ملائیشیا میں بنگلہ دیشی کارکنوں کی بھرتی سے متعلق طویل عرصے سے زیر التوا معاملے پر آئندہ ایک سے دو دن میں اہم فیصلہ متوقع ہے۔ ملائیشیا کی ح...
ملائیشیا میں بنگلہ دیشی کارکنوں کی بھرتی سے متعلق طویل عرصے سے زیر التوا معاملے پر آئندہ ایک سے دو دن میں اہم فیصلہ متوقع ہے۔ ملائیشیا کی حکومت غیر ملکی کارکنوں کی کمی کو پورا کرنے کے لیے بھرتی کے عمل کو تیز کرنے کی کوشش کر رہی ہے، تاہم اس کے ساتھ یہ مؤقف بھی برقرار رکھا گیا ہے کہ ملازمتوں میں پہلی ترجیح ملائیشین شہریوں کو دی جائے گی۔
ملائیشیا کے وزیر برائے انسانی وسائل داتوک سری آر رمانن نے کہا ہے کہ وزیراعظم داتوک سری انور ابراہیم کی جانب سے مقرر کردہ ایک ماہ کی مدت کے بعد حکومت غیر ملکی کارکنوں کی بھرتی سے متعلق انتظامی رکاوٹوں کو جلد از جلد دور کرنے پر کام کر رہی ہے۔ ان کے مطابق اگر تمام مراحل منصوبے کے مطابق مکمل ہوئے تو یہ عمل 20 دن کے اندر مکمل کیا جا سکتا ہے۔
وزیر نے اشارہ دیا کہ بنگلہ دیشی کارکنوں کی بھرتی کے حوالے سے ایک اہم فیصلہ آئندہ ایک یا دو دن میں سامنے آ سکتا ہے۔ انہوں نے یہ بات منگل کے روز ریاست نیگری سمبیلان کے علاقے ایس جے کے ٹی لادانگ سناوانگ میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔
آر رمانن نے واضح کیا کہ وزارت انسانی وسائل کی اولین ترجیح یہ ہے کہ ملک میں دستیاب ملازمتوں پر پہلے مقامی شہریوں کو موقع دیا جائے۔ اگر کسی شعبے میں مناسب مقامی امیدوار دستیاب نہ ہوں، تب ہی قانون اور متعلقہ ضوابط کے مطابق غیر ملکی کارکنوں کی بھرتی کی جائے گی۔
انہوں نے قانونی طور پر تسلیم شدہ روہنگیا مہاجرین کو ملازمت دینے کی تجویز سے متعلق سوال کے جواب میں بھی یہی مؤقف دہرایا کہ حکومت پہلے مقامی افراد کے روزگار کو یقینی بنائے گی، اس کے بعد ہی غیر ملکی کارکنوں کی بھرتی پر غور کیا جائے گا۔
وزیر کے مطابق وزیراعظم کی ہدایت پر حکومت نے غیر ملکی کارکنوں کی درخواستوں، خاص طور پر سروسز اور ریسٹورنٹ سیکٹر سے متعلق درخواستوں کی جانچ کا عمل تیز کر دیا ہے۔ متعلقہ سرکاری اداروں کو غیر ضروری دفتری پیچیدگیاں کم کرنے اور درخواستوں پر جلد فیصلہ کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ اگرچہ وزیراعظم نے اس معاملے کو حل کرنے کے لیے 30 دن کی مہلت دی تھی، لیکن وزارت کی کوشش ہے کہ تمام ضروری کارروائی 20 دن کے اندر مکمل کر لی جائے۔ تاہم اس کا انحصار سیکیورٹی کلیئرنس، افرادی قوت کے جائزے اور دیگر لازمی قانونی مراحل کی بروقت تکمیل پر ہوگا۔
گزشتہ جمعہ وزیراعظم انور ابراہیم نے وزارت انسانی وسائل اور متعلقہ اداروں کو ہدایت دی تھی کہ غیر ملکی کارکنوں کی بھرتی، خاص طور پر ریسٹورنٹ انڈسٹری کی درخواستوں، کو ایک ماہ کے اندر نمٹایا جائے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ مختلف شعبوں میں لیبر کی کمی کو دور کرنا ضروری ہے، لیکن غیر ملکی کارکنوں کی بھرتی ایک منظم اور قانون کے مطابق نظام کے تحت ہی کی جائے گی۔
دریں اثنا، منگل کو پوتراجایا میں بنگلہ دیش کے مشیر برائے تارکین وطن بہبود و بیرون ملک روزگار عارف الحق چودھری اور وزیراعظم کے مشیر مہدی امین کے ساتھ ہونے والی ملاقات کے بعد آر رمانن نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات مثبت اور تعمیری رہے۔
انہوں نے بتایا کہ ملاقات میں بھرتی کے طریقہ کار، ٹائم لائن، موجودہ اسٹینڈرڈ آپریٹنگ پروسیجر اور دیگر انتظامی معاملات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا ہے اور اب دونوں ممالک حتمی فیصلے کے قریب پہنچ چکے ہیں۔
وزیر نے کہا، "امکان ہے کہ ہم کل یا پرسوں حتمی فیصلہ کر لیں گے، جس کے بعد ملائیشیا اور بنگلہ دیش مشترکہ یا الگ الگ طور پر اس فیصلے کا اعلان کریں گے۔"
انہوں نے مزید بتایا کہ اگرچہ دونوں ممالک کے درمیان موجودہ مفاہمتی یادداشت رواں سال کے آخر تک مؤثر ہے، لیکن اس وقت نئی مفاہمتی یادداشت پر دستخط سے زیادہ اہم مسئلہ مختلف شعبوں میں افرادی قوت کی فوری ضرورت کو پورا کرنا ہے۔
آر رمانن کے مطابق بنگلہ دیش مطلوبہ تعداد میں کارکن فراہم کرنے کے لیے تیار ہے، جبکہ ملائیشیا کو کئی شعبوں، خصوصاً فوڈ اینڈ بیوریج انڈسٹری میں شدید افرادی قوت کی کمی کا سامنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ تکنیکی معاملات بعد میں بھی حل کیے جا سکتے ہیں، لیکن اس وقت فوری ضرورت لیبر کی کمی کو دور کرنا ہے۔
ملائیشیا میں غیر ملکی کارکنوں کے لیے کوٹہ سسٹم نافذ ہے۔ بارہویں ملائیشیا پلان (12ایم پی) کے تحت غیر ملکی کارکنوں کی تعداد مجموعی قومی افرادی قوت کے زیادہ سے زیادہ 15 فیصد تک محدود ہے، جبکہ تیرہویں ملائیشیا پلان (13ایم پی) کے مطابق حکومت کا ہدف ہے کہ سال 2030 تک اس تناسب کو کم کر کے 10 فیصد تک لایا جائے۔
ماہرین کے مطابق آئندہ چند دنوں میں متوقع فیصلہ نہ صرف بنگلہ دیشی کارکنوں کی بھرتی کے مستقبل کا تعین کرے گا بلکہ طویل تعطل کے بعد ملائیشیا میں غیر ملکی کارکنوں کی بھرتی کے عمل کو دوبارہ فعال کرنے کی راہ بھی ہموار کر سکتا ہے۔

COMMENTS