ملائیشیا کے انسدادِ بدعنوانی کمیشن (ایم اے سی سی) نے غیر ملکی شہریوں سے متعلق مبینہ کرپشن اور ویزا بے ضابطگیوں کے ایک بڑے نیٹ ورک کے خلاف ک...
ملائیشیا کے انسدادِ بدعنوانی کمیشن (ایم اے سی سی) نے غیر ملکی شہریوں سے متعلق مبینہ کرپشن اور ویزا بے ضابطگیوں کے ایک بڑے نیٹ ورک کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے مجموعی طور پر 33 افراد کو ریمانڈ پر لے لیا ہے۔ گرفتار کیے گئے افراد میں 10 انفورسمنٹ افسران، سرکاری ملازمین اور دیگر مشتبہ افراد شامل ہیں جن پر مختلف بدعنوانی اور قواعد کی خلاف ورزی کے الزامات کی تحقیقات جاری ہیں۔
سرکاری ذرائع کے مطابق یہ کارروائی ایک مربوط آپریشن کے دوران کی گئی، جس میں پوتراجایا، سیلانگور، نگری سمبیلان اور ملاکا سمیت مختلف مقامات پر چھاپے مارے گئے۔ تمام گرفتار افراد کی عمریں تقریباً 20 سے 50 سال کے درمیان ہیں، جن میں 24 مرد اور 9 خواتین شامل ہیں۔
ابتدائی تحقیقات کے مطابق بعض انفورسمنٹ افسران پر الزام ہے کہ انہوں نے رشوت وصول کرکے ایسے غیر ملکی کارکنوں کے خلاف کارروائی نہیں کی جو امیگریشن ایکٹ 1959 کی خلاف ورزی کر رہے تھے۔ اسی طرح بعض معاملات میں ویزا، پاس اور ورک پرمٹ مقررہ قانونی طریقہ کار کے بغیر جاری کیے جانے کا بھی شبہ ظاہر کیا گیا ہے۔
تحقیقات میں یہ پہلو بھی سامنے آیا ہے کہ بعض افراد نے غیر ملکی کارکنوں کے کوٹے اور درخواستوں کے لیے ایسے دستاویزات جمع کروائے جن میں مبینہ طور پر غلط یا گمراہ کن معلومات درج تھیں۔ حکام اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ آیا ان بے ضابطگیوں کے ذریعے غیر قانونی فائدہ حاصل کیا گیا اور اس میں مزید افراد یا ادارے بھی شامل تھے یا نہیں۔
ذرائع کے مطابق یہ مبینہ سرگرمیاں 2021 سے لے کر موجودہ سال تک مختلف اوقات میں جاری رہیں۔ اسی بنیاد پر ملائیشین اینٹی کرپشن کمیشن نے ان افراد کے خلاف تحقیقات کا دائرہ وسیع کیا اور مختلف ریاستوں میں بیک وقت کارروائیاں کیں تاکہ ممکنہ شواہد محفوظ کیے جا سکیں۔
ملائیشیا میں غیر ملکی کارکنوں کی بھرتی، ورک پرمٹ، ویزا اور امیگریشن سے متعلق معاملات پہلے ہی سخت قوانین کے تحت چلائے جاتے ہیں۔ حکومت حالیہ عرصے میں اس نظام کو مزید شفاف بنانے، غیر قانونی بھرتیوں کی روک تھام اور کرپشن کے خاتمے کے لیے متعدد اقدامات کر رہی ہے۔ اسی سلسلے میں مختلف سرکاری اداروں میں احتساب اور نگرانی کے نظام کو بھی مضبوط بنانے کی کوششیں جاری ہیں۔
ایم اے سی سی کے چیف کمشنر داتوک سری عبد حلیم امان نے گرفتاریوں کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ اس کیس کی تحقیقات ملائیشین اینٹی کرپشن کمیشن ایکٹ 2009 کی دفعات 16(بی)(اے)، 17(اے)، 17(بی) اور 18 کے تحت کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ تحقیقات ابھی جاری ہیں اور مزید گرفتاریاں بھی خارج از امکان نہیں۔
یہ کیس ملائیشیا کے امیگریشن اور غیر ملکی کارکنوں کے انتظامی نظام سے متعلق اہم تحقیقات میں شمار کیا جا رہا ہے۔ حکام مختلف دستاویزات، مالی لین دین اور دیگر شواہد کا جائزہ لے رہے ہیں تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ مبینہ نیٹ ورک کس حد تک فعال تھا اور اس سے کتنے معاملات متاثر ہوئے۔
حکام کا کہنا ہے کہ تحقیقات مکمل ہونے کے بعد اگر شواہد کافی ہوئے تو متعلقہ افراد کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ اس مرحلے پر تمام گرفتار افراد صرف تحقیقات کے لیے ریمانڈ پر ہیں، جبکہ ان کے خلاف عدالت میں جرم ثابت ہونا ابھی باقی ہے۔

COMMENTS