کوالالمپور: ملائیشیا کا امیگریشن ڈیپارٹمنٹ مائی آئی ایم ایم ایس (ملائیشین امیگریشن سسٹم) میں مبینہ ہیکنگ اور جعلی عارضی ملازمتی وزٹ پاس (پی...
کوالالمپور: ملائیشیا کا امیگریشن ڈیپارٹمنٹ مائی آئی ایم ایم ایس (ملائیشین امیگریشن سسٹم) میں مبینہ ہیکنگ اور جعلی عارضی ملازمتی وزٹ پاس (پی ایل کے ایس) جاری کرنے کے کیس میں گرفتار افسران کے خلاف محکمانہ کارروائی کا فیصلہ ملائیشین انسدادِ بدعنوانی کمیشن (ایم اے سی سی) کی تحقیقات مکمل ہونے کے بعد کرے گا۔
امیگریشن ڈیپارٹمنٹ کے ڈائریکٹر جنرل داتوک ذکریا شعبان نے کہا کہ اس وقت تحقیقات ابتدائی مرحلے میں ہیں، اس لیے کسی بھی افسر کے خلاف محکمانہ کارروائی شروع کرنے سے پہلے قانونی عمل مکمل ہونے کا انتظار کیا جائے گا۔ ان کے مطابق محکمہ کی اولین ترجیح یہ ہے کہ پہلے ایم اے سی سی اپنی تحقیقات مکمل کرے، جس کے بعد رپورٹ کی بنیاد پر آئندہ اقدامات کیے جائیں گے۔
انہوں نے بتایا کہ اگر گرفتار افسران کے خلاف عدالت میں فردِ جرم عائد کی جاتی ہے تو محکمہ ان کے خلاف باضابطہ محکمانہ کارروائی شروع کرے گا اور مقدمے کے فیصلے تک انہیں ڈیوٹی سے معطل کر دیا جائے گا۔ دوسری جانب اگر کسی افسر پر فردِ جرم عائد نہ بھی ہو، لیکن تحقیقات کے دوران محکمانہ ضابطوں کی خلاف ورزی کے شواہد سامنے آئیں تو اس صورت میں بھی مناسب محکمانہ کارروائی کی جائے گی۔
ذکریا شعبان نے مزید کہا کہ امیگریشن ڈیپارٹمنٹ ایم اے سی سی کی حتمی تحقیقاتی رپورٹ کا تفصیلی جائزہ لے گا تاکہ یہ طے کیا جا سکے کہ ملوث افسران کے خلاف کس نوعیت کی کارروائی مناسب ہوگی۔ ان کا کہنا تھا کہ محکمہ تمام فیصلے قانون اور دستیاب شواہد کی بنیاد پر کرے گا۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایم اے سی سی نے امیگریشن ڈیپارٹمنٹ کے تعاون سے "آپریشن کریک" کے دوران ایک ایسے مبینہ گروہ کا سراغ لگایا جو ملائیشین امیگریشن سسٹم (مائی آئی ایم ایم ایس) میں غیر قانونی مداخلت کر کے عارضی ملازمتی وزٹ پاس (پی ایل کے ایس) کی درخواستوں پر جعلی منظوری حاصل کر رہا تھا۔
ایم اے سی سی کے چیف کمشنر داتوک سری عبدالحلیم امان کے مطابق اس کارروائی کے دوران مجموعی طور پر 12 افراد کو گرفتار کیا گیا۔ ان میں دو کمپنی ڈائریکٹرز، تین غیر ملکی شہری، چار امیگریشن افسران، امیگریشن ڈیپارٹمنٹ کے انفارمیشن ٹیکنالوجی ڈویژن کے دو افسران اور ایک پولیس افسر شامل ہیں۔ تمام مشتبہ افراد کی عمریں تقریباً 30 سے 40 سال کے درمیان بتائی گئی ہیں۔
تحقیقات کے مطابق مبینہ گروہ نے 2011 کے غیر استعمال شدہ پی ایل کے ایس کوٹے کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے مطلوبہ لیوی ادا کیے بغیر 1,306 جعلی پی ایل کے ایس جاری کیے۔ ابتدائی اندازوں کے مطابق اس غیر قانونی سرگرمی سے ملائیشیا کی حکومت کو تقریباً 2.4 ملین رنگٹ کا مالی نقصان پہنچا۔
گرفتاریاں گزشتہ روز دوپہر 2 بجے سے شام 5 بجے کے درمیان ایم اے سی سی ہیڈکوارٹر اور پینانگ میں امیگریشن ڈیپارٹمنٹ کے دفتر سے کی گئیں۔ اس سے قبل بھی متعلقہ مقامات پر تفتیش کے لیے مختلف کارروائیاں کی جا چکی ہیں تاکہ مزید شواہد اکٹھے کیے جا سکیں۔
مائی آئی ایم ایم ایس ملائیشیا کا مرکزی امیگریشن سسٹم ہے، جس کے ذریعے ویزوں، ورک پرمٹس اور دیگر امیگریشن درخواستوں کی پروسیسنگ کی جاتی ہے۔ اسی طرح پی ایل کے ایس یا ٹمپرری ایمپلائمنٹ وزٹ پاس غیر ملکی کارکنوں کو مخصوص شعبوں میں قانونی طور پر کام کرنے کی اجازت دیتا ہے۔ اس لیے اس نظام میں کسی بھی قسم کی مبینہ جعلسازی یا غیر قانونی مداخلت امیگریشن نظام کی شفافیت، قومی سلامتی اور حکومتی محصولات پر اثر ڈال سکتی ہے۔
حکام کے مطابق اس کیس کی تحقیقات ابھی جاری ہیں اور مزید شواہد سامنے آنے کی صورت میں مزید قانونی یا انتظامی اقدامات بھی کیے جا سکتے ہیں۔ فی الحال امیگریشن ڈیپارٹمنٹ نے واضح کیا ہے کہ تمام فیصلے ایم اے سی سی کی تحقیقات اور قانونی کارروائی کے نتائج کو مدنظر رکھتے ہوئے کیے جائیں گے۔

COMMENTS