ملائیشیا کے وزیر برائے انسانی وسائل داتوک سری آر رمانن نے کہا ہے کہ اب غیر قانونی یا غیر دستاویزی غیر ملکی کارکنوں کو ملازمت پر رکھنے کا ک...
ملائیشیا کے وزیر برائے انسانی وسائل داتوک سری آر رمانن نے کہا ہے کہ اب غیر قانونی یا غیر دستاویزی غیر ملکی کارکنوں کو ملازمت پر رکھنے کا کوئی جواز باقی نہیں رہا، کیونکہ غیر ملکی کارکنوں کے کوٹے کے لیے درخواست دینے کا پورا نظام مکمل طور پر آن لائن کر دیا گیا ہے۔ ان کے مطابق نئی ڈیجیٹل پالیسی کے بعد تمام درخواستیں ایک شفاف نظام کے ذریعے نمٹائی جائیں گی اور خصوصی منظوری یا انفرادی بنیاد پر رعایت کی گنجائش ختم کر دی گئی ہے۔
کوالالمپور میں وسما ایچ آر ڈی کارپ میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر نے بتایا کہ غیر ملکی کارکنوں کے انتظام کے لیے قائم ون اسٹاپ سینٹر کو وزارتِ انسانی وسائل کے تحت منتقل کر دیا گیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد درخواستوں کے عمل کو آسان، شفاف اور تیز بنانا ہے، جبکہ انسانی مداخلت کو کم سے کم سطح پر لانا بھی اس منصوبے کا اہم حصہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ ماضی میں بعض آجر یہ مؤقف اختیار کرتے تھے کہ درخواستوں کے پیچیدہ طریقہ کار، طویل انتظار اور دستی کارروائیوں کی وجہ سے انہیں غیر قانونی کارکن رکھنے پر مجبور ہونا پڑتا تھا، لیکن اب ایسا کوئی عذر قابل قبول نہیں ہوگا۔ ان کے مطابق تمام درخواستیں فارین ورکرز سینٹرلائزڈ منیجمنٹ سسٹم کے ذریعے جمع کرائی جائیں گی اور اسی نظام کے تحت ان پر کارروائی کی جائے گی۔
وزیر نے بتایا کہ اس وقت 22,476 زیر التوا درخواستیں موجود ہیں، جو 548 کمپنیوں سے متعلق ہیں۔ ان تمام درخواستوں پر نئے آن لائن نظام کے ذریعے کارروائی کی جا رہی ہے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ اس سے قبل زیر التوا درخواستوں کی تعداد تقریباً 19 ہزار بتائی گئی تھی، تاہم تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق یہ تعداد بڑھ کر 22,476 ہو چکی ہے۔
داتوک سری آر رمانن کے مطابق وزارتِ معیشت کی جانب سے مختلف شعبوں کے لیے 1 لاکھ 30 ہزار سے زائد غیر ملکی کارکنوں کی بھرتی کی حد مقرر کی گئی ہے۔ تاہم ہر درخواست کی منظوری متعلقہ شعبے اور ذیلی شعبے کی حقیقی ضرورت کے مطابق دی جائے گی، اس لیے ہر درخواست خودکار طور پر منظور نہیں ہوگی۔
انہوں نے واضح کیا کہ غیر ملکی کارکن بھرتی کرنے سے پہلے ہر آجر کے لیے ضروری ہے کہ وہ ایمپلائمنٹ ایکٹ 1955 کی دفعہ 60کے کے تحت منظوری حاصل کرے۔ اس کے علاوہ ملازمت کا اشتہار پہلے مائی فیوچر جاب پورٹل پر جاری کرنا ہوگا تاکہ مقامی شہریوں کو ملازمت کا موقع فراہم کیا جا سکے۔ اگر مناسب مقامی امیدوار دستیاب نہ ہوں، تب ہی غیر ملکی کارکنوں کی بھرتی کے لیے درخواست دی جا سکتی ہے۔
وزیر نے زور دیتے ہوئے کہا کہ حکومت کی اولین ترجیح ملائیشین شہریوں کو روزگار فراہم کرنا ہے۔ ان کے مطابق غیر ملکی کارکن صرف اس صورت میں بھرتی کیے جائیں گے جب مقامی افرادی قوت دستیاب نہ ہو۔ اس پالیسی کا مقصد مقامی ملازمتوں کا تحفظ اور لیبر مارکیٹ میں توازن برقرار رکھنا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ نئے نظام کے بعد کسی بھی آجر کو وزیر، نائب وزیر، وزارت کے سیکریٹری جنرل یا دیگر اعلیٰ حکام سے رابطہ کرنے، ملاقات کی درخواست دینے یا خصوصی کوٹے کی سفارش حاصل کرنے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ تمام درخواستیں ایک ہی ڈیجیٹل نظام کے ذریعے جمع ہوں گی اور میرٹ کی بنیاد پر ان پر فیصلہ کیا جائے گا۔
آر رمانن کے مطابق نیا نظام درخواست گزاروں کے لیے ملاقات کی تاریخ، انٹرویو اور دیگر مراحل خودکار طریقے سے طے کرے گا، جس سے انسانی مداخلت نہ ہونے کے برابر رہ جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ پرانے دستی نظام میں لمبی قطاریں، بار بار دفاتر کے چکر لگانے اور جلدی نمبر حاصل کرنے کے لیے غیر ضروری ذرائع اختیار کرنے جیسی شکایات سامنے آتی تھیں، لیکن نئے آن لائن طریقہ کار سے ان مسائل کا خاتمہ ہو جائے گا۔
انہوں نے خبردار کیا کہ محکمہ محنت آئندہ بھی اجرت، رہائش اور کارکنوں کی فلاح و بہبود سے متعلق قوانین پر سختی سے عمل درآمد کرائے گا، جبکہ بغیر قانونی دستاویزات کے کارکن رکھنے والے آجروں کے خلاف امیگریشن ایکٹ کے تحت بھی کارروائی کی جا سکتی ہے۔
وزیر نے یہ بھی واضح کیا کہ غیر ملکی کارکنوں کے ورک پرمٹ اور امیگریشن پاس جاری کرنے کا حتمی اختیار وزارتِ داخلہ کے پاس ہی رہے گا، جو سیکیورٹی یا دیگر قانونی وجوہات کی بنیاد پر کسی بھی درخواست کو مسترد کر سکتی ہے۔
یہ نیا آن لائن نظام ملائیشیا میں غیر ملکی کارکنوں کی بھرتی کے عمل کو مزید شفاف، منظم اور مؤثر بنانے کی حکومتی کوششوں کا حصہ ہے۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ اس اصلاحات کے بعد غیر قانونی کارکنوں کی ملازمت کے لیے کسی قسم کا جواز باقی نہیں رہتا اور تمام آجر قانونی طریقہ کار پر عمل کرنے کے پابند ہیں۔

COMMENTS