ملائیشیا کے محکمہ امیگریشن (جے آئی ایم) نے کہا ہے کہ 15 جولائی 2026 تک ملک بھر میں غیر قانونی امیگریشن کے خلاف جاری کارروائیوں کے دوران 41,...
ملائیشیا کے محکمہ امیگریشن (جے آئی ایم) نے کہا ہے کہ 15 جولائی 2026 تک ملک بھر میں غیر قانونی امیگریشن کے خلاف جاری کارروائیوں کے دوران 41,596 غیر دستاویزی تارکین وطن کو گرفتار کیا گیا ہے۔ یہ گرفتاریاں مجموعی طور پر 7,105 نفاذی آپریشنز کے دوران عمل میں آئیں، جن میں 96,994 افراد کی جانچ پڑتال کی گئی۔
محکمہ امیگریشن کے ڈائریکٹر جنرل داتوک زکریا شعبان نے کہا کہ محکمہ غیر قانونی امیگریشن، انسانی اسمگلنگ اور تارکین وطن کی غیر قانونی منتقلی کے خلاف کارروائی مزید سخت کرے گا۔ ان کے مطابق کارروائیاں اینٹی ٹریفکنگ اِن پرسنز اینڈ اینٹی اسمگلنگ آف مائیگرنٹس ایکٹ 2007 اور اینٹی منی لانڈرنگ ایکٹ سمیت متعلقہ قوانین کے تحت جاری رہیں گی تاکہ امیگریشن ایکٹ 1959/63 پر مؤثر عمل درآمد یقینی بنایا جا سکے۔
زکریا شعبان نے کہا کہ غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث افراد کے خلاف قانون میں موجود تمام اختیارات استعمال کیے جائیں گے، خاص طور پر ایسے افراد کے خلاف جو ابھی تک قانون نافذ کرنے والے اداروں کی گرفت سے باہر ہیں۔
انہوں نے مزید کہا، "ہم کسی قسم کی رعایت کے بغیر سخت کارروائیاں جاری رکھیں گے۔ ہم نہیں چاہتے کہ امیگریشن سے متعلق جرائم اس ملک کے لیے ایک سنگین مسئلہ بن جائیں۔"
اسی سلسلے میں کیے گئے ایک مربوط آپریشن کے دوران امیگریشن حکام نے الیکٹرانک ویسٹ (ای ویسٹ) پراسیسنگ کرنے والی دو فیکٹریوں پر کارروائی کی۔ صبح 11 بجے شروع ہونے والے اس آپریشن میں محکمہ امیگریشن، محکمہ محنت اور محکمہ ماحولیات کے مجموعی طور پر 77 اہلکاروں نے حصہ لیا۔
کارروائی کے دوران 20 سے 45 سال کی عمر کے 58 غیر ملکی شہریوں کو حراست میں لیا گیا۔ محکمہ امیگریشن کے مطابق ان افراد کو اس لیے گرفتار کیا گیا کیونکہ وہ اپنی شناخت یا امیگریشن حیثیت ثابت کرنے کے لیے درست دستاویزات پیش نہیں کر سکے۔
زکریا شعبان نے بتایا کہ ابتدائی تحقیقات کے مطابق امکان ہے کہ ان کارکنوں کی امیگریشن دستاویزات ان کے آجر کے پاس موجود ہوں۔ انہوں نے کہا کہ پہلے متعلقہ افراد کو حراست میں لیا جائے گا، اس کے بعد آجر سے رابطہ کر کے ان کی امیگریشن حیثیت کی تصدیق کی جائے گی۔
انہوں نے یہ بھی انکشاف کیا کہ فیکٹریوں میں کلوز سرکٹ کیمرے (سی سی ٹی وی) نصب تھے، جنہیں مبینہ طور پر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے کے لیے استعمال کیا جا رہا تھا۔ ان کے مطابق جب چھاپے کی اطلاع ملتی تو بعض کارکن خود کو چھپا لیتے یا موقع سے فرار ہونے کی کوشش کرتے تھے۔
ڈائریکٹر جنرل نے کہا کہ اس قسم کا طریقۂ کار امیگریشن حکام کو مختلف کارروائیوں کے دوران پہلے بھی دیکھنے کو ملا ہے، جہاں نگرانی کے نظام کو چھاپوں سے قبل خبردار ہونے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔
ملائیشیا میں حالیہ مہینوں کے دوران غیر قانونی امیگریشن کے خلاف نفاذی کارروائیوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ ان کارروائیوں کا مقصد امیگریشن قوانین پر عمل درآمد کو مضبوط بنانا، غیر قانونی روزگار کی حوصلہ شکنی کرنا اور انسانی اسمگلنگ جیسے جرائم کی روک تھام کرنا ہے۔ اسی مقصد کے تحت مختلف سرکاری ادارے مشترکہ آپریشنز کے ذریعے نگرانی اور تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں۔

COMMENTS