ملائیشیا کی ریاست میلاکا میں امیگریشن ڈیپارٹمنٹ کے ایک افسر نے غیر قانونی تارک وطن کو قانونی کارروائی سے بچانے کے بدلے مبینہ طور پر رشوت لی...
ملائیشیا کی ریاست میلاکا میں امیگریشن ڈیپارٹمنٹ کے ایک افسر نے غیر قانونی تارک وطن کو قانونی کارروائی سے بچانے کے بدلے مبینہ طور پر رشوت لینے کے مقدمے میں تمام الزامات سے انکار کر دیا ہے۔ ملزم کو سیشنز کورٹ میں پیش کیا گیا جہاں اس پر مجموعی طور پر سات الزامات عائد کیے گئے، تاہم اس نے ہر الزام پر خود کو بے گناہ قرار دیا۔
عدالتی دستاویزات کے مطابق 39 سالہ محمد نذرال محمد یاسین پر الزام ہے کہ انہوں نے یکم جنوری 2025 سے 10 جولائی 2025 کے درمیان سات مختلف مواقع پر ایک 69 سالہ شخص سے مجموعی طور پر 1,950 رنگٹ رشوت وصول کی۔ استغاثہ کے مطابق ہر مرتبہ ادا کی گئی رقم 150 سے 300 رنگٹ کے درمیان تھی۔
الزام ہے کہ یہ رقم اس مقصد کے لیے دی گئی تھی کہ امیگریشن افسر اس بزرگ شخص کی 23 سالہ بیٹی کے خلاف قانونی کارروائی نہ کریں۔ خاتون پر الزام تھا کہ اس نے ایک ایسے غیر ملکی شہری کو پناہ دی تھی جس کے پاس شناخت یا قانونی سفری دستاویزات موجود نہیں تھے۔ یہ عمل امیگریشن ایکٹ 1959/63 کے تحت جرم شمار ہوتا ہے۔
استغاثہ کے مطابق تمام مبینہ لین دین میلکا کے ضلع جاسن کے علاقے مرلیماؤ میں واقع ایک ریسٹورنٹ میں ہوئے۔ انہی واقعات کی بنیاد پر ملزم کے خلاف ملائیشین اینٹی کرپشن کمیشن ایکٹ 2009 کی دفعہ 16(اے)(بی) کے تحت مقدمہ درج کیا گیا، جبکہ سزا سے متعلق دفعات 24(1) کے تحت کارروائی کی جا رہی ہے۔
قانون کے مطابق اگر ملزم پر عائد الزامات ثابت ہو جاتے ہیں تو ہر الزام پر زیادہ سے زیادہ 20 سال قید کی سزا ہو سکتی ہے۔ اس کے علاوہ کم از کم رشوت کی رقم سے پانچ گنا یا 10 ہزار رنگٹ جرمانہ، جو بھی زیادہ ہو، عائد کیا جا سکتا ہے۔
سماعت کے دوران ایم اے سی سی کی ڈپٹی پبلک پراسیکیوٹر شارینہ فرحانہ نور سعاری نے مؤقف اختیار کیا کہ یہ سنگین نوعیت کا مقدمہ ہے۔ انہوں نے عدالت سے استدعا کی کہ اگر ضمانت دی جائے تو مجموعی طور پر 20 ہزار رنگٹ کی ضمانت ایک مقامی ضامن کے ساتھ مقرر کی جائے۔ پراسیکیوشن نے مزید درخواست کی کہ ملزم اپنا بین الاقوامی پاسپورٹ عدالت میں جمع کرائے، ہر ماہ ایک مرتبہ ایم اے سی سی کے دفتر میں حاضری دے اور مقدمے کے اختتام تک استغاثہ کے گواہوں سے کسی بھی قسم کا رابطہ نہ کرے۔
ملزم نے عدالت میں بغیر وکیل کے پیش ہو کر ضمانت کی رقم کم رکھنے کی درخواست کی۔ اس نے بتایا کہ وہ اس وقت ملازمت سے معطل ہے اور اپنی والدہ سمیت چار زیر تعلیم بچوں کی کفالت کا واحد ذمہ دار ہے۔ اس نے عدالت کو یہ بھی بتایا کہ وہ صرف 5 ہزار رنگٹ کی ضمانت کا انتظام کر سکا ہے، جو اس نے ادھار حاصل کیے ہیں۔
دونوں فریقوں کے دلائل سننے کے بعد عدالت نے ملزم کی ضمانت 12 ہزار رنگٹ مقرر کی، جس کے لیے ایک مقامی ضامن کی شرط عائد کی گئی۔ عدالت نے استغاثہ کی جانب سے پیش کی گئی اضافی شرائط بھی برقرار رکھیں، جن میں پاسپورٹ جمع کرانا، ماہانہ ایم اے سی سی دفتر میں حاضری دینا اور گواہوں سے رابطہ نہ کرنا شامل ہے۔
عدالت نے اس مقدمے کی آئندہ سماعت کے لیے 26 اگست کی تاریخ مقرر کر دی ہے، جہاں کیس کی مزید کارروائی کی جائے گی۔
ملائیشیا میں سرکاری اہلکاروں کے خلاف بدعنوانی سے متعلق مقدمات کی تحقیقات ملائیشین اینٹی کرپشن کمیشن کرتا ہے۔ ایسے مقدمات میں عدالت میں جرم ثابت ہونے تک ہر ملزم قانون کی نظر میں بے گناہ تصور کیا جاتا ہے، جبکہ عدالت دستیاب شواہد کی بنیاد پر حتمی فیصلہ سناتی ہے۔

COMMENTS