بیرونِ ملک سفر کرنے والے بہت سے ملائیشین اپنے ساتھ مقامی کھانے یا روایتی اشیاء لے جانا پسند کرتے ہیں تاکہ اپنے وطن کا ذائقہ اپنے ساتھ رکھ سک...
بیرونِ ملک سفر کرنے والے بہت سے ملائیشین اپنے ساتھ مقامی کھانے یا روایتی اشیاء لے جانا پسند کرتے ہیں تاکہ اپنے وطن کا ذائقہ اپنے ساتھ رکھ سکیں۔ تاہم، ایک ملائیشین خاتون کی سعودی عرب واپسی کے دوران مسانگ کنگ دوریان لے جانے کی کوشش کامیاب نہ ہو سکی، جب ہوائی اڈے پر ان کے چیک اِن سامان میں موجود دوریان کو مبینہ طور پر پرواز میں لے جانے کی اجازت نہیں دی گئی۔
خاتون نے اپنی یہ روداد سوشل میڈیا پلیٹ فارم تھریڈز پر شیئر کی، جہاں انہوں نے بتایا کہ کوالالمپور انٹرنیشنل ایئرپورٹ ٹرمینل ون پر انہیں اس وقت شدید مایوسی کا سامنا کرنا پڑا جب انہیں بتایا گیا کہ ان کے سامان میں موجود مسانگ کنگ دوریان کے تین ڈبے جہاز میں منتقل نہیں کیے جا سکتے۔ ان کے مطابق یہ دوریان ہینڈ کیری یا کیبن بیگ میں نہیں بلکہ چیک اِن بیگیج میں رکھا گیا تھا۔
خاتون نے بتایا کہ وہ تعطیلات کے دوران ملائیشیا میں مصروفیات کی وجہ سے اپنی پسندیدہ دوریان مناسب طریقے سے نہیں کھا سکیں، اس لیے انہوں نے سوچا کہ واپس سعودی عرب جا کر اس سے لطف اندوز ہوں گی۔ تاہم، ہوائی اڈے پر سامان کی جانچ کے دوران انہیں معلوم ہوا کہ ان کا دوریان پرواز میں شامل نہیں کیا جا سکتا، جس پر وہ جذباتی ہو گئیں۔
انہوں نے اپنی پوسٹ میں لکھا کہ وہ ایئرپورٹ پر رو پڑیں کیونکہ مسانگ کنگ کے تین ڈبے ان کے ساتھ سعودی عرب نہیں جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ انہیں ملائیشیا میں بھی دوریان کھانے کا موقع نہیں ملا تھا، اسی لیے وہ اسے اپنے ساتھ لے جانا چاہتی تھیں۔
خاتون کے مطابق ان کے پاس دوریان کی مقدار بھی زیادہ نہیں تھی۔ انہوں نے بتایا کہ یہ تقریباً 20 گٹھلیوں سے بھی کم مقدار تھی اور ان کا مقصد صرف تھوڑی سی دوریان کھانا تھا۔ انہوں نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی لکھا کہ اگر اللہ کی مرضی یہی تھی تو وہ اس فیصلے کو قبول کرتی ہیں۔
انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ اس سے پہلے وہ کئی مرتبہ دوریان کو چیک اِن سامان میں رکھ کر سفر کر چکی ہیں اور کبھی کسی قسم کی رکاوٹ پیش نہیں آئی۔ اسی تجربے کی بنیاد پر انہیں یقین تھا کہ اگر دوریان کیبن بیگ میں نہ ہو تو اسے چیک اِن سامان میں لے جانا ممکن ہوگا، مگر اس مرتبہ صورتحال مختلف رہی۔
اس واقعے کے بعد سوشل میڈیا پر مختلف آراء سامنے آئیں۔ کئی صارفین نے خاتون کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کیا، جبکہ بعض افراد نے یاد دلایا کہ دوریان اپنی تیز بو کی وجہ سے دنیا کی کئی ایئرلائنز میں محدود یا ممنوع اشیاء میں شمار کیا جاتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر کسی مسافر کو پہلے کسی سفر میں اجازت مل گئی ہو تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہر ایئرلائن یا ہر پرواز میں وہی اصول لاگو ہوں گے۔
بعض صارفین نے یہ بھی وضاحت کی کہ مختلف ایئرلائنز اور مختلف ممالک کے کسٹمز اور زرعی قوانین الگ الگ ہو سکتے ہیں۔ اسی وجہ سے کسی بھی تازہ پھل، خوراک یا تیز بو رکھنے والی چیز کو سفر کے دوران ساتھ لے جانے سے پہلے متعلقہ ایئرلائن اور منزل کے ملک کے ضوابط کی تصدیق کرنا ضروری ہے۔
فضائی سفر کے دوران خوراک سے متعلق قوانین کئی عوامل پر منحصر ہوتے ہیں، جن میں ایئرلائن کی پالیسی، منزل کے ملک کے امپورٹ قوانین اور حفاظتی ضوابط شامل ہیں۔ بعض ایئرلائنز دوریان کو اس کی مخصوص اور تیز بو کی وجہ سے مکمل طور پر ممنوع قرار دیتی ہیں، جبکہ بعض صورتوں میں پیکنگ کے باوجود بھی اسے قبول نہیں کیا جاتا۔ اسی لیے مسافروں کو سفر سے پہلے تازہ پھل یا دیگر خوراکی اشیاء کے حوالے سے مکمل معلومات حاصل کرنی چاہئیں تاکہ روانگی کے وقت کسی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

COMMENTS