کوالالمپور: ملائیشیا کے امیگریشن ڈیپارٹمنٹ (جے آئی ایم) نے انکشاف کیا ہے کہ مائی آئی ایم ایم ایس (ملائیشین امیگریشن سسٹم) میں مبینہ غیر قانو...
کوالالمپور: ملائیشیا کے امیگریشن ڈیپارٹمنٹ (جے آئی ایم) نے انکشاف کیا ہے کہ مائی آئی ایم ایم ایس (ملائیشین امیگریشن سسٹم) میں مبینہ غیر قانونی رسائی حاصل کرنے کے لیے ایک گروہ نے خصوصی یو ایس بی ڈونگلز اور جعلی یوزر آئی ڈیز کا استعمال کیا، جس کے نتیجے میں ایک ہزار سے زائد عارضی ملازمتی وزٹ پاس (پی ایل کے ایس) غیر قانونی طور پر منظور کیے گئے۔ ابتدائی تحقیقات کے مطابق اس کارروائی سے حکومت کو تقریباً 2.4 ملین رنگٹ کا مالی نقصان پہنچا۔
امیگریشن ڈیپارٹمنٹ کے ڈائریکٹر جنرل داتوک ذکریا شعبان نے بتایا کہ خصوصی یو ایس بی ڈونگل اس مبینہ کارروائی کا بنیادی ذریعہ تھا۔ ان کے مطابق بیرونی ایجنٹس نے یہ ڈونگلز امیگریشن افسران کو فراہم کیے، جنہوں نے انہیں اپنے دفتری کمپیوٹرز سے منسلک کر کے سسٹم تک غیر قانونی رسائی حاصل کی۔
ذکریا شعبان نے کہا کہ یو ایس بی ڈونگل کے ذریعے رسائی حاصل کرنے کے بعد مبینہ طور پر جعلی یوزر آئی ڈیز تیار کی گئیں، جنہیں استعمال کرتے ہوئے پی ایل کے ایس درخواستوں کی منظوری دی جاتی تھی۔ ان کے مطابق اگر یہ ڈونگل استعمال نہ کیے جاتے تو یہ مبینہ سرگرمی ممکن نہ تھی، اور تحقیقات میں بعض امیگریشن افسران کے ملوث ہونے کی تصدیق بھی ہو چکی ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ اس مبینہ نیٹ ورک کا سراغ مئی 2026 میں انٹیلی جنس معلومات کے ذریعے ملا۔ اس کے بعد امیگریشن ڈیپارٹمنٹ نے سائبر سیکورٹی ملائیشیا کے ساتھ مل کر تحقیقات اور تکنیکی جانچ کا آغاز کیا، جبکہ بعد میں ملائیشین انسدادِ بدعنوانی کمیشن (ایم اے سی سی) بھی اس مشترکہ تحقیقات میں شامل ہو گیا۔
ڈائریکٹر جنرل نے کہا کہ تفتیش ابھی جاری ہے، اس لیے نیٹ ورک کے طریقہ کار سے متعلق مزید تفصیلات فی الحال ظاہر نہیں کی جا سکتیں تاکہ تحقیقات متاثر نہ ہوں۔
دوسری جانب ایم اے سی سی نے "آپریشن کریک" کے تحت اس مبینہ گروہ کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے 12 افراد کو گرفتار کیا۔ ایم اے سی سی کے چیف کمشنر تن سری عبدالحلیم امان کے مطابق گرفتار ہونے والوں میں دو کمپنی ڈائریکٹرز، تین غیر ملکی شہری، چار امیگریشن افسران، امیگریشن ڈیپارٹمنٹ کے آئی ٹی ڈویژن کے دو افسران اور ایک پولیس افسر شامل ہیں۔
تمام مشتبہ افراد کی عمریں تقریباً 30 سے 40 سال کے درمیان ہیں۔ انہیں منگل کے روز دوپہر 2 بجے سے شام 5 بجے کے درمیان ایم اے سی سی ہیڈکوارٹر اور پینانگ امیگریشن ڈیپارٹمنٹ سے گرفتار کیا گیا۔
ابتدائی تحقیقات کے مطابق گروہ نے 2011 کے غیر استعمال شدہ پی ایل کے ایس کوٹے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے مطلوبہ لیوی ادا کیے بغیر 1,306 جعلی پی ایل کے ایس جاری کیے۔ ایم اے سی سی کے مطابق اس مبینہ فراڈ کے نتیجے میں حکومت کو تقریباً 2.4 ملین رنگٹ کا مالی نقصان پہنچا۔
تحقیقات سے یہ بھی معلوم ہوا کہ یہ کارروائی کئی ماہ تک جاری رہنے والی انٹیلی جنس معلومات کے تبادلے کے بعد ممکن ہوئی۔ ایم اے سی سی کے انٹیلی جنس ڈویژن اور امیگریشن ڈیپارٹمنٹ کے انٹیلی جنس یونٹ نے مئی سے وادی کلانگ اور پینانگ میں اس نیٹ ورک کی سرگرمیوں کی نگرانی کی تھی۔
اس مشترکہ آپریشن میں سائبر سیکورٹی ملائیشیا، ٹیلی کام ملائشیا اور ایم اے سی سی کے ٹیکنالوجی فارینزک ڈیویژن نے بھی تکنیکی معاونت فراہم کی۔ مزید شواہد اکٹھے کرنے کے لیے مختلف کمپنیوں کے دفاتر اور پینانگ و پوتراجایا میں امیگریشن دفاتر پر بھی چھاپے مارے گئے۔
یہ مقدمہ ملائیشین اینٹی کرپشن کمیشن ایکٹ 2009 کی دفعات 17(اے) اور 16(اے) کے تحت زیرِ تفتیش ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ تحقیقات مکمل ہونے کے بعد مزید قانونی اور انتظامی اقدامات کیے جا سکتے ہیں۔
مائی آئی ایم ایم ایس ملائیشیا کا مرکزی امیگریشن سسٹم ہے، جس کے ذریعے ورک پرمٹس، ویزوں اور دیگر امیگریشن درخواستوں پر کارروائی کی جاتی ہے۔ جبکہ پی ایل کے ایس غیر ملکی کارکنوں کو مخصوص شعبوں میں قانونی طور پر کام کرنے کی اجازت دیتا ہے۔ اسی وجہ سے اس نظام کی سیکیورٹی کو انتہائی اہم سمجھا جاتا ہے، اور کسی بھی قسم کی غیر قانونی مداخلت حکومتی نظام، قومی سلامتی اور مالی وسائل پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔

COMMENTS