ملائیشیا کے دارالحکومت کوالالمپور میں امیگریشن ڈیپارٹمنٹ (جے آئی ایم) نے ایک کمرشل عمارت پر کارروائی کرتے ہوئے 109 غیر ملکی تعمیراتی کارکنو...
ملائیشیا کے دارالحکومت کوالالمپور میں امیگریشن ڈیپارٹمنٹ (جے آئی ایم) نے ایک کمرشل عمارت پر کارروائی کرتے ہوئے 109 غیر ملکی تعمیراتی کارکنوں کو حراست میں لے لیا۔ کارروائی کے دوران یہ بھی انکشاف ہوا کہ عمارت کے متعدد یونٹس کو ایک خصوصی تفریحی کلب میں تبدیل کرنے کی تیاری کی جا رہی تھی۔
امیگریشن ڈیپارٹمنٹ کے ڈائریکٹر جنرل داتوک ذکریا شعبان نے بتایا کہ یہ آپریشن گزشتہ روز صبح 11:45 بجے جالان امپانگ میں واقع ایک کمرشل عمارت پر کیا گیا۔ یہ کارروائی عوامی شکایات موصول ہونے کے بعد تقریباً تین ہفتوں تک جاری رہنے والی انٹیلی جنس اور نگرانی کے نتیجے میں کی گئی۔ شکایات میں خاص طور پر اس علاقے میں غیر ملکی شہریوں، بالخصوص چینی باشندوں، کی بڑھتی ہوئی موجودگی کی نشاندہی کی گئی تھی۔
انہوں نے بتایا کہ آپریشن میں امیگریشن ڈیپارٹمنٹ کے 58 افسران نے حصہ لیا، جنہوں نے عمارت کے ٹاور 1 کی 18ویں منزل اور ٹاور 3 کی 24ویں منزل پر کارروائی کرتے ہوئے مجموعی طور پر 120 افراد کی جانچ پڑتال کی۔
ابتدائی تحقیقات کے مطابق کارروائی کے وقت غیر ملکی شہری مختلف یونٹس میں تزئین و آرائش اور تعمیراتی کام میں مصروف تھے۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ یونٹس ایک خصوصی تفریحی کلب کے طور پر تیار کیے جا رہے تھے۔ عمارت کے اندر کئی تہوں پر مشتمل سیکیورٹی سسٹم نصب کیا جا رہا تھا جبکہ داخلی راستوں پر سخت نگرانی اور محدود رسائی کا انتظام بھی کیا گیا تھا تاکہ حکام کی نظروں سے بچا جا سکے۔
ذکریا شعبان کے مطابق ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوا کہ گرفتار ہونے والے بیشتر افراد کے پاس سوشل وزٹ پاس موجود تھا، تاہم وہ اس ویزا کی شرائط کے برعکس ملازمت کر رہے تھے۔ بعض افراد پر ویزا کی مدت ختم ہونے کے باوجود ملک میں قیام کا شبہ بھی ہے، جبکہ کچھ افراد اپنے سفری یا شناختی دستاویزات پیش کرنے میں ناکام رہے۔
گرفتار کیے گئے افراد میں 78 چینی مرد شامل ہیں، جبکہ باقی 31 افراد بنگلہ دیش، میانمار اور بھارت سے تعلق رکھتے ہیں۔ تمام گرفتار شدگان کی عمریں 30 سے 43 سال کے درمیان بتائی گئی ہیں۔
امیگریشن ڈیپارٹمنٹ کے مطابق ان افراد کو امیگریشن ایکٹ 1959/63 اور امیگریشن ریگولیشنز 1963 کی مختلف دفعات کے تحت گرفتار کیا گیا ہے۔ بعد ازاں انہیں مزید قانونی کارروائی اور تفتیش کے لیے امیگریشن حراستی مرکز منتقل کر دیا گیا۔
کارروائی کے دوران ایک مقامی شہری کو بھی حراست میں لیا گیا، جس کے بارے میں شبہ ہے کہ وہ ان غیر ملکی کارکنوں کی نگرانی یا انتظامی امور کا ذمہ دار تھا۔ حکام اس کے کردار کی بھی تحقیقات کر رہے ہیں تاکہ معلوم کیا جا سکے کہ وہ اس سرگرمی میں کس حد تک ملوث تھا۔
اس کے علاوہ امیگریشن ڈیپارٹمنٹ نے عمارت کی جوائنٹ مینجمنٹ باڈی کے ایک سپروائزر کو بھی گواہ کے سمن (فارم 29) جاری کیے ہیں تاکہ وہ جاری تحقیقات میں تعاون کرے اور واقعے سے متعلق مزید معلومات فراہم کر سکے۔
ملائیشیا میں امیگریشن قوانین کے تحت غیر ملکی شہریوں کو صرف اسی مقصد کے لیے کام کرنے کی اجازت ہوتی ہے جس کے مطابق ان کا ویزا یا ورک پرمٹ جاری کیا گیا ہو۔ اگر کوئی شخص سوشل وزٹ پاس پر ملازمت کرتا ہے، ویزا کی مدت ختم ہونے کے بعد بھی ملک میں رہتا ہے یا درست سفری دستاویزات پیش نہیں کر پاتا تو اس کے خلاف قانونی کارروائی کی جا سکتی ہے۔ اسی لیے امیگریشن حکام وقتاً فوقتاً مختلف مقامات پر انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر کارروائیاں کرتے ہیں تاکہ امیگریشن قوانین پر عمل درآمد یقینی بنایا جا سکے۔

COMMENTS