ملائیشیا کی وزارت انسانی وسائل نے اعلان کیا ہے کہ غیر ملکی کارکنوں کی بھرتی کے نظام کو مزید شفاف، مؤثر اور منظم بنانے کے لیے مصنوعی ذہانت (...
ملائیشیا کی وزارت انسانی وسائل نے اعلان کیا ہے کہ غیر ملکی کارکنوں کی بھرتی کے نظام کو مزید شفاف، مؤثر اور منظم بنانے کے لیے مصنوعی ذہانت (اے آئی) پر مبنی ایک نیا پلیٹ فارم متعارف کرایا جا رہا ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اس نئے نظام کے ذریعے بھرتی کے عمل میں مڈل مین (ایجنٹس) کا کردار کم کیا جائے گا، غیر ضروری اخراجات اور بے ضابطگیوں کا خاتمہ ہوگا اور کارکنوں کے حقوق کے تحفظ کو مزید مضبوط بنایا جائے گا۔
وزارت کے مطابق نئے نظام کا نام یونیورسل ریکروٹمنٹ ایڈوانسڈ پلیٹ فارم (ٹی یو آر اے پی) رکھا گیا ہے۔ اس پلیٹ فارم کی منظوری کابینہ نے 15 اپریل کو دی تھی۔ حکومت کا کہنا ہے کہ یہ اقدام غیر ملکی کارکنوں کی بھرتی کے موجودہ نظام میں اصلاحات لانے اور امیگریشن کے عمل کو جدید خطوط پر استوار کرنے کی حکمت عملی کا حصہ ہے۔
وزارت انسانی وسائل نے پارلیمنٹ میں تحریری جواب دیتے ہوئے کہا کہ اس نظام کے ذریعے غیر ملکی کارکنوں کی بھرتی کے روایتی طریقہ کار کو تبدیل کیا جائے گا، جہاں پہلے متعدد ایجنٹس اور مڈل مین شامل ہوتے تھے۔ نئے نظام میں مصنوعی ذہانت کی مدد سے براہ راست ملازمتوں کا میچنگ سسٹم استعمال کیا جائے گا، جس کے ذریعے ملائیشیا کے آجر (ایمپلائر) ضرورت کے مطابق متعلقہ ممالک سے کارکنوں کی براہ راست بھرتی کر سکیں گے۔
وزارت کے مطابق اس نئے نظام کا ایک اہم مقصد جبری مشقت اور انسانی اسمگلنگ جیسے مسائل سے نمٹنا بھی ہے۔ اس کے علاوہ یہ پلیٹ فارم غیر ملکی کارکنوں کے حقوق کے تحفظ کو مزید مضبوط بنانے میں بھی مدد دے گا۔
یہ وضاحت سینیٹر داتوک کوہ نائی کوونگ کے سوال کے جواب میں دی گئی، جنہوں نے حکومت سے یقین دہانی طلب کی تھی کہ نیا نظام مکمل طور پر شفاف ہوگا اور ماضی کے بھرتی کے نظام میں سامنے آنے والی کمزوریوں کو دہرایا نہیں جائے گا۔
وزارت نے بتایا کہ اس نظام کی شفافیت اور غیر جانبداری کو یقینی بنانے کے لیے چار بنیادی کنٹرول سسٹمز متعارف کرائے جائیں گے۔
پہلا نظام ٹرانسپیرنٹ الگورتھم (ایکسپلین ایبل اے آئی) ہوگا، جس کے ذریعے امیدواروں اور ملازمتوں کی براہ راست اور قابل جان میچنگ کی جائے گی تاکہ پورا عمل واضح اور شفاف رہے۔
دوسرا نظام انٹیگریٹی گورنینس پر مشتمل ہوگا، جس میں ملائیشین اینٹی کرپشن کمیشن اور سائبر سیکورٹی ملائیشیا بھی شامل ہوں گے تاکہ کرپشن، غیر قانونی مداخلت اور سائبر سیکیورٹی سے متعلق خطرات کی نگرانی کی جا سکے۔
تیسرا نظام امیوٹ ایبل لیجر ٹیکنالوجی ہوگا، جس کے ذریعے ہر مرحلے کا مستقل ڈیجیٹل ریکارڈ محفوظ کیا جائے گا۔ اس سے بھرتی کے عمل کی مکمل آڈٹ ٹریل دستیاب رہے گی اور کسی بھی تبدیلی یا بے ضابطگی کا آسانی سے جائزہ لیا جا سکے گا۔
چوتھا نظام براہ راست مالی لین دین پر مشتمل ہوگا، جہاں حکومت کی مقرر کردہ سرکاری فیس کے مطابق ادائیگیاں کی جائیں گی۔ اس طریقہ کار کا مقصد خفیہ چارجز اور غیر ضروری اخراجات کو ختم کرنا ہے تاکہ آجر اور کارکن دونوں شفاف مالی نظام سے فائدہ اٹھا سکیں۔
وزارت نے مزید بتایا کہ اس نظام میں ہیومن ان دا لوپ اصول بھی شامل کیا جائے گا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگرچہ ابتدائی مراحل میں مصنوعی ذہانت استعمال ہوگی، تاہم تمام اہم پالیسی فیصلے وزارت انسانی وسائل ہی کرے گی تاکہ بین الاقوامی معیار کے مطابق انسانی نگرانی برقرار رہے۔
وزارت نے واضح کیا کہ یہ نظام صرف پرانے سسٹم کا نیا نام یا سافٹ ویئر اپ گریڈ نہیں بلکہ غیر ملکی کارکنوں کی بھرتی کے پورے نظام میں ایک بنیادی تبدیلی ہے۔ حکومت کا مقصد ایسا نظام قائم کرنا ہے جو زیادہ اخلاقی، شفاف، مؤثر اور تمام فریقوں کے لیے منصفانہ ہو۔
وزارت انسانی وسائل نے اس بات پر بھی زور دیا کہ اگر کوئی فرد یا ادارہ اس نئے نظام میں مداخلت کرنے، اسے متاثر کرنے یا اس کی شفافیت کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرے گا تو اس کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ حکومت کے مطابق نئے نظام کی دیانت داری اور شفافیت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
حکومت کا مؤقف ہے کہ جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے نہ صرف بھرتی کا عمل تیز ہوگا بلکہ غیر ضروری تاخیر، اضافی اخراجات اور ایجنٹس پر انحصار بھی کم ہوگا۔ اس کے ساتھ ساتھ غیر ملکی کارکنوں کی بھرتی کو زیادہ منظم اور قانونی تقاضوں کے مطابق انجام دینا بھی آسان ہو جائے گا۔

COMMENTS