ملائیشین ایمپلائرز فیڈریشن (ایم سی ایف) نے حکومت کی اس تجویز کی حمایت کی ہے جس کے تحت اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے مہاجرین میں رجسٹرڈ رو...
ملائیشین ایمپلائرز فیڈریشن (ایم سی ایف) نے حکومت کی اس تجویز کی حمایت کی ہے جس کے تحت اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے مہاجرین میں رجسٹرڈ روہنگیا پناہ گزینوں کو قانونی طور پر ملازمت کرنے کی اجازت دی جا سکتی ہے۔ فیڈریشن کا کہنا ہے کہ اگر یہ اقدام مناسب قانونی اور انتظامی فریم ورک کے تحت نافذ کیا جائے تو اس سے ملک میں مزدوروں کی مسلسل کمی کو پورا کرنے میں مدد مل سکتی ہے، خاص طور پر ان شعبوں میں جہاں مقامی افراد کی دلچسپی کم ہے۔
ایم ای ایف کے صدر داتوک ڈاکٹر سید حسین سید حسن نے کہا کہ آجر ایسے روہنگیا پناہ گزینوں کو ملازمت دینے کے لیے تیار ہیں جنہیں قانونی طور پر کام کرنے کی اجازت حاصل ہو۔ ان کے مطابق یہ اقدام نئے غیر ملکی کارکنوں کی بھرتی پر انحصار کم کرنے کے ساتھ ساتھ بھرتی کے اخراجات اور طویل انتظامی مراحل میں بھی کمی لا سکتا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ملائیشیا میں اب بھی ایسے کئی شعبے ہیں جہاں افرادی قوت کی شدید ضرورت ہے۔ ان میں خاص طور پر 3ڈی یعنی (گندے)، (خطرناک) اور (مشکل) کام شامل ہیں۔ ان شعبوں میں باغات، تعمیرات، صفائی اور دیگر جسمانی مشقت والے پیشے شامل ہیں، جن میں مقامی شہری نسبتاً کم دلچسپی لیتے ہیں۔
ڈاکٹر سید حسین کے مطابق ان شعبوں کی مسلسل فعالیت ملکی معیشت، پیداوار اور خدمات کے نظام کے لیے ضروری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ان آسامیوں کو پُر نہ کیا جائے تو مختلف صنعتوں کی پیداوار اور سپلائی چین متاثر ہو سکتی ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ جب مقامی افراد ان ملازمتوں میں آنے سے گریز کرتے ہیں تو پھر ان خالی آسامیوں کو کون پُر کرے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ جیسے جیسے ملک میں معیارِ زندگی بہتر ہو رہا ہے، ویسے ویسے صفائی اور دیگر سخت نوعیت کے کاموں میں مقامی افراد کی دلچسپی مزید کم ہو رہی ہے۔ اسی وجہ سے غیر ملکی کارکن اب بھی کئی شعبوں کی بنیادی ضرورت بنے ہوئے ہیں۔
ایم ای ایف کے صدر کا کہنا تھا کہ اگر روہنگیا پناہ گزینوں کو قانونی طور پر ملازمت کرنے کی اجازت دی جاتی ہے تو حکومت کے لیے ان کی رجسٹریشن، نگرانی اور لیبر قوانین پر عمل درآمد بھی آسان ہو جائے گا۔ ان کے مطابق غیر قانونی طور پر کام کرنے کے بجائے قانونی نظام کے تحت ملازمت کرنا زیادہ مؤثر ہوگا کیونکہ اس صورت میں تمام مزدور قوانین اور قومی قوانین ان پر بھی اسی طرح لاگو ہوں گے جیسے دیگر کارکنوں پر ہوتے ہیں۔
دوسری جانب ماہرِ معاشیات ڈاکٹر ادھم محمد رزاق نے اس تجویز پر محتاط انداز اپنانے کی ضرورت پر زور دیا۔ ان کے مطابق اگر یہ پالیسی مناسب منصوبہ بندی اور مؤثر نگرانی کے بغیر نافذ کی گئی تو اس کے بعض معاشی اثرات سامنے آ سکتے ہیں۔
انہوں نے خبردار کیا کہ بعض شعبوں میں اضافی افرادی قوت کی وجہ سے مقامی کارکنوں کی اجرتوں پر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔ اس کے علاوہ حکومت کو رجسٹریشن، نگرانی اور انتظامی امور پر بھی اضافی اخراجات برداشت کرنا پڑ سکتے ہیں۔
ڈاکٹر ادھم نے مزید کہا کہ اگر اس پالیسی کے ساتھ سخت ضوابط اور واضح شرائط نہ رکھی گئیں تو بعض آجر کم لاگت والی افرادی قوت پر انحصار جاری رکھ سکتے ہیں۔ اس صورت میں جدید ٹیکنالوجی کے استعمال، خودکار نظام اپنانے اور مقامی کارکنوں کی مہارت بڑھانے میں سرمایہ کاری سست پڑ سکتی ہے، جس سے ملائیشیا کی معیشت کو زیادہ ویلیو ایڈڈ صنعتوں کی جانب منتقل کرنے کی کوششیں بھی متاثر ہو سکتی ہیں۔
حکومت کی جانب سے اس تجویز کا مقصد ایک جانب موجود افرادی قوت سے بہتر فائدہ اٹھانا اور دوسری جانب ایسے شعبوں میں مزدوروں کی کمی کو کم کرنا ہے جہاں مستقل طور پر کارکنوں کی ضرورت رہتی ہے۔ تاہم اس حوالے سے حتمی پالیسی اور اس کے نفاذ کا طریقہ کار حکومت کی آئندہ ہدایات اور متعلقہ اداروں کی مشاورت کے بعد واضح ہوگا۔

COMMENTS