ملائیشیا کی حکومت نے بتایا ہے کہ 15 مئی 2025 سے شروع کیے گئے مائیگرنٹ ریپیٹری ایشن پروگرام کے تحت اب تک 2 لاکھ 42 ہزار 63 غیر قانونی تارک...
ملائیشیا کی حکومت نے بتایا ہے کہ 15 مئی 2025 سے شروع کیے گئے مائیگرنٹ ریپیٹری ایشن پروگرام کے تحت اب تک 2 لاکھ 42 ہزار 63 غیر قانونی تارکین وطن کو ان کے آبائی ممالک واپس بھیجا جا چکا ہے۔ یہ اعداد و شمار جون 2026 تک کی مدت پر مبنی ہیں اور پارلیمنٹ کے ایوانِ زیریں (دیوان راکیت) میں پیش کیے گئے۔
ملائیشیا کے نائب وزیرِ داخلہ داتوک سری ڈاکٹر شمسُل انور نصارہ نے بتایا کہ اس پروگرام کے تحت مجموعی طور پر 2 لاکھ 64 ہزار 191 غیر ملکی شہریوں نے رجسٹریشن کرائی تھی، جن میں سے زیادہ تر افراد کو قانونی طریقہ کار مکمل ہونے کے بعد واپس بھیج دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ افراد 112 مختلف ممالک سے تعلق رکھتے تھے، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ملائیشیا میں غیر ملکی افرادی قوت کا دائرہ کافی وسیع ہے۔
نائب وزیر نے کہا کہ امیگریشن ڈیپارٹمنٹ آف ملائیشیا نے غیر قانونی تارکین وطن کے خلاف کارروائیاں مزید مؤثر بنانے کے لیے مختلف اقدامات کیے ہیں۔ ان میں ملک بھر میں نفاذِ قانون کی کارروائیاں، نگرانی، ریپیٹری ایشن پروگرام پر عمل درآمد اور دیگر سرکاری اداروں کے ساتھ قریبی تعاون شامل ہے۔
انہوں نے بتایا کہ یکم جنوری سے 15 جون 2026 کے درمیان امیگریشن حکام نے ملک بھر میں 5,470 نفاذی کارروائیاں کیں، جن کے دوران 76,608 افراد کی جانچ پڑتال کی گئی۔ ان کارروائیوں کا مقصد غیر قانونی طور پر مقیم یا کام کرنے والے غیر ملکیوں کی نشاندہی اور قوانین پر عمل درآمد کو یقینی بنانا تھا۔
شمسُل انور کے مطابق حکومت نے ان علاقوں میں بھی خصوصی توجہ دی ہے جہاں غیر ملکی شہریوں کی تعداد نسبتاً زیادہ ہے۔ اس سلسلے میں 2,528 معائنہ کارروائیاں کی گئیں، جن میں غیر ملکی کارکنوں کو ملازمت دینے والے ادارے، تعلیمی ادارے، کاروباری مراکز، تھوک مارکیٹیں اور رہائشی علاقے شامل تھے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ امیگریشن ڈیپارٹمنٹ نے دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ بھی مشترکہ کارروائیاں جاری رکھیں۔ اس دوران 470 مشترکہ آپریشنز پولیس، نیشنل رجسٹریشن ڈیپارٹمنٹ، مقامی حکومتوں اور دیگر متعلقہ اداروں کے ساتھ کیے گئے، جبکہ 71 اضافی مشترکہ کارروائیاں مقامی حکام کے تعاون سے غیر ملکی شہریوں کی غیر قانونی کاروباری سرگرمیوں کی روک تھام کے لیے انجام دی گئیں۔
پارلیمنٹ میں گفتگو کے دوران نائب وزیرِ داخلہ نے پولیس سے متعلق کچھ اعداد و شمار بھی پیش کیے۔ ان کے مطابق پولیس اہلکاروں کے خلاف درج فوجداری مقدمات کی تعداد 2023 میں 378 تھی، جو 2024 میں بڑھ کر 407 اور 2025 میں 463 ہو گئی۔
اسی طرح پولیس حراست میں اموات کے واقعات بھی گزشتہ تین برسوں میں بڑھے ہیں۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 2023 میں 12، 2024 میں 13 اور 2025 میں 22 اموات ریکارڈ کی گئیں۔
انہوں نے بتایا کہ انڈیپنڈنٹ پولیس کنڈکٹ کمیشن کو بھی موصول ہونے والی شکایات میں اضافہ دیکھا گیا۔ کمیشن کو 2023 میں 100، 2024 میں 338 اور 2025 میں 388 شکایات موصول ہوئیں۔ تاہم انہوں نے وضاحت کی کہ ان اعداد و شمار کو اس تناظر میں دیکھنا چاہیے کہ جولائی 2023 میں آئی پی سی سی کے قیام کے بعد شکایات درج کرنے کا نظام تبدیل ہوا اور اس نے سابقہ ادارے انفورسمنٹ ایجنسی انٹیگریٹی کمیشن کی بعض ذمہ داریاں سنبھال لیں۔
اظہارِ رائے اور پرامن اجتماع کے حق سے متعلق سوال کے جواب میں نائب وزیر نے کہا کہ سیڈیشن ایکٹ 1948 اب بھی ملک میں نافذ العمل ہے اور اشتعال انگیز تقاریر یا اقدامات کے خلاف قانونی کارروائی کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ کارروائی صرف اسی صورت میں کی جاتی ہے جب متعلقہ اداروں کے پاس کافی قانونی بنیاد موجود ہو۔
ان کے مطابق ایسے بیانات یا اقدامات جن میں اشتعال انگیزی، نسلی منافرت، تشدد پر اکسانا، عوامی امن کو خطرہ پہنچانا یا قومی سلامتی متاثر ہونے کا امکان ہو، ان کے خلاف موجودہ قوانین کے تحت کارروائی کی جا سکتی ہے۔
ملائیشیا گزشتہ کئی برسوں سے غیر ملکی کارکنوں کی بڑی تعداد کو مختلف شعبوں میں روزگار فراہم کرتا ہے، جس کے باعث حکومت وقتاً فوقتاً امیگریشن قوانین، رجسٹریشن، نگرانی اور رضاکارانہ واپسی کے پروگراموں کو مزید مؤثر بنانے کے اقدامات کرتی رہی ہے۔ موجودہ ریپیٹری ایشن پروگرام بھی اسی سلسلے کی ایک کوشش ہے جس کا مقصد غیر قانونی طور پر مقیم افراد کو قانونی طریقہ کار کے تحت اپنے ممالک واپس بھیجنا اور امیگریشن نظام کو زیادہ منظم بنانا ہے۔

COMMENTS