کوالالمپور: بنگلہ دیش کے وزیراعظم کے مشیر مہدی امین نے کہا ہے کہ ملائیشیا اگست 2026 کے آخری ہفتے سے بنگلہ دیشی کارکنوں کی بھرتی دوبارہ شروع...
کوالالمپور: بنگلہ دیش کے وزیراعظم کے مشیر مہدی امین نے کہا ہے کہ ملائیشیا اگست 2026 کے آخری ہفتے سے بنگلہ دیشی کارکنوں کی بھرتی دوبارہ شروع کرنے کی توقع رکھتا ہے۔ ابتدائی مرحلے میں کارکنوں کی بھرتی سرکاری ادارے بنگلہ دیش اوورسیز ایمپلائمنٹ اینڈ سروسز لمیٹڈ (بی او ای ایس ایل) کے ذریعے کی جائے گی تاکہ بھرتی کا عمل زیادہ شفاف اور منظم انداز میں آگے بڑھایا جا سکے۔
مہدی امین نے کوالالمپور میں بنگلہ دیش ہائی کمیشن میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے، جہاں بیرون ملک روزگار و بہبود کے وزیر عارف الحق چودھری بھی موجود تھے، بتایا کہ حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ ابتدائی مرحلے میں بی او ای ایس ایل کو ترجیح دی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ اگر تمام انتظامات منصوبے کے مطابق مکمل ہوئے تو نئے بنگلہ دیشی کارکن اگست کے آخری ہفتے سے ملائیشیا پہنچنا شروع ہو جائیں گے۔
مہدی امین کے مطابق بنگلہ دیش کی عبوری حکومت نے مختلف معیارات کی بنیاد پر 423 بھرتی کرنے والی ایجنسیوں کے نام ملائیشین حکام کو بھجوا دیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان موجود مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) کے تحت بنگلہ دیش نے درخواست کی ہے کہ زیادہ سے زیادہ منظور شدہ ایجنسیوں کو کارکن بھیجنے کی اجازت دی جائے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ موجودہ مفاہمتی یادداشت دسمبر 2026 تک مؤثر رہے گی۔ اس سے قبل ملائیشیا اپنی جانچ پڑتال، متعلقہ قوانین اور ریگولیٹری فریم ورک کے مطابق یہ فیصلہ کرے گا کہ کتنی بھرتی ایجنسیاں حتمی طور پر کارکن بھیجنے کی اہل ہوں گی۔
مہدی امین نے کہا کہ چونکہ ملائیشیا میں کام کرنے والے غیر ملکی کارکنوں میں بنگلہ دیشی شہریوں کی تعداد سب سے زیادہ ہے، اس لیے بنگلہ دیش نے درخواست کی ہے کہ زیادہ سے زیادہ ایجنسیوں کو اس عمل میں شامل کیا جائے تاکہ روزگار کے مواقع وسیع پیمانے پر دستیاب ہوں۔
تاہم انہوں نے اس بات کا بھی اشارہ دیا کہ موجودہ مفاہمتی یادداشت کے اختتام تک صرف محدود تعداد میں ایجنسیوں کو کارکن بھیجنے کی اجازت مل سکتی ہے۔ اس صورتحال پر بعض متعلقہ حلقوں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر محدود ایجنسیاں ہی شامل رہیں تو ماضی کی طرح دوبارہ بھرتی کا غیر شفاف نظام یا اجارہ داری پیدا ہو سکتی ہے۔
یاد رہے کہ سابقہ حکومت کے دور میں صرف 100 بھرتی ایجنسیوں کو ملائیشیا کارکن بھیجنے کی اجازت دی گئی تھی، جسے مختلف حلقوں نے ایک محدود گروپ یا "سنڈیکیٹ" قرار دیتے ہوئے تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔ حالیہ عبوری حکومت نے انہی ایجنسیوں میں سے 49 ایجنسیوں کے لائسنس مبینہ بے ضابطگیوں اور بدعنوانی کے الزامات کے باعث معطل کر دیے ہیں۔
بھرتی ایجنسیوں کی تنظیم بی اے آئی آر اے کے رکن الطاف خان نے کہا کہ جن ایجنسیوں کو براہ راست ملائیشیا کی منظوری نہیں ملے گی، وہ بھی بی او ای ایس ایل کے ذریعے کارکن بھیج سکیں گی۔ ان کے مطابق اس طریقہ کار سے زیادہ تعداد میں ایجنسیوں کو روزگار کے عمل میں حصہ لینے کا موقع مل سکتا ہے۔
مہدی امین نے کہا کہ بنگلہ دیش اور ملائیشیا کے درمیان اعلیٰ سطح پر مثبت مذاکرات ہوئے ہیں، جن کا مقصد جون 2024 سے بند لیبر مارکیٹ کو دوبارہ کھولنا اور کارکنوں کی بھرتی جلد از جلد بحال کرنا ہے۔
انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ حکومت ایسا نظام متعارف کرانا چاہتی ہے جو مکمل طور پر شفاف ہو، کسی بھی قسم کے سنڈیکیٹ سے پاک ہو اور جس کے ذریعے بنگلہ دیشی کارکن کم لاگت اور محفوظ انداز میں ملائیشیا جا سکیں۔
دوسری جانب مائیگرنٹ ویلفیئر نیٹ ورک نے بھی دونوں حکومتوں سے مطالبہ کیا ہے کہ لیبر مارکیٹ کی بحالی سے متعلق طے شدہ فریم ورک، عملی حکمت عملی اور ٹائم لائن کو عوام کے سامنے واضح طور پر پیش کیا جائے۔
نیٹ ورک نے مزید مطالبہ کیا کہ کارکنوں کی بھرتی، انتخاب اور تعیناتی کے پورے عمل میں مکمل شفافیت کو یقینی بنایا جائے۔ اس کے علاوہ منظور شدہ بھرتی اخراجات، اہلیت کے معیار اور غیر قانونی اضافی فیس یا استحصال کی روک تھام کے لیے حفاظتی اقدامات بھی واضح طور پر بیان کیے جائیں۔

COMMENTS