ملائیشیا میں مبینہ "کاؤنٹر سیٹنگ" نیٹ ورک سے متعلق نئی معلومات سامنے آنے کے بعد حکام نے اس معاملے کی مزید تحقیقات شروع کر دی ہیں...
ملائیشیا میں مبینہ "کاؤنٹر سیٹنگ" نیٹ ورک سے متعلق نئی معلومات سامنے آنے کے بعد حکام نے اس معاملے کی مزید تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ رپورٹس کے مطابق اس نیٹ ورک پر شبہ ہے کہ وہ جوہر کی سرحد سے غیر ملکی شہریوں کے داخلے سے متعلق دستاویزات کا بندوبست کرتا ہے، جبکہ بعد میں یہی افراد کوالالمپور انٹرنیشنل ایئرپورٹ (کے ایل آئی اے) کے ذریعے ملک سے روانہ ہونے کی کوشش کرتے ہیں۔
اس سے قبل دیوان راعیت میں وزارتِ داخلہ (کے ڈی این) نے تحریری جواب میں کہا تھا کہ حکام کے لیے یہ ثابت کرنا مشکل ہے کہ آیا یہ مبینہ نیٹ ورک اب بھی کوالالمپور انٹرنیشنل ایئرپورٹ (کے ایل آئی اے) پر سرگرم ہے یا نہیں۔ وزارت نے واضح کیا تھا کہ ملائیشیا بارڈر کنٹرول اینڈ پروٹیکشن ایجنسی سرحدی نگرانی کو مضبوط بنانے اور بدعنوانی کے خلاف اقدامات جاری رکھے ہوئے ہے۔
وزارتِ داخلہ کے مطابق حکومت نے سرحدی نظام کو مزید محفوظ بنانے کے لیے متعدد اقدامات کیے ہیں۔ ان میں افسران کی باقاعدہ تبدیلی، اچانک معائنہ، باڈی کیمروں کا استعمال، مصنوعی ذہانت (اے آئی) سے منسلک سی سی ٹی وی نگرانی اور خودکار امیگریشن گیٹس کی تعداد میں اضافہ شامل ہے۔ ان اقدامات کا مقصد انسانی مداخلت کو کم کرنا اور نگرانی کے نظام کو مزید مؤثر بنانا ہے۔
تاہم، سامنے آنے والی معلومات کے مطابق مبینہ نیٹ ورک اب بھی غیر ملکی شہریوں کی نقل و حرکت سے متعلق سرگرمیوں میں ملوث ہو سکتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق 15 اور 17 جولائی کو درج ہونے والی پولیس رپورٹس میں کم از کم چھ غیر ملکی شہریوں کا ذکر کیا گیا، جن میں چین، پاکستان اور بھارت کے شہری شامل تھے۔ ان افراد کو کے ایل آئی اے پر اس وقت روکا گیا جب ان کے سفری دستاویزات پر موجود داخلے کی مہریں مشکوک قرار دی گئیں۔
پولیس رپورٹس کے مطابق ایک چینی خاتون کے پاسپورٹ پر جوہر کے سلطان اسکندر بلڈنگ کمپلیکس (بی ایس آئی) کی داخلے کی مہر موجود تھی، لیکن مائی آئی ایم ایم ایس امیگریشن سسٹم میں اس کے داخلے کا ریکارڈ غیر معمولی پایا گیا۔ اسی روز کے ایل آئی اے ٹرمینل 2 پر ایک بھارتی شہری کو بھی حراست میں لیا گیا، جو اپنے سوشل وزٹ پاس کی مقررہ مدت ختم ہونے کے باوجود ملائیشیا میں موجود تھا۔ بتایا گیا کہ اس کا ویزا 22 نومبر کو جاری کیا گیا تھا اور صرف 30 دن کے لیے مؤثر تھا۔
بعد ازاں ایک پاکستانی شہری کو بھی کے ایل آئی اے ٹرمینل 1 پر حراست میں لیا گیا۔ اس کے پاس 30 روزہ سوشل وزٹ پاس موجود تھا، جس کے بارے میں شبہ ظاہر کیا گیا کہ وہ غیر قانونی طریقے سے حاصل کیا گیا تھا۔ اسی شام ایک بھارتی خاتون کو بھی سنگاپور روانگی سے قبل روکا گیا۔ تحقیقات میں معلوم ہوا کہ اس کے پاس بھی 5 جولائی کی تاریخ والا سوشل وزٹ پاس موجود تھا، جس کے اجرا کے طریقہ کار پر سوالات اٹھائے گئے۔
17 جولائی کو مزید تین بھارتی شہریوں کے خلاف بھی پولیس رپورٹس درج کی گئیں، جب وہ مشکوک سفری دستاویزات کے ساتھ ملائیشیا سے روانہ ہونے کی کوشش کر رہے تھے۔ ان تمام واقعات میں ایک مشترک بات یہ سامنے آئی کہ متعلقہ دستاویزات پر بی ایس آئی جوہر کی امیگریشن مہریں موجود تھیں۔
حکام نے وضاحت کی کہ ہر امیگریشن مہر کا ایک منفرد سیریل نمبر ہوتا ہے، جس کے ذریعے یہ معلوم کیا جا سکتا ہے کہ وہ مہر کس افسر کے زیر استعمال تھی۔ یہی وجہ ہے کہ تحقیقات میں ان مہروں کے استعمال کے طریقہ کار کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے۔
امیگریشن ڈیپارٹمنٹ کے بعض ذرائع کے مطابق اس نوعیت کے معاملات تقریباً ہر ہفتے سامنے آتے ہیں۔ تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ چونکہ استعمال ہونے والی مہریں بظاہر اصل ہوتی ہیں، اس لیے متعلقہ افراد کے خلاف عدالت میں مقدمہ ثابت کرنا ہمیشہ آسان نہیں ہوتا۔ ذرائع کے مطابق بعض معاملات میں مشتبہ افراد کو صرف ابتدائی تفتیش کے لیے ریمانڈ پر رکھا جاتا ہے۔
ایک اور ذریعے نے دعویٰ کیا کہ موجودہ سیکیورٹی نظام کے باوجود بعض طریقوں سے نگرانی کے نظام کو دھوکا دینے کی کوشش کی جا سکتی ہے۔ تاہم اس دعوے کی سرکاری سطح پر تصدیق نہیں کی گئی۔ اسی ذریعے کے مطابق بعض گرفتاریاں نگرانی کے نظام کی بجائے غیر ملکی شہریوں کی تکنیکی غلطیوں یا سفری ایجنٹس کی غلط معلومات کے باعث بھی سامنے آتی ہیں۔
کے ایل آئی اے کے ضلعی پولیس سربراہ ایم روی نے تصدیق کی کہ پولیس کو 15 اور 17 جولائی سے متعلق تمام رپورٹس موصول ہوئی ہیں۔ ان کے مطابق ملائیشیا بارڈر کنٹرول اینڈ پروٹیکشن ایجنسی اس معاملے کی تفصیلی تحقیقات کر رہی ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ آیا اس میں سرحد پار جرائم یا اختیارات کے غلط استعمال کے شواہد موجود ہیں یا نہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی اس معاملے سے متعلق مزید قانونی کارروائی یا سرکاری موقف سامنے آئے گا۔

COMMENTS