ملائیشیا کی حکومت نے اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے مہاجرین (یو این ایچ سی آر) کو ہدایت دی ہے کہ وہ ملک میں مہاجرین کی نئی رجسٹریشن کو عارض...
ملائیشیا کی حکومت نے اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے مہاجرین (یو این ایچ سی آر) کو ہدایت دی ہے کہ وہ ملک میں مہاجرین کی نئی رجسٹریشن کو عارضی طور پر روک دے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ مہاجرین کے اندراج اور انتظامی نظام کو ازسرنو منظم کرنے کے لیے کیا گیا ہے تاکہ مستقبل میں رجسٹریشن کا عمل حکومتی نگرانی میں زیادہ منظم انداز میں انجام دیا جا سکے۔
نائب وزیر خارجہ لوکانسمن آوانگ ساؤنی نے دیوان نگارا میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے بتایا کہ کابینہ نے یہ فیصلہ اس مقصد کے تحت کیا ہے کہ مہاجرین کی رجسٹریشن اور ان کے ریکارڈ کا انتظام ایک ایسے نظام کے ذریعے کیا جائے جو مکمل طور پر حکومتی نگرانی میں ہو۔ ان کے مطابق اس مقصد کے لیے ریفیوجی رجسٹریشن ڈاکیومنٹ (ڈی پی پی) پروگرام متعارف کرایا جا رہا ہے، جس کے ذریعے مہاجرین کا اندراج زیادہ منظم اور شفاف انداز میں کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ ڈی پی پی پروگرام کے تحت حکومت کو مہاجرین کے ڈیٹا کے بہتر انتظام میں مدد ملے گی۔ اس میں شناخت کی تصدیق، ریکارڈ کی نگرانی، معلومات کی جانچ اور ضروری ضوابط پر عمل درآمد شامل ہوگا۔ ان کے مطابق اس طریقہ کار سے حکومت کو غیر ملکی اداروں کے ریکارڈ پر انحصار کرنے کے بجائے اپنا باقاعدہ اور قابلِ اعتماد نظام قائم کرنے کا موقع ملے گا۔
یہ وضاحت اس وقت سامنے آئی جب سینیٹر حسین اسماعیل نے دیوان نگارا میں روہنگیا مہاجرین کے حوالے سے سوال اٹھایا۔ انہوں نے حکومت سے دریافت کیا کہ ایسے روہنگیا افراد کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے کیا اقدامات کیے جا رہے ہیں جن کے پاس نہ تو کسی قسم کی شناختی دستاویز موجود ہے اور نہ ہی انہیں میانمار کی جانب سے شہریت تسلیم کی جاتی ہے۔
اس سوال کے جواب میں نائب وزیر خارجہ نے بتایا کہ ڈی پی پی پروگرام کے تحت مہاجرین کی رجسٹریشن مختلف قانون نافذ کرنے والے اداروں کے تعاون سے کی جائے گی۔ اس مشترکہ نظام کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ صرف وہی افراد رجسٹر ہوں جو مقررہ شرائط پر پورا اترتے ہوں۔ اس کے ساتھ ساتھ غیر قانونی امیگریشن کی روک تھام کے لیے بھی نگرانی کے اقدامات مزید مضبوط کیے جائیں گے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ اس وقت ملائیشیا کے امیگریشن حراستی مراکز میں تقریباً 5,000 میانمار کے شہری موجود ہیں۔ حکومت ان افراد کو واپس میانمار بھیجنے کی تیاری کر رہی ہے اور اس مقصد کے لیے ملائیشین بحریہ کے جہاز استعمال کیے جائیں گے۔ تاہم ان کی واپسی کا عمل اس بات سے مشروط ہوگا کہ میانمار کی حکومت انہیں وصول کرنے کے لیے آمادہ ہو۔
ملائیشیا میں مہاجرین کا معاملہ کئی برسوں سے اہم پالیسی موضوع رہا ہے، خاص طور پر روہنگیا مہاجرین کے تناظر میں۔ بڑی تعداد میں روہنگیا افراد میانمار میں پیش آنے والے حالات کے باعث مختلف ممالک کا رخ کرتے رہے ہیں، جن میں ملائیشیا بھی شامل ہے۔ چونکہ ان میں سے بہت سے افراد کے پاس قومی شناختی دستاویزات یا شہریت کا ثبوت موجود نہیں ہوتا، اس لیے ان کی رجسٹریشن، شناخت کی تصدیق اور قانونی حیثیت کا تعین حکومتی اداروں کے لیے ایک مسلسل انتظامی چیلنج رہا ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ نیا ڈی پی پی پروگرام اسی پس منظر میں ایک منظم اور مربوط نظام قائم کرنے کی کوشش ہے تاکہ مہاجرین کے ریکارڈ، نگرانی اور انتظام کو زیادہ مؤثر بنایا جا سکے۔
حکومت کے مطابق اس نئی پالیسی کا بنیادی مقصد مہاجرین کے ڈیٹا کو ایک مربوط نظام میں محفوظ کرنا، مستحق افراد کی درست شناخت کرنا اور متعلقہ اداروں کے درمیان بہتر تعاون کو یقینی بنانا ہے۔ اس کے ساتھ غیر قانونی امیگریشن کے خلاف اقدامات کو بھی مزید مؤثر بنانے کی کوشش کی جائے گی تاکہ رجسٹریشن کا پورا عمل حکومتی نگرانی میں شفاف انداز سے مکمل ہو سکے۔

COMMENTS