ملائیشیا اور سنگاپور نے سرحدی آمدورفت کو مزید تیز، آسان اور مؤثر بنانے کے لیے مشترکہ طور پر ایک نئے ڈیجیٹل بارڈر کلیئرنس سسٹم پر کام مکمل ...
ملائیشیا اور سنگاپور نے سرحدی آمدورفت کو مزید تیز، آسان اور مؤثر بنانے کے لیے مشترکہ طور پر ایک نئے ڈیجیٹل بارڈر کلیئرنس سسٹم پر کام مکمل کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ملائیشیا کے وزیراعظم داتوک سری انور ابراہیم کے مطابق یہ جدید نظام جنوری 2027 میں متعارف کرایا جائے گا، جس کا بنیادی مقصد سنگاپور اور جوہر کے درمیان روزانہ ہونے والی بھاری ٹریفک اور امیگریشن کے طویل انتظار کو کم کرنا ہے۔
وزیراعظم انور ابراہیم نے اس منصوبے کا اعلان "جوم تانیا پی ایم ایکس، ٹیمو انور" نامی عوامی پروگرام کے دوران کیا، جو 2026 کے ریاستی انتخابات کی انتخابی مہم کے سلسلے میں منعقد کیا گیا۔ اس موقع پر ایک شریک نے سوال کیا کہ آیا حکومت روزانہ روزگار کے لیے سنگاپور جانے والے ملائیشین شہریوں کو درپیش طویل انتظار اور بارڈر پر رش کے مسئلے کو حل کرنے کے لیے مزید اقدامات کرے گی۔
اس کے جواب میں وزیراعظم نے کہا کہ امیگریشن ڈیپارٹمنٹ سرحدی نقل و حرکت کو مزید آسان بنانے کے لیے کام کر رہا ہے اور جب نیا نظام مکمل طور پر تیار ہو جائے گا تو اس میں سنگاپور سے جوہر بہرو آنے اور جانے والوں کے لیے جدید سفری انتظامات بھی شامل ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ یہ جدید ڈیجیٹل امیگریشن نظام سرحدی آمدورفت سے متعلق کئی مسائل کا حل فراہم کرے گا۔ تاہم انہوں نے اس منصوبے کی تکنیکی تفصیلات یا آپریشنل طریقہ کار سے متعلق مزید معلومات دینے سے گریز کیا۔ ان کے مطابق ریاست جوہر میں جاری انتخابی مہم کے دوران انتخابی قوانین کے باعث اس منصوبے کی مزید تفصیلات ظاہر نہیں کی جا سکتیں۔
وزیراعظم نے اس بات پر بھی زور دیا کہ حکومت سرحدی مسائل کے حل کے لیے جدید ٹیکنالوجی کے استعمال پر بھرپور توجہ دے رہی ہے۔ ان کے مطابق گزشتہ تین برسوں کے دوران ملائیشیا اور سنگاپور کے درمیان بارڈر کلیئرنس کے نظام میں پہلے ہی نمایاں بہتری آئی ہے، جبکہ نیا ڈیجیٹل نظام اس عمل کو مزید مؤثر بنائے گا۔
ملائیشیا اور سنگاپور کے درمیان جوہر۔سنگاپور بارڈر دنیا کی مصروف ترین زمینی سرحدوں میں شمار ہوتا ہے۔ ہر روز ہزاروں افراد روزگار، کاروبار، تعلیم اور دیگر ضروریات کے لیے اس راستے سے دونوں ممالک کے درمیان سفر کرتے ہیں۔ خاص طور پر جوہر سے سنگاپور جانے والے کارکنوں کو صبح اور شام کے اوقات میں امیگریشن چیک پوائنٹس پر طویل قطاروں اور کئی گھنٹوں کے انتظار کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
حکومت کا کہنا ہے کہ مشترکہ ڈیجیٹل بارڈر کلیئرنس سسٹم کا مقصد امیگریشن کے عمل کو جدید بنانا، سرحدی گزرگاہوں پر دباؤ کم کرنا اور مسافروں کی آمدورفت کو زیادہ منظم بنانا ہے۔ اگرچہ حکام نے ابھی تک یہ واضح نہیں کیا کہ اس نظام میں کون سی نئی ٹیکنالوجیز استعمال کی جائیں گی، تاہم توقع کی جا رہی ہے کہ ڈیجیٹل تصدیق، خودکار پراسیسنگ اور بہتر ڈیٹا انٹیگریشن جیسے اقدامات اس منصوبے کا حصہ ہوں گے۔
اس منصوبے کی کامیاب تکمیل دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی اور سماجی روابط کو بھی مزید مضبوط بنا سکتی ہے۔ تیز رفتار بارڈر کلیئرنس نہ صرف روزانہ سفر کرنے والے افراد کے لیے سہولت پیدا کرے گی بلکہ کاروباری سرگرمیوں، سیاحت اور سرمایہ کاری کے فروغ میں بھی مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔
حکام کی جانب سے مزید تفصیلات آئندہ مہینوں میں جاری کیے جانے کا امکان ہے، جبکہ دونوں ممالک کے متعلقہ ادارے منصوبے کی تیاری اور نفاذ کے لیے مشترکہ طور پر کام کر رہے ہیں تاکہ جنوری 2027 میں اس کا باقاعدہ آغاز کیا جا سکے۔

COMMENTS