ملائیشیا کی حکومت سائبر جرائم کے خلاف قوانین کو مزید مؤثر بنانے کے لیے مختلف اصلاحات پر غور کر رہی ہے، جن میں سائبر مجرموں کے لیے عدالتی کو...
ملائیشیا کی حکومت سائبر جرائم کے خلاف قوانین کو مزید مؤثر بنانے کے لیے مختلف اصلاحات پر غور کر رہی ہے، جن میں سائبر مجرموں کے لیے عدالتی کوڑوں کی سزا متعارف کرانے اور آن لائن فراڈ کے متاثرین کو مالی نقصان کی تلافی کے لیے خصوصی قانونی نظام قائم کرنے کی تجاویز بھی شامل ہیں۔ حکومت کا کہنا ہے کہ ان اقدامات کا مقصد بڑھتے ہوئے سائبر جرائم سے نمٹنا اور متاثرین کو بہتر قانونی تحفظ فراہم کرنا ہے۔
وزیراعظم کے محکمے میں وزیر برائے قانون و ادارہ جاتی اصلاحات داتوک سری ازلینہ عثمان سعید نے بتایا کہ قانونی امور ڈویژن موجودہ قوانین کا جامع جائزہ لے رہی ہے تاکہ سائبر کرائم، آن لائن نقصانات اور ڈیجیٹل جرائم سے متعلق قانونی فریم ورک کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔
انہوں نے یہ بات نیشنل سائبر سیکیورٹی سمٹ 2026 کے اختتام پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔ ان کے مطابق حکومت اس جائزے کے دوران مختلف ممالک کے قانونی نظاموں کا بھی مطالعہ کر رہی ہے تاکہ یہ دیکھا جا سکے کہ کون سے اقدامات ملائیشیا کے لیے زیادہ مؤثر ثابت ہو سکتے ہیں۔
ازلینہ عثمان سعید نے کہا کہ اس وقت ملائیشیا میں سائبر جرائم کے زیادہ تر مقدمات میں جرمانہ اور قید جیسی سزائیں دی جاتی ہیں، تاہم حکومت اب اس بات کا جائزہ لے رہی ہے کہ آیا کچھ سنگین سائبر جرائم کے لیے دیگر سزائیں، جن میں عدالتی کوڑے بھی شامل ہیں، متعارف کرائی جا سکتی ہیں۔ انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ سنگاپور میں بعض جرائم پر عدالتی کوڑوں کی سزا قانونی نظام کا حصہ ہے، جس کا مطالعہ بھی کیا جا رہا ہے۔
وزیر نے واضح کیا کہ حکومت کی توجہ صرف مجرموں کو سزا دینے تک محدود نہیں بلکہ آن لائن فراڈ اور سائبر جرائم کے متاثرین کے تحفظ کو بھی بہتر بنانا اصلاحاتی منصوبے کا اہم حصہ ہے۔ ان کے مطابق موجودہ قانونی نظام میں متاثرین کے حقوق اور مالی نقصان کے ازالے پر نسبتاً کم توجہ دی گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس وقت ملائیشیا میں آن لائن فراڈ کا شکار ہونے والے افراد اکثر صرف پولیس رپورٹ درج کروا سکتے ہیں، لیکن زیادہ تر معاملات میں وہ اپنی کھوئی ہوئی رقم واپس حاصل نہیں کر پاتے۔ یہی وجہ ہے کہ حکومت ایسے نئے قانونی طریقہ کار پر غور کر رہی ہے جس کے ذریعے متاثرین کو مالی نقصان کی تلافی میں مدد مل سکے۔
ازلینہ عثمان سعید نے بتایا کہ حکومت برطانیہ اور آسٹریلیا سمیت کئی ممالک کے قوانین کا جائزہ لے رہی ہے، جہاں مخصوص حالات میں بینک آن لائن فراڈ کے متاثرین کو مالی معاوضہ فراہم کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملائیشیا میں اس وقت ایسا کوئی باضابطہ نظام موجود نہیں، تاہم حکومت بین الاقوامی تجربات کو مدنظر رکھتے ہوئے مناسب ماڈل اختیار کرنے کا جائزہ لے رہی ہے۔
ان کے مطابق قانونی اصلاحات کے اس عمل میں صرف سزاؤں کو سخت بنانے پر ہی غور نہیں کیا جا رہا بلکہ متاثرین کی مدد، مالی تحفظ، قانونی معاونت اور انصاف تک رسائی کو بھی بہتر بنانے کی تجاویز زیرِ غور ہیں۔ حکومت کا مقصد ایسا متوازن قانونی نظام تشکیل دینا ہے جس میں مجرموں کے خلاف مؤثر کارروائی کے ساتھ ساتھ متاثرین کے حقوق کا بھی مکمل تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
انہوں نے مزید کہا کہ سائبر جرائم میں مسلسل اضافہ حکومت کے لیے ایک بڑا چیلنج بنتا جا رہا ہے، خصوصاً آن لائن فراڈ، مالیاتی دھوکہ دہی اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے ہونے والے جرائم میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ اسی وجہ سے موجودہ قوانین کا ازسرنو جائزہ لیا جا رہا ہے تاکہ وہ جدید ٹیکنالوجی اور بدلتے ہوئے جرائم کے رجحانات سے ہم آہنگ رہ سکیں۔
وزیر کے مطابق حکومت بین الاقوامی بہترین قانونی طریقہ کار کا تفصیلی مطالعہ کرے گی اور اس کے بعد یہ فیصلہ کیا جائے گا کہ ملائیشیا میں کون سی اصلاحات نافذ کی جا سکتی ہیں۔ ان میں سزا کے نئے اختیارات، متاثرین کے لیے معاوضے کے طریقہ کار اور سائبر جرائم کی روک تھام سے متعلق دیگر قانونی اقدامات شامل ہو سکتے ہیں۔
حکومت نے اس مرحلے پر کسی حتمی قانون یا سزا کا اعلان نہیں کیا ہے، تاہم واضح کیا ہے کہ تمام تجاویز کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد ہی مناسب قانونی ترامیم پیش کی جائیں گی۔

COMMENTS