ملائیشیا کی لیبر مارکیٹ دوبارہ کھلنے کی امید نے ہزاروں غیر ملکی کارکنوں کے لیے روزگار کے نئے مواقع کی توقع پیدا کی ہے، لیکن ماہرین کا کہنا ...
ملائیشیا کی لیبر مارکیٹ دوبارہ کھلنے کی امید نے ہزاروں غیر ملکی کارکنوں کے لیے روزگار کے نئے مواقع کی توقع پیدا کی ہے، لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ ماضی کی غلطیوں کو دہرائے بغیر شفاف اور منصفانہ نظام قائم کرنا ضروری ہے۔ اگر بھرتی کے پرانے متنازع طریقہ کار کو برقرار رکھا گیا تو غیر قانونی سرگرمیوں، اضافی اخراجات اور کارکنوں کے استحصال جیسے مسائل دوبارہ سامنے آ سکتے ہیں۔
دو سال سے زائد عرصے تک بھرتی کا عمل معطل رہنے کے بعد حال ہی میں بنگلہ دیش کے وزارتِ سمندر پار روزگار و فلاح کے وزیر نے اعلان کیا کہ ملائیشیا کی لیبر مارکیٹ جلد دوبارہ کھلنے کی توقع ہے۔ تاہم اس اعلان کے فوراً بعد وزارت نے بھرتی کرنے والی ایجنسیوں کو ہدایت جاری کی کہ جب تک باضابطہ طریقہ کار کا اعلان نہ ہو، کسی بھی قسم کی نئی بھرتی شروع نہ کی جائے۔ اس متضاد صورتحال نے کارکنوں اور ریکروٹنگ ایجنسیوں میں غیر یقینی کیفیت پیدا کر دی ہے۔
رپورٹس کے مطابق بنگلہ دیش اور ملائیشیا کے درمیان لیبر مائیگریشن کے نئے فریم ورک پر ابھی مکمل اتفاق نہیں ہوا۔ دونوں ممالک نے مشترکہ ورکنگ گروپ کے ذریعے نظام میں اصلاحات پر اتفاق کیا تھا، تاہم اس سے پہلے ہی بعض ایسے فیصلے سامنے آئے ہیں جنہوں نے خدشات کو دوبارہ جنم دیا ہے۔
ان خدشات کی ایک اہم وجہ ملائیشیا کی جانب سے غیر ملکی کارکنوں کی درخواستوں کی پراسیسنگ کے لیے فارین ورکرز سینٹرلائزڈ منیجمنٹ سسٹم کو برقرار رکھنا ہے۔ اس نظام پر ماضی میں شفافیت کی کمی اور مبینہ بے ضابطگیوں کے الزامات لگتے رہے ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اگر یہی نظام بغیر اصلاحات کے جاری رہا تو سیاسی اور کاروباری مفادات رکھنے والے گروہوں کا اثر و رسوخ برقرار رہ سکتا ہے، جس سے شفاف بھرتی کا مقصد متاثر ہوگا۔
ملائیشیا اور بنگلہ دیش کے درمیان مزدوروں کی بھرتی کا عمل جون 2024 میں اس وقت معطل کر دیا گیا تھا جب متعدد شکایات سامنے آئیں کہ بہت سے کارکنوں نے بھاری فیس ادا کی، قرض لیا اور ملائیشیا پہنچنے کے بعد انہیں وعدے کے مطابق ملازمت نہیں ملی۔ بعض افراد کو کم تنخواہ یا مختلف نوعیت کے کام دیے گئے جبکہ کچھ کارکن روزگار سے ہی محروم رہے۔
اس دوران ایک اور اہم مسئلہ یہ بھی سامنے آیا کہ صرف محدود تعداد میں ریکروٹنگ ایجنسیوں کو کارکن بھیجنے کی اجازت حاصل تھی۔ اس محدود نظام کے باعث مقابلے کی فضا ختم ہوئی اور مبینہ طور پر چند مخصوص گروہوں کو غیر معمولی فائدہ حاصل ہوا۔ اسی کے ساتھ بعض ملائیشین کمپنیوں کی جانب سے ضرورت سے زیادہ ورکروں کے کوٹے حاصل کرنے اور حقیقی افرادی قوت کی طلب کی مناسب جانچ نہ ہونے کے الزامات بھی سامنے آئے۔
ماہرین کے مطابق اگر نئی بھرتی کا عمل شروع کیا جاتا ہے تو سب سے پہلے ایک ایسا شفاف نظام متعارف کرایا جانا چاہیے جس میں تمام لائسنس یافتہ ریکروٹنگ ایجنسیوں کو یکساں مواقع حاصل ہوں۔ اس کے علاوہ ہر کمپنی کی افرادی قوت کی حقیقی ضرورت کی تصدیق، ورکروں کے کوٹے کی جانچ اور ملازمت کے آرڈرز کی مکمل توثیق بھی ضروری ہے تاکہ کسی بھی کارکن کو غلط معلومات کی بنیاد پر بیرون ملک نہ بھیجا جائے۔
اسی طرح کارکنوں سے وصول کی جانے والی بھرتی فیس اور دیگر اخراجات کی بھی مؤثر نگرانی کی ضرورت ہے۔ ماضی میں بہت سے افراد نے قرض لے کر بیرون ملک جانے کی کوشش کی لیکن مناسب روزگار نہ ملنے کے باعث وہ شدید مالی مشکلات کا شکار ہوئے۔ اس لیے کم لاگت اور شفاف بھرتی کا نظام مزدوروں کے تحفظ کے لیے اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
ادارتی رپورٹ میں اس بات پر بھی زور دیا گیا ہے کہ حکومت کو عوام تک بروقت اور درست معلومات پہنچانی چاہئیں تاکہ غیر یقینی صورتحال سے فائدہ اٹھانے والے غیر قانونی ایجنٹ اور بروکرز کارکنوں کو گمراہ نہ کر سکیں۔ واضح اور سرکاری معلومات کی فراہمی سے ممکنہ دھوکہ دہی اور اضافی اخراجات کو بھی کم کیا جا سکتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق ان کارکنوں کے مسئلے پر بھی سنجیدگی سے غور کیا جانا چاہیے جو گزشتہ مرحلے میں ملائیشیا پہنچنے کے باوجود وعدے کے مطابق ملازمت حاصل نہیں کر سکے تھے۔ ایسے افراد کی قانونی حیثیت اور مستقبل کے حوالے سے مناسب اقدامات دونوں ممالک کے لیے اہم ہوں گے۔
توقع کی جا رہی ہے کہ رواں ماہ ملائیشیا کا ایک وفد بنگلہ دیش کا دورہ کرے گا، جس کے دوران دونوں ممالک کے درمیان نئے معاہدے اور بھرتی کے طریقہ کار پر مزید پیش رفت ہو سکتی ہے۔ اس موقع پر حکومتوں، آجروں، ریکروٹنگ ایجنسیوں اور دیگر متعلقہ اداروں کی ذمہ داریوں کو واضح طور پر طے کرنا آئندہ نظام کی کامیابی کے لیے ضروری سمجھا جا رہا ہے۔

COMMENTS