ملائیشیا میں جاری ہونے والی ایک نئی رپورٹ کے مطابق صرف 49 فیصد ملازمین اپنی موجودہ تنخواہ سے مطمئن ہیں، حالانکہ زیادہ تر کارکنوں کا خیال ہ...
ملائیشیا میں جاری ہونے والی ایک نئی رپورٹ کے مطابق صرف 49 فیصد ملازمین اپنی موجودہ تنخواہ سے مطمئن ہیں، حالانکہ زیادہ تر کارکنوں کا خیال ہے کہ انہیں اپنی ملازمت کے مطابق مناسب معاوضہ دیا جا رہا ہے۔ رپورٹ سے ظاہر ہوتا ہے کہ آج کے دور میں صرف مارکیٹ کے مطابق تنخواہ دینا ملازمین کو مطمئن رکھنے کے لیے کافی نہیں رہا۔
یہ نتائج جاب سٹریٹ بائی سیک کی سیلری پلس 2026 رپورٹ میں سامنے آئے ہیں۔ اس تحقیق میں 18 سے 64 سال کی عمر کے 1,010 ملائیشین ملازمین سے مختلف شعبوں میں ان کی رائے لی گئی۔ تحقیق کا مقصد یہ جاننا تھا کہ ملازمین اپنی تنخواہ، کام کے ماحول اور کیریئر کے مواقع کو کس نظر سے دیکھتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق 81 فیصد ملازمین کا کہنا ہے کہ ان کی موجودہ تنخواہ مارکیٹ کے حساب سے منصفانہ ہے، لیکن اس کے باوجود صرف 49 فیصد افراد اپنی تنخواہ سے حقیقی طور پر مطمئن ہیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ "منصفانہ تنخواہ" اور "اطمینان" ایک ہی چیز نہیں ہیں۔
تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا کہ جن ملازمین نے اپنی تنخواہ کو منصفانہ قرار دیا، ان میں سے صرف 41 فیصد نے کہا کہ وہ واقعی اپنی تنخواہ سے خوش ہیں۔ باقی ملازمین کے مطابق وہ صرف تنخواہ ہی نہیں بلکہ کام کا بوجھ، ادارے کی جانب سے ملنے والی قدر و منزلت، کارکردگی کی تعریف اور ترقی کے مواقع کو بھی اہمیت دیتے ہیں۔
جاب سٹریٹ بائی سیک ملائیشیا کے منیجنگ ڈائریکٹر نکولس لیم نے کہا کہ آج کے ملازمین صرف اچھی تنخواہ کو کافی نہیں سمجھتے۔ ان کے مطابق ملازمین چاہتے ہیں کہ ان کی تنخواہ ان کی کارکردگی، انفرادی خدمات، مہارت اور مستقبل میں ترقی کے امکانات کی بھی عکاسی کرے۔
انہوں نے کہا کہ آج کے دور میں معاوضے کا مطلب صرف رقم نہیں بلکہ ملازمین کے ساتھ مؤثر رابطہ، ان کی حوصلہ افزائی، اعتماد اور ان کی خدمات کا اعتراف بھی اتنا ہی اہم ہو گیا ہے۔ یہی عوامل ملازمین کے اطمینان اور ادارے سے وابستگی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
رپورٹ میں ملازمین کو برقرار رکھنے سے متعلق بھی اہم معلومات سامنے آئیں۔ تحقیق کے مطابق جو ملازمین اپنی تنخواہ سے مطمئن ہوتے ہیں، وہ کام میں تین گنا زیادہ متحرک اور پُرجوش ہوتے ہیں۔ اس کے برعکس، جو ملازمین اپنی تنخواہ سے غیر مطمئن ہوتے ہیں، ان کے نئی ملازمت تلاش کرنے کے امکانات 2.5 گنا زیادہ ہوتے ہیں۔
تحقیق میں یہ بھی معلوم ہوا کہ اگرچہ بعض ملازمین زیادہ تنخواہ کے لیے عہدے میں تبدیلی پر غور کر سکتے ہیں، لیکن زیادہ تر افراد اپنے ذاتی وقار اور بہتر کام کے ماحول پر سمجھوتہ نہیں کرنا چاہتے۔ صرف 19 فیصد ملازمین نے کہا کہ وہ 10 فیصد زیادہ تنخواہ کے لیے کم درجے کا عہدہ قبول کر سکتے ہیں، جبکہ صرف 3 فیصد افراد نے کہا کہ وہ زیادہ تنخواہ کے بدلے خراب یا زہریلے کام کے ماحول میں کام کرنے پر آمادہ ہوں گے۔
رپورٹ کے مطابق گزشتہ ایک سال کے دوران 56 فیصد ملازمین کو تنخواہ میں اضافہ ملا، تاہم ان میں سے زیادہ تر کو 5 فیصد تک اضافہ دیا گیا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اگرچہ کئی ادارے سالانہ اضافہ دے رہے ہیں، لیکن زیادہ تر اضافہ محدود شرح میں کیا جا رہا ہے۔
مطالعے سے یہ بھی سامنے آیا کہ ملازمین کمپنی بھر میں یکساں تنخواہ بڑھانے کے مقابلے میں کارکردگی کی بنیاد پر دیے جانے والے اضافے کو زیادہ اہم سمجھتے ہیں۔ اس حوالے سے 65 فیصد ملازمین کارکردگی پر مبنی اضافے سے مطمئن تھے، جبکہ کمپنی کی عمومی تنخواہ ایڈجسٹمنٹ سے مطمئن افراد کی شرح 52 فیصد رہی۔
تنخواہ میں اضافے کے بارے میں بات کرنے کے حوالے سے بھی دلچسپ صورتحال سامنے آئی۔ صرف 40 فیصد ملازمین خود اعتماد کے ساتھ اپنے آجر سے تنخواہ بڑھانے کی درخواست کرتے ہیں۔ تاہم رپورٹ کے مطابق جن ملازمین نے تنخواہ بڑھانے کی درخواست کی، ان میں سے 78 فیصد کو کامیابی کے ساتھ اضافہ حاصل ہوا۔
یہ رپورٹ اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ موجودہ دور میں ملازمین صرف مناسب تنخواہ ہی نہیں بلکہ ایک ایسا کام کا ماحول بھی چاہتے ہیں جہاں ان کی محنت کو سراہا جائے، انہیں ترقی کے واضح مواقع ملیں اور ان کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو اہمیت دی جائے۔

COMMENTS