سینئر اور تجربہ کار ملازمین کے لیے پیش کی جاتی ہیں، اسی وجہ سے اعلیٰ مہارت رکھنے والے ملازمین کی تعداد نوکری سے علیحدہ ہونے والوں میں زیادہ نظر آتی ہے۔
ملائیشیا کے محکمہ شماریات کی پیشہ ورانہ درجہ بندی کے مطابق اعلیٰ مہارت رکھنے والے کارکنوں میں منیجرز، پروفیشنلز، ٹیکنیشنز اور ایسوسی ایٹ پروفیشنلز شامل ہوتے ہیں۔ اس کے برعکس نیم ہنر مند ملازمین میں دفتری عملہ، سیلز اور سروس ورکرز، زرعی شعبے کے ہنر مند کارکن، کاریگر اور مشین آپریٹرز شامل ہیں، جبکہ کم مہارت والے کارکن "ایلیمنٹری آکیوپیشنز" کے زمرے میں آتے ہیں۔
تحقیق میں سوشل سیکیورٹی آرگنائزیشن کے اعداد و شمار کا بھی حوالہ دیا گیا ہے۔ ان کے مطابق جنوری سے مئی 2026 کے دوران تقریباً 39 ہزار ملازمین اپنی ملازمتوں سے محروم ہوئے، جو گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں 36 فیصد زیادہ ہیں۔
رپورٹ کے مطابق سب سے زیادہ ملازمتیں مینوفیکچرنگ اور سروسز کے شعبوں میں ختم ہوئیں۔ متعدد کمپنیوں نے اس کی وجوہات میں کاروبار کا سکڑنا، تنظیمی تبدیلیاں اور بعض اداروں کی بندش کو ذمہ دار قرار دیا۔
اگرچہ ملازمتوں میں کمی دیکھی گئی، لیکن تحقیق کے مطابق ملائیشیا کی مجموعی لیبر مارکیٹ اب بھی مضبوط تصور کی جاتی ہے۔ ملک میں معیشت کی بحالی اور مسلسل اقتصادی سرگرمیوں کے باعث بے روزگار ہونے والے بہت سے افراد دوبارہ ملازمت حاصل کرنے میں کامیاب ہو رہے ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق جنوری سے مئی 2026 کے دوران ہر ایک ملازم کے نوکری سے محروم ہونے کے مقابلے میں تقریباً 1.5 افراد کو نئی ملازمت ملی۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ لیبر مارکیٹ میں روزگار کے مواقع اب بھی موجود ہیں اور متاثرہ کارکن دوبارہ روزگار حاصل کر رہے ہیں۔
تحقیق میں یہ بھی بتایا گیا کہ فری لانسنگ، گیگ اکانومی اور چھوٹے کاروبار بھی ایسے افراد کو روزگار فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں جو اپنی سابقہ ملازمت کھو چکے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ملازمتوں میں کمی کے باوجود ملکی روزگار کی مجموعی صورتحال نسبتاً مستحکم سمجھی جا رہی ہے۔
یہ رپورٹ اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ موجودہ معاشی حالات میں صرف کم مہارت رکھنے والے کارکن ہی نہیں بلکہ تجربہ کار اور اعلیٰ مہارت رکھنے والے ملازمین بھی تنظیمی تبدیلیوں اور کاروباری فیصلوں سے متاثر ہو سکتے ہیں۔ تاہم ساتھ ہی تحقیق یہ بھی ظاہر کرتی ہے کہ ملائیشیا کی لیبر مارکیٹ میں نئے مواقع موجود ہیں، جس کی وجہ سے کئی متاثرہ ملازمین دوبارہ روزگار حاصل کرنے میں کامیاب ہو رہے ہیں۔

COMMENTS