ملائیشیا کی وزارتِ انسانی وسائل نے اعلان کیا ہے کہ وہ صباح اور سراواک میں رائج غیر ملکی ورکرز کے انتظامی نظام کا تفصیلی جائزہ لے گی تاکہ اس...
ملائیشیا کی وزارتِ انسانی وسائل نے اعلان کیا ہے کہ وہ صباح اور سراواک میں رائج غیر ملکی ورکرز کے انتظامی نظام کا تفصیلی جائزہ لے گی تاکہ اس کے مؤثر پہلوؤں کو جزیرہ نما ملائیشیا میں بھی نافذ کرنے کے امکانات کا جائزہ لیا جا سکے۔ حکومت کا مقصد ملک بھر میں غیر ملکی کارکنوں کے انتظام کو زیادہ منظم، شفاف اور مؤثر بنانا ہے۔
وزارتِ انسانی وسائل کے سیکریٹری جنرل داتوک اظمان محمد یوسف نے کوچنگ میں ٹریڈ یونین افیئرز پروگرام 2026 کی گرانٹ تقسیم کی تقریب کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ صباح اور سراواک میں غیر ملکی کارکنوں کے انتظام کا موجودہ نظام کافی عرصے سے کامیابی کے ساتھ نافذ ہے اور اس میں ریاستی حکومتوں کا فعال کردار شامل ہے، جس کے باعث منظوری اور انتظامی عمل نسبتاً زیادہ منظم اور آسان ہے۔
انہوں نے کہا کہ ان کے مشاہدے کے مطابق دونوں ریاستوں میں غیر ملکی ورکرز کی منظوری کے عمل میں ریاستی حکومتوں کی شمولیت نے نظام کو زیادہ مؤثر بنایا ہے۔ اسی لیے وزارت ان مثبت پہلوؤں کا تفصیلی مطالعہ کرے گی تاکہ دیکھا جا سکے کہ آیا انہیں جزیرہ نما ملائیشیا میں بھی اپنایا جا سکتا ہے یا نہیں۔
اظمان محمد یوسف کے مطابق یہ جائزہ صرف ایک الگ منصوبہ نہیں بلکہ وزارتِ انسانی وسائل اور وزارتِ داخلہ کی جانب سے غیر ملکی کارکنوں کے پورے انتظامی ڈھانچے کے وسیع جائزے کا حصہ ہے۔ اس عمل کے ذریعے حکومت موجودہ نظام میں بہتری لانے اور مختلف مراحل کو زیادہ مربوط بنانے کی کوشش کر رہی ہے۔
انہوں نے وضاحت کی کہ جزیرہ نما ملائیشیا میں غیر ملکی کارکنوں کا انتظام نسبتاً زیادہ پیچیدہ ہے کیونکہ وہاں کارکنوں کی تعداد زیادہ ہے، مختلف ممالک سے مزدور آتے ہیں اور وہ متعدد صنعتی شعبوں میں کام کرتے ہیں۔ اسی وجہ سے وہاں ایسا نظام درکار ہے جو مختلف ضروریات کو مؤثر انداز میں سنبھال سکے۔
سیکریٹری جنرل نے اس امید کا اظہار بھی کیا کہ وفاقی حکومت کی جانب سے غیر ملکی کارکنوں کے انتظامی نظام کی حالیہ تنظیمِ نو مستقبل میں زیادہ مؤثر اور حکمتِ عملی پر مبنی نظام تشکیل دینے میں مدد دے گی۔ ان کے مطابق اگر اصلاحات مؤثر انداز میں نافذ ہوئیں تو اس سے ملک کے معاشی شعبوں کو بھی مثبت فوائد حاصل ہوں گے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب حال ہی میں نائب وزیر اعظم داتوک سری ڈاکٹر احمد زاہد حمیدی نے اعلان کیا تھا کہ کابینہ کی غیر ملکی کارکنوں سے متعلق خصوصی کمیٹی کے اجلاس میں وفاقی حکومت نے ملک کے غیر ملکی ورکرز مینجمنٹ سسٹم کو ازسرِنو منظم کرنے کی منظوری دے دی ہے۔
اس فیصلے کے تحت ون اسٹاپ سینٹر برائے غیر ملکی ورکرز مینجمنٹ کو وزارتِ انسانی وسائل کے ماتحت منتقل کیا جائے گا تاکہ مختلف سرکاری اداروں کے درمیان بہتر رابطہ قائم ہو، منظوری کا عمل تیز ہو اور انتظامی طریقہ کار مزید آسان اور شفاف بنایا جا سکے۔
ملائیشیا میں غیر ملکی کارکن معیشت کے مختلف شعبوں، خصوصاً تعمیرات، مینوفیکچرنگ، زراعت، خدمات اور شجرکاری کی صنعت میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ اسی وجہ سے حکومت گزشتہ کچھ عرصے سے ایسے نظام پر کام کر رہی ہے جو بھرتی، منظوری اور نگرانی کے عمل کو زیادہ مؤثر، منظم اور ذمہ دارانہ انداز میں چلانے میں مدد دے۔
صباح اور سراواک کا موجودہ ماڈل اس حوالے سے اہم سمجھا جا رہا ہے کیونکہ وہاں ریاستی حکومتوں کی شمولیت کے باعث متعدد انتظامی مراحل بہتر انداز میں مکمل ہوتے ہیں۔ اب وفاقی حکومت اس تجربے سے فائدہ اٹھاتے ہوئے قومی سطح پر ایک ایسا نظام تشکیل دینے کی کوشش کر رہی ہے جو مختلف ریاستوں کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے زیادہ مؤثر ثابت ہو سکے۔

COMMENTS