شاہ عالم: ملائیشیا کے انسدادِ بدعنوانی کمیشن نے ملائیشین امیگریشن سسٹم (مائی آئی ایم ایم ایس) میں مبینہ ہیکنگ اور عارضی ملازمتی وزٹ پاس (پی...
شاہ عالم: ملائیشیا کے انسدادِ بدعنوانی کمیشن نے ملائیشین امیگریشن سسٹم (مائی آئی ایم ایم ایس) میں مبینہ ہیکنگ اور عارضی ملازمتی وزٹ پاس (پی ایل کے ایس) کی جعلی منظوری کے معاملے میں 12 افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔ گرفتار ہونے والوں میں امیگریشن ڈیپارٹمنٹ کے 6 افسران، ایک پولیس افسر، دو کمپنی ڈائریکٹرز اور تین غیر ملکی شہری شامل ہیں۔
ایم اے سی سی کے چیف کمشنر داتوک سری عبدالحلیم امان نے بتایا کہ یہ گرفتاریاں امیگریشن ڈیپارٹمنٹ کے ساتھ مشترکہ کارروائی "آپریشن کریک" کے دوران کی گئیں، جس کا آغاز گزشتہ روز کیا گیا تھا۔ کارروائی کا مقصد ایسے نیٹ ورک کا سراغ لگانا تھا جو مبینہ طور پر مائی آئی ایم ایم ایس سسٹم میں غیر قانونی مداخلت کر کے پی ایل کے ایس درخواستوں کی جعلی منظوری حاصل کر رہا تھا۔
انہوں نے بتایا کہ گرفتار افراد میں چار امیگریشن افسران، امیگریشن ڈیپارٹمنٹ کے انفارمیشن ٹیکنالوجی ڈویژن کے دو افسران، ایک پولیس افسر، دو کمپنی ڈائریکٹرز اور تین غیر ملکی شہری شامل ہیں۔ تمام مشتبہ افراد کی عمریں تقریباً 30 سے 40 سال کے درمیان ہیں۔
ابتدائی تحقیقات کے مطابق اس گروہ نے سال 2011 کے پی ایل کے ایس کوٹے کا غلط استعمال کیا۔ الزام ہے کہ متعلقہ لیوی ادا کیے بغیر عارضی ملازمتی وزٹ پاس جاری کیے گئے، جس کے نتیجے میں مجموعی طور پر 1,306 جعلی پی ایل کے ایس پاس جاری ہوئے۔ اس کارروائی سے حکومت کو تقریباً 2.4 ملین رنگٹ کا مالی نقصان پہنچنے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔
عبدالحلیم امان کے مطابق تمام مشتبہ افراد کو گزشتہ روز دوپہر کے وقت ایم اے سی سی ہیڈکوارٹر اور پینانگ امیگریشن ڈیپارٹمنٹ ہیڈکوارٹر سے گرفتار کیا گیا۔ تحقیقات کے سلسلے میں متعدد کمپنیوں کے دفاتر کے علاوہ پینانگ اور پوتراجایا میں امیگریشن دفاتر پر بھی چھاپے مارے گئے تاکہ مزید شواہد اکٹھے کیے جا سکیں۔
چیف کمشنر نے بتایا کہ یہ کارروائی ایم اے سی سی کے انٹیلی جنس ڈویژن اور امیگریشن ڈیپارٹمنٹ کے انٹیلی جنس ڈویژن کے درمیان معلومات کے تبادلے کے بعد ممکن ہوئی۔ دونوں ادارے مئی 2026 سے وادی کلانگ اور پینانگ میں اس مبینہ نیٹ ورک کی سرگرمیوں پر نظر رکھے ہوئے تھے۔
تحقیقات میں تکنیکی معاونت کے لیے سائبر سیکورٹی ملائیشیا، ٹیلی کام ملائشیا اور ایم اے سی سی کے ٹیکنالوجی فرانزک ڈویژن نے بھی حصہ لیا۔ ان اداروں نے ڈیجیٹل شواہد اور سسٹم کی جانچ کے ذریعے ممکنہ سائبر سرگرمیوں کی تحقیقات میں تعاون فراہم کیا۔
ایم اے سی سی کے مطابق اس مقدمے کی تحقیقات ایم اے سی سی ایکٹ 2009 کی دفعات 17(اے) اور 16(اے) کے تحت جاری ہیں، جو رشوت اور بدعنوانی سے متعلق جرائم کا احاطہ کرتی ہیں۔ گرفتار افراد کو ریمانڈ حاصل کرنے کے لیے پوتراجایا مجسٹریٹ عدالت میں پیش کیا جانا تھا تاکہ مزید تفتیش مکمل کی جا سکے۔
مائی آئی ایم ایم ایس ملائیشیا کا مرکزی امیگریشن سسٹم ہے، جس کے ذریعے مختلف اقسام کے ویزوں، ورک پرمٹس اور امیگریشن درخواستوں پر کارروائی کی جاتی ہے۔ پی ایل کے ایس یا ٹمپرری ایمپلائمنٹ وزٹ پاس غیر ملکی کارکنوں کو مخصوص شعبوں میں قانونی طور پر کام کرنے کی اجازت دیتا ہے۔ اسی وجہ سے اس نظام میں کسی بھی قسم کی غیر قانونی مداخلت نہ صرف حکومتی مالی نقصان کا باعث بن سکتی ہے بلکہ امیگریشن نظام کی شفافیت اور سیکیورٹی پر بھی اثر ڈال سکتی ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ تحقیقات ابھی جاری ہیں اور مزید شواہد کی روشنی میں مزید کارروائی بھی کی جا سکتی ہے۔ فی الحال متعلقہ ادارے اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ مبینہ جعلسازی کا دائرہ کار کتنا وسیع تھا اور آیا اس میں مزید افراد یا ادارے بھی ملوث تھے۔

COMMENTS