کوالالمپور: ملائیشیا نے میانمار کے شہریوں کی وطن واپسی کے منصوبے کے تحت حراستی مراکز میں موجود ہزاروں افراد کی دستاویزات کی جانچ اور سیکیور...
کوالالمپور: ملائیشیا نے میانمار کے شہریوں کی وطن واپسی کے منصوبے کے تحت حراستی مراکز میں موجود ہزاروں افراد کی دستاویزات کی جانچ اور سیکیورٹی اسکریننگ کا عمل شروع کر دیا ہے۔ حکام کے مطابق یہ اقدام ملائیشیا اور میانمار کے درمیان ہونے والے باہمی اتفاق کے تحت کیا جا رہا ہے، جس کے مطابق میانمار اپنے 5,000 شہریوں کو واپس لینے پر آمادہ ہو گیا ہے۔
ملائیشیا کے وزیر داخلہ داتوک سری سیف الدین ناسوشن نے بتایا کہ اس وقت ملک بھر کے مختلف حراستی مراکز میں موجود میانمار کے شہریوں کی شناخت، دستاویزات کی تصدیق اور سیکیورٹی جانچ کی جا رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس عمل کی تکمیل کے بعد وزارت خارجہ میانمار کے ساتھ رابطے میں رہتے ہوئے وطن واپسی کے اگلے مرحلے پر کام کرے گی۔
وزیر داخلہ کے مطابق میانمار نے نہ صرف ملائیشیا میں موجود اپنے 5,000 شہریوں کو قبول کرنے پر رضامندی ظاہر کی ہے بلکہ بنگلہ دیش کے علاقے کاکس بازار میں موجود بعض افراد کو بھی واپس لینے پر اتفاق کیا ہے۔ تاہم ان افراد کی حتمی تعداد کے بارے میں ابھی کوئی تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔
سیف الدین ناسوشن نے کہا کہ ملائیشیا نے اپنے 19 امیگریشن حراستی مراکز میں موجود تقریباً 4,000 میانمار کے شہریوں کی نشاندہی کر لی ہے۔ ان افراد کو شناختی تصدیق اور حفاظتی جانچ کے لیے ایک مرکزی مقام پر منتقل کیا جا رہا ہے تاکہ دستاویزی کارروائی منظم انداز میں مکمل کی جا سکے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ یہ عمل مکمل ہونے پر 5,000 افراد کی واپسی کا ہدف حاصل کر لیا جائے گا۔
اس سے ایک روز قبل وزیراعظم داتوک سری انور ابراہیم نے کہا تھا کہ وطن واپس بھیجے جانے والے افراد روہنگیا پناہ گزین ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں میانمار ان افراد کو قبول کرنے سے انکار کرتا رہا، تاہم دونوں ممالک کے بہتر تعلقات کے باعث اب میانمار نے ملائیشیا سے 5,000 افراد کو واپس لینے پر آمادگی ظاہر کی ہے۔
تاہم وزیر داخلہ نے اپنی گفتگو میں واضح کیا کہ وطن واپسی کا عمل صرف ان میانمار کے شہریوں کے لیے ہے جن کی شناخت اور شہریت کی تصدیق ہو چکی ہے اور جو پناہ گزین کی حیثیت رکھتے ہیں۔ انہوں نے روہنگیا سے متعلق الگ سے کوئی وضاحت نہیں کی۔
دوسری جانب بنگلہ دیش کے علاقے کاکس بازار میں پناہ گزینوں سے متعلق کمشنر محمد میزان الرحمٰن نے خبر رساں ادارے اے پی کو بتایا کہ انہیں بنگلہ دیش سے روہنگیا پناہ گزینوں کی کسی ممکنہ وطن واپسی کے بارے میں معلومات نہیں ہیں۔
ادھر میانمار کے دارالحکومت نیپیداؤ میں بھی حکام نے ان اطلاعات کی تردید کی کہ حکومت روہنگیا افراد کو قبول کرے گی۔ میانمار کی وزارت خارجہ کے آسیان ڈویژن کے ڈائریکٹر جنرل ہان ون آنگ نے کہا کہ موجودہ منصوبہ صرف ان افراد تک محدود ہے جن کی شناخت حقیقی میانمار کے شہریوں کے طور پر تصدیق ہو چکی ہے اور جو اس وقت ملائیشیا کے حراستی مراکز میں موجود ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ یہ منصوبہ روہنگیا یا ان افراد کی واپسی سے متعلق نہیں ہے جنہیں میانمار اپنی سرکاری نسلی اقلیتوں میں شامل نہیں کرتا، بلکہ صرف ایسے تصدیق شدہ شہریوں کی واپسی پر بات ہو رہی ہے جو مختلف وجوہات کی بنا پر ملائیشیا میں زیر حراست ہیں۔
حکام کے مطابق میانمار اس سے قبل بھی 2021 اور 2022 میں ملائیشیا سے 1,100 سے زائد اپنے شہریوں کو واپس لے چکا ہے۔ موجودہ مرحلے میں بھی دونوں ممالک وطن واپسی کے طریقہ کار، حتمی تعداد اور ٹائم لائن پر مشاورت جاری رکھے ہوئے ہیں۔
اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین (یو این ایچ سی آر) کے مطابق اس وقت ملائیشیا میں تقریباً 215,600 رجسٹرڈ پناہ گزین اور پناہ کے متلاشی افراد موجود ہیں، جن میں تقریباً 126,000 روہنگیا شامل ہیں۔ اگرچہ ملائیشیا بڑی تعداد میں پناہ گزینوں کی میزبانی کر رہا ہے، تاہم وہ اقوام متحدہ کے مہاجرین سے متعلق کنونشن کا رکن نہیں، اس لیے ملکی قوانین کے تحت پناہ گزینوں کو غیر دستاویزی تارکین وطن تصور کیا جاتا ہے۔

COMMENTS