ملائیشیا میں غیر ملکی شہریوں سے شادی کرنے کے خواہشمند افراد کے لیے تھائی لینڈ اب بھی ایک مقبول انتخاب بنا ہوا ہے۔ شادی کے ایجنٹس کے مطابق و...
ملائیشیا میں غیر ملکی شہریوں سے شادی کرنے کے خواہشمند افراد کے لیے تھائی لینڈ اب بھی ایک مقبول انتخاب بنا ہوا ہے۔ شادی کے ایجنٹس کے مطابق وہاں نکاح کا عمل نسبتاً آسان، تیز اور کم دستاویزی تقاضوں کے باعث بہت سے جوڑے سرحد پار جا کر شادی کو ترجیح دیتے ہیں۔
تھائی لینڈ کے ذریعے شادی کروانے والے ایک ایجنٹ، جنہوں نے اپنی شناخت صرف "رودی" کے نام سے ظاہر کی، نے بتایا کہ تقریباً ہر ہفتے ایک یا دو ایسے جوڑے ان سے رابطہ کرتے ہیں جن میں ایک فریق ملائیشین جبکہ دوسرا غیر ملکی ہوتا ہے۔ ان کے مطابق زیادہ تر ملائیشین خواتین پاکستان یا بنگلہ دیش کے شہریوں سے شادی کرتی ہیں، جبکہ ملائیشین مرد عموماً انڈونیشیا کی خواتین سے نکاح کرتے ہیں۔
رودی کے مطابق زیادہ تر جوڑے تھائی لینڈ اس لیے جاتے ہیں کیونکہ وہاں شادی کے لیے درکار دستاویزات اور قانونی کارروائی ملائیشیا کے مقابلے میں نسبتاً آسان ہوتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اگر یہی عمل ملائیشیا میں کیا جائے تو غیر ملکی شریک حیات کے آبائی ملک سے مختلف سرکاری دستاویزات اور تصدیق حاصل کرنا ضروری ہوتا ہے، جس سے پورا عمل زیادہ وقت لیتا ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ غیر ملکی شہریوں سے شادی کرنے والی بیشتر ملائیشین خواتین کی عمر 40 سال یا اس سے زیادہ ہوتی ہے اور ان میں بڑی تعداد سنگل مدرز کی ہوتی ہے۔ دوسری جانب زیادہ تر غیر ملکی مردوں کی عمریں 30 سے 40 سال کے درمیان ہوتی ہیں۔ ان کے مطابق ایسے زیادہ تر جوڑے ایک دوسرے کو کافی عرصے سے جانتے ہوتے ہیں کیونکہ متعلقہ غیر ملکی شہری پہلے ہی کئی برسوں سے ملائیشیا میں مقیم ہوتے ہیں۔
رودی کا کہنا تھا کہ صرف دستاویزی آسانی ہی وجہ نہیں بلکہ بعض جوڑے دیگر وجوہات کی بنا پر بھی تھائی لینڈ میں شادی کو ترجیح دیتے ہیں۔ ان میں کثرتِ ازدواج (پولی گیمی) کی خواہش یا ولی سے متعلق قانونی مسائل بھی شامل ہوتے ہیں۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ وہ صرف انہی درخواست گزاروں کی مدد کرتے ہیں جن کے تمام ضروری کاغذات مکمل ہوں، کیونکہ نامکمل دستاویزات بعد میں ملائیشیا میں شادی کی رجسٹریشن کے دوران قانونی مشکلات پیدا کر سکتی ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ اس وقت تھائی لینڈ میں شادی کروانے کے پیکج کی قیمت تقریباً 2,000 ملائیشین رنگٹ ہے، جس میں دستاویزات کی تیاری اور ضروری تصدیقی کارروائیاں بھی شامل ہوتی ہیں۔
رودی نے اس امکان کو بھی مسترد نہیں کیا کہ بعض غیر ملکی شہری مقامی خواتین سے شادی کو کاروباری سہولت حاصل کرنے کا ذریعہ بناتے ہیں۔ ان کے مطابق کچھ معاملات میں غیر ملکی افراد مقامی شریک حیات کے نام پر کاروبار، دکان کرائے پر لینے یا بینک اکاؤنٹ کھلوانے جیسے مقاصد حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ تمام بین الاقوامی شادیاں اسی مقصد کے تحت نہیں ہوتیں اور ہر کیس کو ایک ہی نظر سے نہیں دیکھا جانا چاہیے۔
ایک اور شادی ایجنٹ، محمد زیدی دیسا، نے بتایا کہ گزشتہ دو برسوں کے دوران غیر ملکی شہریوں، خصوصاً پاکستانی اور بنگلہ دیشی مردوں سے شادی کے حوالے سے معلومات حاصل کرنے والی ملائیشین خواتین کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔ ان کے مطابق وہ ایسی بہت سی درخواستیں وصول کرتے ہیں، لیکن ہر کیس قبول نہیں کرتے۔
محمد زیدی نے کہا کہ انہوں نے بعض خواتین کی جانب سے روہنگیا نسل کے مردوں سے شادی کے بارے میں بھی استفسارات موصول کیے، تاہم وہ ایسے معاملات شروع ہی میں مسترد کر دیتے ہیں۔ ان کے مطابق ایسے افراد جن کے پاس مکمل قانونی دستاویزات نہ ہوں، یا جو پناہ گزین یا غیر قانونی طور پر مقیم ہوں، ان سے شادی بعد میں کئی قانونی مسائل پیدا کر سکتی ہے۔
انہوں نے وضاحت کی کہ اگر شادی کے بعد رجسٹریشن یا دستاویزات میں مشکلات پیش آئیں تو اس سے پیدا ہونے والے بچوں کو شہریت اور قانونی شناخت جیسے اہم مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اسی لیے وہ ہمیشہ جوڑوں کو مشورہ دیتے ہیں کہ شادی سے پہلے تمام ضروری دستاویزات مکمل کریں اور اپنے شریک حیات کی قانونی حیثیت کی اچھی طرح تصدیق کریں۔
یہ رپورٹ اس پس منظر میں سامنے آئی ہے کہ اس سے قبل بھی ملائیشیا میں ایسے بعض معاملات رپورٹ ہوئے تھے جن میں کچھ غیر ملکی شہری مقامی خواتین سے شادی کے بعد ان کے نام پر کاروباری لائسنس حاصل کرکے اپنے کاروبار کو وسعت دیتے تھے۔ متعلقہ اداروں کے مطابق اس طرح کے معاملات بعض اوقات قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے بھی نگرانی اور کارروائی میں مشکلات پیدا کرتے ہیں، کیونکہ کاروبار بظاہر مقامی شہری کے نام پر رجسٹرڈ ہوتا ہے۔
یہ تمام معلومات شادی کے ایجنٹس کے تجربات اور ان کے مشاہدات پر مبنی ہیں، جبکہ ہر بین الاقوامی شادی کے حالات، مقاصد اور قانونی تقاضے مختلف ہو سکتے ہیں۔ اسی لیے متعلقہ حکام ہمیشہ مشورہ دیتے ہیں کہ کسی بھی بین الاقوامی شادی سے قبل تمام قانونی تقاضوں اور دستاویزی شرائط کی مکمل جانچ کی جائے۔

COMMENTS