ملائیشیا میں غیر قانونی تارکین وطن کا مسئلہ وقتاً فوقتاً خبروں میں آتا رہتا ہے، خاص طور پر جب امیگریشن حکام مختلف مقامات پر چھاپے مار کر غی...
ملائیشیا میں غیر قانونی تارکین وطن کا مسئلہ وقتاً فوقتاً خبروں میں آتا رہتا ہے، خاص طور پر جب امیگریشن حکام مختلف مقامات پر چھاپے مار کر غیر قانونی دستاویزات رکھنے والے غیر ملکی کارکنوں کو گرفتار کرتے ہیں۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ مسئلہ صرف قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارروائیوں تک محدود نہیں بلکہ اس کے معاشی، سماجی، سفارتی اور علاقائی پہلو بھی ہیں، جنہیں نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
ملائیشیا میں غیر قانونی طور پر مقیم غیر ملکیوں کی درست تعداد کے بارے میں مختلف اندازے موجود ہیں۔ بعض تخمینوں کے مطابق یہ تعداد تقریباً 10 لاکھ ہے، جبکہ بعض دیگر اندازوں میں یہ تعداد کئی ملین تک بتائی جاتی ہے۔ یہی فرق اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ اس مسئلے کی درست پیمائش کرنا بھی ایک بڑا چیلنج ہے۔ تاہم اس بات پر عمومی اتفاق پایا جاتا ہے کہ غیر قانونی تارکین وطن کا معاملہ ملک کے تعمیراتی شعبے، باغات، فیکٹریوں، ریستورانوں اور دیگر کئی صنعتوں سے براہ راست جڑا ہوا ہے۔
صرف سیکیورٹی نہیں، انسانی پہلو بھی اہم
ماہرین کے مطابق غیر قانونی طور پر مقیم تمام افراد کو مجرم قرار دینا درست نہیں ہوگا۔ ان میں بڑی تعداد ایسے مزدوروں، گھریلو ملازمین، باورچیوں، صفائی کے کارکنوں اور دیگر محنت کشوں کی ہے جو بہتر روزگار کی امید میں ملائیشیا پہنچے۔ بعض افراد بھرتی کرنے والے ایجنٹوں کے جھوٹے وعدوں کا شکار ہوئے، جبکہ کچھ کے پاسپورٹ آجر نے اپنے پاس رکھ لیے۔ اسی طرح میانمار جیسے ممالک میں جاری سیاسی بحران کے باعث بعض افراد جان بچانے کے لیے نقل مکانی پر مجبور ہوئے۔
اسی لیے ماہرین کا کہنا ہے کہ انسانی ہمدردی کے پہلو کو نظر انداز کیے بغیر قانون پر عمل درآمد کرنا ضروری ہے تاکہ ملائیشیا کی بین الاقوامی ساکھ بھی متاثر نہ ہو۔
علاقائی سلامتی اور سرحدی چیلنجز
ملائیشیا جنوب مشرقی ایشیا کے اہم بحری راستوں پر واقع ہے، جہاں قانونی اور غیر قانونی نقل و حرکت مسلسل جاری رہتی ہے۔ جب قانونی ذرائع سے مزدوروں کی بھرتی پیچیدہ یا مہنگی ہو جاتی ہے تو انسانی اسمگلنگ اور غیر قانونی نقل مکانی میں ملوث گروہ اس خلا سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔
سال 2021 کے بعد میانمار میں پیدا ہونے والی سیاسی صورتحال کے باعث بھی پناہ گزینوں کی تعداد میں اضافہ ہوا، جس سے آسیان ممالک کے لیے مشترکہ حکمت عملی اختیار کرنے کی ضرورت مزید نمایاں ہوئی۔ ماہرین کے مطابق صرف گرفتاریاں اور ملک بدری جیسے اقدامات طویل المدت حل فراہم نہیں کرتے بلکہ بعض اوقات سفارتی تعلقات پر بھی اثر انداز ہو سکتے ہیں۔
معیشت میں غیر ملکی کارکنوں کا کردار
ملائیشیا کی معیشت میں غیر ملکی کارکن اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ تعمیرات، شجرکاری، مینوفیکچرنگ اور گھریلو خدمات جیسے شعبے بڑی حد تک انہی کارکنوں پر انحصار کرتے ہیں۔ چونکہ غیر قانونی کارکنوں کو قانونی تحفظ حاصل نہیں ہوتا، اس لیے وہ اکثر کم اجرت پر کام کرنے پر مجبور ہوتے ہیں، جس کا اثر مقامی مزدوروں کی اجرت اور روزگار کے حالات پر بھی پڑ سکتا ہے۔
دوسری جانب بڑے پیمانے پر کیے جانے والے چھاپے اور گرفتاریاں حکومت کے لیے بھی مہنگا عمل ثابت ہوتے ہیں۔ بعض اوقات کسی فیکٹری یا باغات سے بڑی تعداد میں کارکنوں کی گرفتاری سے پیداواری سرگرمیاں متاثر ہو جاتی ہیں، جس کے معاشی اثرات بھی سامنے آتے ہیں۔
سفارت کاری سے کیا سیکھا جا سکتا ہے؟
بین الاقوامی تعلقات اور سفارت کاری کے ماہرین کے مطابق اس مسئلے کا پائیدار حل صرف سخت کارروائیوں میں نہیں بلکہ علاقائی تعاون اور بہتر پالیسی سازی میں پوشیدہ ہے۔
ان کے مطابق سب سے پہلے ان ممالک، جیسے انڈونیشیا، بنگلہ دیش اور نیپال، کے ساتھ کیے گئے لیبر معاہدوں پر مؤثر عمل درآمد یقینی بنایا جانا چاہیے۔ بھرتی کرنے والے ایجنٹس کی نگرانی سخت کی جائے اور قانونی بھرتی کے اخراجات کم کیے جائیں تاکہ غیر قانونی راستوں کی حوصلہ شکنی ہو۔
دوسرا اہم نکتہ یہ ہے کہ انسانی اسمگلنگ اور غیر قانونی نقل مکانی جیسے مسائل صرف ایک ملک کے نہیں بلکہ پورے خطے کے مشترکہ چیلنج ہیں۔ اس لیے آسیان ممالک کے درمیان مشترکہ انٹیلی جنس شیئرنگ، سرحدی نگرانی اور عملی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔
رجسٹریشن پروگرام بھی ایک ممکنہ راستہ
ماہرین یہ بھی تجویز دیتے ہیں کہ طویل عرصے سے ملائیشیا میں مقیم بعض غیر قانونی کارکنوں کے لیے محدود شرائط کے ساتھ رجسٹریشن یا قانونی حیثیت حاصل کرنے کے پروگرام متعارف کرائے جا سکتے ہیں، جیسا کہ ماضی میں 6پی پروگرام کے ذریعے کیا گیا تھا۔ ایسے اقدامات سے حکومت کو کارکنوں کا ریکارڈ رکھنے، ٹیکس نظام کو بہتر بنانے اور مزدوروں کے تحفظ کو یقینی بنانے میں مدد مل سکتی ہے۔
قانون کا نفاذ اور انسانی رویہ ساتھ ساتھ
ماہرین اس بات پر زور دیتے ہیں کہ انسانی اسمگلروں، جعلی دستاویزات بنانے والوں اور مزدوروں کا استحصال کرنے والے آجروں کے خلاف سخت قانونی کارروائی ضروری ہے۔ تاہم لاکھوں عام غیر قانونی کارکنوں کے معاملے میں صرف چھاپے اور گرفتاریاں کافی نہیں۔ ایک ایسی پالیسی کی ضرورت ہے جس میں قانون پر عمل درآمد، انسانی حقوق، معاشی ضروریات اور سفارتی تعاون کے درمیان متوازن حکمت عملی اختیار کی جائے۔

COMMENTS