ملائیشیا میں ایک مقامی گلوکار کو سوشل میڈیا پر اس وقت شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا جب انہوں نے ایک مامک ریسٹورنٹ میں جھینگوں کی قیمت زیادہ ...
ملائیشیا میں ایک مقامی گلوکار کو سوشل میڈیا پر اس وقت شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا جب انہوں نے ایک مامک ریسٹورنٹ میں جھینگوں کی قیمت زیادہ ہونے پر عوامی شکایت کی۔ گلوکار نے دعویٰ کیا کہ انہیں صرف سات چھوٹے جھینگوں کے عوض 10 رنگٹ وصول کیے گئے، جس کے بعد انہوں نے متعلقہ حکام سے اس معاملے کی تحقیقات کا مطالبہ کیا۔
یہ واقعہ چیراس کے ایک مامک ریسٹورنٹ میں پیش آیا، جہاں گلوکار فرحان معروب نے اپنی کھانے کی رسید اور شکایت کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم تھریڈز پر شیئر کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ جھینگوں کی قیمت غیر معمولی طور پر زیادہ وصول کی گئی اور یہ صارفین کے ساتھ ناانصافی ہے۔
فرحان کے مطابق انہیں سات چھوٹے جھینگوں کے لیے 10 رنگٹ ادا کرنے پڑے۔ اس کے علاوہ سفید چاول کی قیمت 2 رنگٹ، فرائیڈ چکن 6 رنگٹ اور آئسڈ مائلو 4.80 رنگٹ وصول کیے گئے۔ 6 فیصد سیلز اینڈ سروس ٹیکس شامل ہونے کے بعد ان کے کھانے کا مجموعی بل 24.15 رنگٹ بنا۔
اپنی پوسٹ میں انہوں نے لکھا کہ جھینگوں کی قیمت "غیر معمولی" ہے اور اگر قیمتوں کی وضاحت نہ کی گئی تو وہ وزارتِ داخلی تجارت و صارفین کے امور میں رپورٹ درج کروائیں گے۔ ان کے مطابق جب انہوں نے ریسٹورنٹ کے عملے کو شکایت کی تو کیشیئر نے جواب دیا، "رپورٹ کرنی ہے تو کر دیں۔"
فرحان نے یہ بھی کہا کہ وہ اس معاملے پر ایک پریس کانفرنس کریں گے، تاہم خبر شائع ہونے تک اس حوالے سے مزید کوئی تصدیق سامنے نہیں آئی۔
تاہم سوشل میڈیا پر اس معاملے نے مختلف رخ اختیار کر لیا۔ متعدد صارفین نے گلوکار کی حمایت کرنے کے بجائے ان ہی کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ بعض صارفین کا کہنا تھا کہ سمندری غذا عام طور پر مہنگی ہوتی ہے، اس لیے آرڈر دینے سے پہلے قیمت معلوم کر لینا بہتر ہوتا ہے۔
کچھ افراد نے تبصرہ کیا کہ اگر کسی کو جھینگوں کی قیمت زیادہ محسوس ہوتی ہے تو وہ متبادل کھانا منتخب کر سکتا ہے۔ جبکہ بعض صارفین نے موجودہ مارکیٹ میں سمندری غذا کی قیمتوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جھینگوں کی قیمتیں پہلے ہی کافی بلند ہیں، اس لیے صرف 10 رنگٹ وصول کیا جانا غیر معمولی نہیں سمجھا جا سکتا۔
ایک اور صارف نے سوال اٹھایا کہ کیا گلوکار نے حالیہ عرصے میں خود مارکیٹ سے جھینگے خرید کر ان کی اصل قیمت دیکھی ہے۔ بعض تبصروں میں طنزیہ انداز بھی اختیار کیا گیا، جس سے یہ واضح ہوا کہ اس معاملے پر عوامی رائے یکساں نہیں تھی۔
ملائیشیا میں مامک اور ناسی کندر ریسٹورنٹس میں سمندری غذا کی قیمت عام طور پر دیگر کھانوں کے مقابلے میں زیادہ ہوتی ہے۔ مختلف علاقوں، جھینگوں کے سائز، معیار اور ریسٹورنٹ کی قیمتوں کے مطابق ان کے نرخ مختلف ہو سکتے ہیں۔ اسی وجہ سے بہت سے صارفین آرڈر دینے سے پہلے قیمت معلوم کرنے کو ترجیح دیتے ہیں۔
یہ بھی قابلِ ذکر ہے کہ کچھ عرصہ قبل ایک اور واقعہ سامنے آیا تھا جس میں کوالالمپور کے ایک ناسی کندر ریسٹورنٹ میں ایک صارف نے ایک جھینگے کی قیمت 50 رنگٹ وصول کیے جانے کی شکایت کی تھی، جس پر سوشل میڈیا پر بھی کافی بحث ہوئی تھی۔

COMMENTS