ملائیشیا کے رکنِ پارلیمنٹ لیم لپ اینگ نے کہا ہے کہ ملک کو فلسطینی عوام کے حقوق سے متعلق اپنے اصولی مؤقف پر قائم رہنا چاہیے، تاہم نیٹورک سک...
ملائیشیا کے رکنِ پارلیمنٹ لیم لپ اینگ نے کہا ہے کہ ملک کو فلسطینی عوام کے حقوق سے متعلق اپنے اصولی مؤقف پر قائم رہنا چاہیے، تاہم نیٹورک سکول سے متعلق حالیہ تنازع کو امریکا کے ساتھ مجموعی تعلقات پر منفی اثر انداز نہیں ہونے دینا چاہیے۔ ان کے مطابق ایسے معاملات میں حقائق، قانون اور ذمہ دارانہ سفارت کاری کو ترجیح دینا ضروری ہے۔
کوالالمپور سے جاری اپنے بیان میں کیپونگ سے تعلق رکھنے والے رکنِ پارلیمنٹ لیم لپ اینگ نے کہا کہ فلسطینی عوام کی آزادی، وقار اور بنیادی حقوق کے لیے ملائیشیا کی حمایت بدستور مضبوط ہے۔ تاہم وزیرِ اعظم داتک سری انور ابراہیم کے حالیہ بیان کے بعد سامنے آنے والے تنازع کو واضح، متوازن اور ذمہ دارانہ انداز میں نمٹانے کی ضرورت ہے تاکہ غلط فہمیوں سے بچا جا سکے۔
انہوں نے وضاحت کی کہ وزیرِ اعظم کا بیان جاری تحقیقات کے تناظر میں دیا گیا تھا۔ ان کے مطابق وزیرِ اعظم نے کہا تھا کہ اگر تحقیقات کے دوران یہ تصدیق ہو جائے کہ نیٹ ورک اسکول میں اسرائیلی شہری موجود ہیں تو انہیں ملک بدر (ڈی پورٹ) کر دیا جائے گا۔
لیم لپ اینگ نے کہا کہ ملائیشیا کو اپنے امیگریشن قوانین نافذ کرنے کا مکمل خودمختار حق حاصل ہے، لیکن ہر کارروائی کی بنیاد تصدیق شدہ حقائق، متعلقہ افراد کی امیگریشن حیثیت اور ملکی قوانین ہونی چاہیے، نہ کہ مذہب یا قومیت۔
انہوں نے مزید کہا کہ نیٹورک سکول کا کاروباری لائسنس لائسنسنگ شرائط اور عمارت کے منظور شدہ استعمال سے متعلق ضوابط کی خلاف ورزیوں کی بنیاد پر منسوخ کیا گیا تھا۔ اس لیے صرف لائسنس کی منسوخی کو اس بات کا ثبوت نہیں سمجھا جا سکتا کہ وہاں اسرائیلی شہری موجود تھے۔
رکنِ پارلیمنٹ نے امریکا کے ایوانِ نمائندگان کے آٹھ ارکان کی جانب سے اٹھائے گئے خدشات کا بھی ذکر کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ان خدشات کو سنجیدگی سے لینا چاہیے، تاہم یہ بات بھی اہم ہے کہ مذکورہ خط امریکا کی حکومت کا باضابطہ فیصلہ نہیں بلکہ امریکی وزیرِ خارجہ سے کی گئی ایک درخواست ہے۔
انہوں نے وزارتِ خارجہ وسما پترا پر زور دیا کہ وہ امریکی انتظامیہ اور متعلقہ قانون سازوں سے سفارتی سطح پر رابطہ کرے، وزیرِ اعظم کے بیان کا مکمل پس منظر واضح کرے اور تحقیقات سے متعلق مصدقہ معلومات مناسب سفارتی ذرائع کے ذریعے فراہم کرے۔
لیم لپ اینگ کے مطابق حقائق پر مبنی اور متوازن سفارتی جواب ملائیشیا کے اصولی مؤقف، قومی خودمختاری اور بین الاقوامی ساکھ کے تحفظ میں زیادہ مؤثر ثابت ہوگا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ حساس بین الاقوامی معاملات میں سفارتی رابطے اور درست معلومات کی فراہمی انتہائی اہمیت رکھتی ہے۔
یہ معاملہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ملائیشیا فلسطینی عوام کی حمایت کے اپنے دیرینہ مؤقف پر قائم ہے، جبکہ ساتھ ہی مختلف ممالک کے ساتھ اپنے سفارتی تعلقات بھی برقرار رکھے ہوئے ہے۔ اس تناظر میں حکومتی مؤقف اور جاری تحقیقات کے نتائج مستقبل میں اس معاملے کی مزید وضاحت کر سکتے ہیں۔

COMMENTS