ملائیشیا کی حکومت غیر ملکی کارکنوں کی آمد کے بعد ان کی نگرانی، سکیورٹی کو بہتر بنانے اور ہوائی اڈوں پر رش کم کرنے کے لیے نئے ٹرانزٹ سینٹرز ...
ملائیشیا کی حکومت غیر ملکی کارکنوں کی آمد کے بعد ان کی نگرانی، سکیورٹی کو بہتر بنانے اور ہوائی اڈوں پر رش کم کرنے کے لیے نئے ٹرانزٹ سینٹرز قائم کرنے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے۔ مجوزہ منصوبے کے تحت ایسا ٹرانزٹ سینٹر بنایا جائے گا جہاں ایک وقت میں تقریباً 1,000 سے 2,000 غیر ملکی کارکنوں کو عارضی طور پر رکھا جا سکے گا، جب تک کہ ان کے رجسٹرڈ آجر انہیں وصول نہ کر لیں۔
ملائیشیا کے وزیر برائے انسانی وسائل آر. رامانن نے 6 جولائی کو بتایا کہ اس منصوبے کا مقصد ملک میں آنے والے غیر ملکی کارکنوں کی نقل و حرکت پر بہتر نگرانی رکھنا اور انہیں غیر مجاز افراد کے ذریعے لے جانے جیسے معاملات کی روک تھام کرنا ہے۔ ان کے مطابق کارکنوں کو ملائیشیا پہنچنے کے فوراً بعد ٹرانزٹ سینٹر منتقل کیا جائے گا، جہاں سے صرف ان کے رجسٹرڈ آجر انہیں وصول کر سکیں گے۔
وزیر نے کہا کہ کابینہ نے وزارتِ انسانی وسائل کو ہدایت دی ہے کہ وہ اس تجویز کا تفصیلی جائزہ لے اور اسے ملائیشیا کے غیر ملکی افرادی قوت کے انتظامی نظام میں بہتری کے وسیع منصوبے کا حصہ بنائے۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ اس اقدام سے نہ صرف غیر ملکی کارکنوں کی آمد کا عمل زیادہ منظم ہوگا بلکہ بین الاقوامی ہوائی اڈوں پر بھی رش کم کرنے میں مدد ملے گی۔
وزارتِ انسانی وسائل اس وقت متعلقہ سرکاری اداروں کے ساتھ مل کر ٹرانزٹ سینٹر کے لیے موزوں مقامات کی نشاندہی کر رہی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ حکومت ان ممالک سے بھی مشاورت جاری رکھے گی جہاں سے بڑی تعداد میں کارکن ملائیشیا آتے ہیں۔ یہ رابطے موجودہ سفارتی ذرائع کے ذریعے کیے جائیں گے تاکہ نئے نظام پر بہتر تعاون حاصل کیا جا سکے۔
آر. رامانن نے بتایا کہ حکومت ایسے ممالک کے تجربات کا بھی جائزہ لے گی جہاں غیر ملکی کارکنوں کی آمد اور انتظام کے مؤثر نظام پہلے سے موجود ہیں۔ ان میں سنگاپور، جنوبی کوریا اور مشرقِ وسطیٰ کے چند ممالک شامل ہیں۔ ان ممالک کے کامیاب ماڈلز کا مطالعہ کر کے ملائیشیا اپنے لیے ایک ایسا نظام تشکیل دینا چاہتا ہے جو مقامی ضروریات کے مطابق مؤثر ثابت ہو۔
وزیر نے ایک اور اہم معاملے پر بھی حکومت کا مؤقف واضح کیا۔ انہوں نے کہا کہ ایسے آجر جو غیر ملکی کارکنوں کو قانون کے مطابق رہائش فراہم نہیں کرتے اور انہیں غیر قانونی بستیوں یا نامناسب رہائشی مقامات پر رہنے پر مجبور کرتے ہیں، ان کے خلاف کارروائی جاری رکھی جائے گی۔
انہوں نے زور دیا کہ وزارتِ انسانی وسائل موجودہ قوانین پر سختی سے عمل درآمد کرے گی تاکہ ہر آجر اپنی قانونی ذمہ داری پوری کرے اور غیر ملکی کارکنوں کو مناسب، محفوظ اور قانون کے مطابق رہائش فراہم کرے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ کارکنوں کی فلاح و بہبود اور رہائشی معیار میں بہتری بھی غیر ملکی افرادی قوت کے انتظام کا اہم حصہ ہے۔
ملائیشیا گزشتہ کئی برسوں سے مختلف شعبوں، خصوصاً تعمیرات، مینوفیکچرنگ، زراعت، خدمات اور گھریلو ملازمتوں میں غیر ملکی کارکنوں پر انحصار کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حکومت وقتاً فوقتاً امیگریشن، بھرتی کے طریقہ کار، رہائش اور نگرانی سے متعلق پالیسیوں میں تبدیلیاں متعارف کراتی رہی ہے تاکہ نظام کو زیادہ شفاف، محفوظ اور مؤثر بنایا جا سکے۔
مجوزہ ٹرانزٹ سینٹر بھی اسی سلسلے کی ایک نئی تجویز ہے، جس کا بنیادی مقصد غیر ملکی کارکنوں کی ملک میں آمد کے ابتدائی مرحلے کو بہتر انداز میں منظم کرنا، سکیورٹی کو مضبوط بنانا، غیر قانونی سرگرمیوں کے امکانات کو کم کرنا اور متعلقہ اداروں کے درمیان بہتر رابطہ قائم کرنا ہے۔ تاہم اس منصوبے پر حتمی عمل درآمد سے قبل حکومت مختلف سرکاری اداروں اور متعلقہ ممالک سے مزید مشاورت اور تفصیلی جائزہ مکمل کرے گی۔

COMMENTS