ملائیشیا میں غیر ملکی کارکنوں کی بھرتی کے نظام سے متعلق ایک نیا معاملہ سامنے آیا ہے، جہاں ذرائع کے مطابق ایک مبینہ گروہ پر امیگریشن ڈیپارٹمن...
ملائیشیا میں غیر ملکی کارکنوں کی بھرتی کے نظام سے متعلق ایک نیا معاملہ سامنے آیا ہے، جہاں ذرائع کے مطابق ایک مبینہ گروہ پر امیگریشن ڈیپارٹمنٹ کے غیر ملکی کارکنوں کے کوٹہ سسٹم میں بے ضابطگیوں کا شبہ ظاہر کیا گیا ہے۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق اس مبینہ نیٹ ورک میں امیگریشن ڈیپارٹمنٹ کے بعض اندرونی اہلکاروں کے ساتھ ریسٹورنٹ مالکان کی ایک تنظیم سے وابستہ بعض ایجنٹس بھی شامل ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق اس معاملے کا سراغ اس وقت ملا جب امیگریشن ڈیپارٹمنٹ نے ملائیشین امیگریشن سسٹم (مائی آئی ایم ایم ایس) میں موجود ریکارڈ کا موازنہ فارن ورکر ڈویژن کی جانب سے ریسٹورنٹ آپریٹرز کو جاری کیے گئے اصل دستاویزات سے کیا۔ اس جانچ کے دوران دونوں ریکارڈز میں نمایاں فرق سامنے آیا، جس کے بعد مزید تحقیقات کا آغاز کیا گیا۔
تحقیقات کے ابتدائی مرحلے میں معلوم ہوا کہ مائی آئی ایم ایم ایس میں موجود غیر ملکی کارکنوں کی اصل حیثیت اور جاری کردہ سرکاری دستاویزات کے درمیان واضح تضاد موجود تھا۔ حکام کا خیال ہے کہ اسی فرق کی بنیاد پر ممکنہ طور پر منظور شدہ حد سے زیادہ غیر ملکی کارکنوں کو لانے کے لیے کوٹہ سسٹم کا غلط استعمال کیا گیا۔
ملائیشیا میں غیر ملکی کارکنوں کی بھرتی ایک باقاعدہ حکومتی نظام کے تحت کی جاتی ہے۔ ہر آجر کو اپنی ضرورت کے مطابق مخصوص تعداد میں کارکن رکھنے کی منظوری دی جاتی ہے، جبکہ تمام معلومات امیگریشن کے مرکزی ڈیٹا بیس میں محفوظ کی جاتی ہیں۔ اس نظام کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ غیر ملکی کارکنوں کی آمد، ملازمت اور قیام تمام قانونی تقاضوں کے مطابق ہو۔
اگر کسی مرحلے پر سرکاری ریکارڈ اور جاری کردہ دستاویزات میں فرق پایا جائے تو اس سے نہ صرف نگرانی کے نظام پر سوالات پیدا ہوتے ہیں بلکہ کوٹہ کی شفاف تقسیم اور امیگریشن قوانین پر عمل درآمد بھی متاثر ہو سکتا ہے۔ اسی وجہ سے حکام اس معاملے کو سنجیدگی سے دیکھ رہے ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ابتدائی شواہد نے ایک ایسے مبینہ منصوبے کی نشاندہی کی ہے جس کے ذریعے غیر ملکی کارکنوں کے کوٹہ سسٹم سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کی گئی۔ تاہم متعلقہ اداروں کی جانب سے اس حوالے سے مکمل تحقیقات جاری ہیں اور ابھی تک کسی حتمی نتیجے یا سرکاری فیصلہ کا اعلان نہیں کیا گیا۔
ملائیشیا میں گزشتہ چند برسوں کے دوران غیر ملکی کارکنوں کی بھرتی کے نظام کو مزید شفاف بنانے کے لیے مختلف ڈیجیٹل نظام متعارف کرائے گئے ہیں، جن میں مائی آئی ایم ایم ایس بھی شامل ہے۔ اس نظام کا مقصد تمام درخواستوں، منظوریوں اور کارکنوں کے ریکارڈ کو ایک مرکزی پلیٹ فارم پر محفوظ رکھنا ہے تاکہ بے ضابطگیوں کے امکانات کم کیے جا سکیں۔
حالیہ تحقیقات اسی نگرانی کے عمل کا حصہ سمجھی جا رہی ہیں، جہاں مختلف سرکاری ریکارڈز کا باہمی موازنہ کر کے ممکنہ غلطیوں یا بے ضابطگیوں کی نشاندہی کی جا رہی ہے۔ اگر تحقیقات میں الزامات درست ثابت ہوتے ہیں تو متعلقہ افراد کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جا سکتی ہے۔
اس وقت دستیاب معلومات کے مطابق حکام نے صرف ابتدائی تحقیقات کا آغاز کیا ہے اور معاملے کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ مزید تفصیلات سامنے آنے کے بعد ہی واضح ہو سکے گا کہ مبینہ بے ضابطگیوں کی نوعیت کیا تھی، اس میں کتنے افراد ملوث تھے اور کوٹہ سسٹم کس حد تک متاثر ہوا۔

COMMENTS