ملائیشیا کی پام آئل صنعت میں غیر ملکی کارکنوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہونے کے باوجود افرادی قوت کی کمی کا مسئلہ برقرار ہے۔ حکومت کا کہنا ہ...
ملائیشیا کی پام آئل صنعت میں غیر ملکی کارکنوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہونے کے باوجود افرادی قوت کی کمی کا مسئلہ برقرار ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے آٹومیشن، میکانائزیشن اور مقامی کارکنوں کی مہارت میں اضافے پر توجہ دی جا رہی ہے تاکہ مستقبل میں دستی مزدوری اور غیر ملکی لیبر پر انحصار بتدریج کم کیا جا سکے۔
ملائیشیا کی وزارت پلانٹیشن و کموڈیٹیز کے مطابق اس وقت پام آئل کے شعبے میں کام کرنے والے 70 فیصد سے زیادہ کارکن غیر ملکی ہیں۔ ان میں سے زیادہ تر تازہ پام پھلوں کی کٹائی اور جمع کرنے جیسے کام انجام دیتے ہیں، جنہیں عموماً "3 ڈی جابز" یعنی مشکل، خطرناک اور غیر پسندیدہ نوعیت کے کام سمجھا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مقامی افراد کی بڑی تعداد ان ملازمتوں میں دلچسپی نہیں لیتی۔
وزارت نے دیوان نگارا میں تحریری جواب دیتے ہوئے بتایا کہ کووڈ-19 وبا کے دوران غیر ملکی کارکنوں کے ملک میں داخلے پر پابندیوں کے باعث افرادی قوت کی شدید کمی پیدا ہوئی تھی۔ اس کے نتیجے میں پام پھلوں کی کٹائی متاثر ہوئی اور ملکی پام آئل کی پیداوار بھی کم ہوئی۔
اعداد و شمار کے مطابق پلانٹیشن سیکٹر میں عارضی ورک پرمٹ (پی ایل کے ایس) رکھنے والے غیر ملکی کارکنوں کی تعداد گزشتہ چند برسوں میں مسلسل بڑھی ہے۔ سال 2022 میں یہ تعداد 173,696 تھی، جو 2023 میں بڑھ کر 244,151، 2024 میں 260,192 اور 2025 میں 267,750 تک پہنچ گئی۔ وزارت کے مطابق 30 اپریل 2026 تک یہ تعداد مزید بڑھ کر 268,691 ہو گئی۔
تاہم وزارت کا کہنا ہے کہ اس اضافے کے باوجود صنعت کی افرادی قوت کی ضرورت مکمل طور پر پوری نہیں ہو سکی۔ اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ بعض غیر ملکی کارکن اپنے معاہدے مکمل ہونے کے بعد اپنے آبائی ممالک واپس چلے جاتے ہیں، جبکہ کچھ کارکن ملازمت چھوڑ کر غائب ہو جاتے ہیں، جس سے لیبر کی کمی برقرار رہتی ہے۔
وزارت نے وضاحت کی کہ مزدوروں کی یہ کمی خاص طور پر پام پھلوں کی کٹائی اور جمع کرنے کے عمل کو متاثر کرتی ہے، جو براہ راست ملکی پام آئل کی پیداوار سے منسلک ہے۔ اگر ان مراحل میں افرادی قوت کم ہو تو مجموعی پیداوار بھی متاثر ہو سکتی ہے۔
اس مسئلے کے حل کے لیے وزارت نے سال 2026 کے لیے غیر ملکی کارکنوں کے نئے کوٹے کی منظوری کی درخواست وزارت انسانی وسائل اور وزارت داخلہ کو ارسال کی ہے تاکہ جہاں ضرورت ہو وہاں افرادی قوت کی کمی پوری کی جا سکے۔
اس کے ساتھ ساتھ حکومت مقامی افرادی قوت کو تیار کرنے پر بھی کام کر رہی ہے۔ اس مقصد کے لیے ملائشین انسٹیٹیوٹ آف پلانٹیشن اینڈ کموڈیٹیز (آئی ایم پی اے سی) کے ذریعے زرعی شعبے سے متعلق ٹیکنیکل اینڈ ووکیشنل ایجوکیشن اینڈ ٹریننگ (ٹی وی ای ٹی) پروگرامز فراہم کیے جا رہے ہیں۔ ان پروگرامز میں آپریشنز اینڈ میکنائزیش کورس (کے او ایم ایل)، ہارویسٹنگ سپیشلسٹ اور مشین سپیشلسٹ جیسے کورسز شامل ہیں، جن کا مقصد مقامی کارکنوں کو جدید مہارتوں سے آراستہ کرنا ہے تاکہ وہ اس صنعت میں مؤثر کردار ادا کر سکیں۔
وزارت نے یہ بھی بتایا کہ پام آئل صنعت میں میکانائزیشن، آٹومیشن اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے استعمال کو تیز کیا جا رہا ہے۔ اس مقصد کے لیے پالم آئل میکنائزیش اینڈ آٹومیشن ریسرچ کنسورشیم کے تحت مختلف اقدامات کیے جا رہے ہیں تاکہ پیداواری صلاحیت میں اضافہ ہو اور دستی مزدوری پر انحصار کم کیا جا سکے۔
مزید برآں حکومت صنعت سے وابستہ اداروں میں ذمہ دارانہ لیبر پریکٹسز کو فروغ دینے کے لیے آگاہی پروگرام بھی چلا رہی ہے۔ اس کے علاوہ ملائشین سسٹین ایبل پالم آئل 2.0 معیار پر عمل درآمد کو مزید مضبوط بنایا جا رہا ہے تاکہ صنعت میں پائیدار اور منظم افرادی قوت کا نظام قائم کیا جا سکے۔
وزارت کے مطابق یہ تمام اقدامات مرحلہ وار غیر ملکی کارکنوں پر انحصار کم کرنے میں مدد دیں گے، جبکہ اس بات کو بھی یقینی بنایا جائے گا کہ ملائیشیا کی پام آئل صنعت کی پیداوار اور عالمی مسابقت متاثر نہ ہو۔

COMMENTS