ملائیشیا کے وزیر انسانی وسائل داتوک سری آر رمنن نے کہا ہے کہ ملک میں دستیاب ملازمتوں پر سب سے پہلے ملائیشیائی شہریوں کو ترجیح دی جائے گی۔ ا...
ملائیشیا کے وزیر انسانی وسائل داتوک سری آر رمنن نے کہا ہے کہ ملک میں دستیاب ملازمتوں پر سب سے پہلے ملائیشیائی شہریوں کو ترجیح دی جائے گی۔ ان کے مطابق اگر کسی ملازمت کے لیے مقامی امیدوار دستیاب نہ ہوں، تب ہی قانون کے مطابق غیر ملکی کارکنوں کی بھرتی کی اجازت دی جائے گی۔
سریمبان میں انڈین کمیونٹی سوشیو اکنامک ڈویلپمنٹ پروگرام کے دورے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر نے کہا کہ وزارت انسانی وسائل کی بنیادی ترجیح مقامی افراد کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کرنا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ حکومت کی پالیسی یہی ہے کہ ہر نئی ملازمت پہلے ملائیشیائی شہریوں کو پیش کی جائے۔
انہوں نے کہا، "بطور وزیر انسانی وسائل میری اولین ترجیح ملائیشیائی شہریوں کے لیے ملازمتیں ہیں۔ اگر کسی اسامی کے لیے مقامی افراد دستیاب نہ ہوں تو پھر ملکی قوانین اور ضوابط کے مطابق غیر ملکی کارکنوں کی بھرتی کی جا سکتی ہے۔"
وزیر سے یہ سوال اس تجویز کے حوالے سے کیا گیا تھا جس میں کہا گیا ہے کہ ملائیشیا میں قانونی طور پر تسلیم شدہ روہنگیا پناہ گزینوں کو بھی ملازمت کی اجازت دی جائے۔ اس پر انہوں نے دوبارہ زور دیا کہ حکومت کا بنیادی مقصد پہلے مقامی افرادی قوت کو روزگار فراہم کرنا ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ وزارت غیر ملکی کارکنوں کی بھرتی کے لیے درخواستوں کے عمل کو مزید آسان اور تیز بنانے پر کام کر رہی ہے، خاص طور پر سروس سیکٹر میں جہاں کئی شعبوں کو افرادی قوت کی کمی کا سامنا ہے۔ یہ اقدام وزیراعظم داتوک سری انور ابراہیم کی اس ہدایت کے بعد کیا جا رہا ہے جس میں متعلقہ وزارتوں کو غیر ملکی کارکنوں کی بھرتی کے معاملات جلد نمٹانے کا کہا گیا تھا۔
رمنن نے کہا کہ انہوں نے وزارت کے تمام متعلقہ محکموں کو غیر ضروری دفتری کارروائی کم کرنے اور درخواستوں کی منظوری میں تاخیر سے بچنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔ ان کے مطابق حکومت اس پورے عمل کو زیادہ مؤثر اور تیز بنانا چاہتی ہے تاکہ جن شعبوں کو واقعی کارکنوں کی ضرورت ہے وہاں قانونی طریقے سے بھرتی مکمل ہو سکے۔
انہوں نے بتایا کہ اگرچہ وزیراعظم نے اس معاملے کو حل کرنے کے لیے 30 دن کی مدت مقرر کی ہے، تاہم وزارت کوشش کر رہی ہے کہ ضروری کارروائی 20 دن کے اندر مکمل کر لی جائے۔ البتہ انہوں نے واضح کیا کہ اس دوران انسانی وسائل، سیکیورٹی جانچ اور دیگر قانونی مراحل بھی مکمل کرنا ضروری ہوں گے۔
گزشتہ جمعہ وزیراعظم انور ابراہیم نے وزارت انسانی وسائل اور متعلقہ اداروں کو ہدایت دی تھی کہ خاص طور پر ریستورانوں کے شعبے میں غیر ملکی کارکنوں کی بھرتی سے متعلق زیر التوا درخواستیں ایک ماہ کے اندر نمٹائی جائیں۔ حکومت کا کہنا ہے کہ ریستوران انڈسٹری سمیت کئی شعبوں میں افرادی قوت کی ضرورت موجود ہے، لیکن غیر ملکی کارکنوں کی بھرتی ہر صورت میں ملکی قوانین کے مطابق ہی کی جائے گی۔
ملائیشیا میں غیر ملکی کارکنوں کی تعداد کے حوالے سے بھی واضح پالیسی موجود ہے۔ موجودہ ضابطوں کے تحت ملک میں غیر ملکی کارکنوں کی مجموعی تعداد ایک مقررہ حد سے زیادہ نہیں ہو سکتی۔ بارہویں ملائیشیا پلان (12ایم پی) کے مطابق غیر ملکی کارکن قومی افرادی قوت کے 15 فیصد سے زیادہ نہیں ہونے چاہئیں، جبکہ تیرہویں ملائیشیا پلان (13ایم پی) کا ہدف ہے کہ 2030 تک اس تناسب کو کم کر کے 10 فیصد تک لایا جائے۔
حکومت کا مؤقف ہے کہ اس پالیسی کا مقصد ایک طرف مقامی شہریوں کے لیے روزگار کے مواقع محفوظ رکھنا ہے، جبکہ دوسری جانب جن شعبوں میں افرادی قوت کی حقیقی کمی موجود ہو وہاں قانونی طریقہ کار کے تحت غیر ملکی کارکنوں کی ضرورت بھی پوری کی جا سکے۔

COMMENTS