ملائیشیا کے وزیرِ داخلہ سیف الدین ناسوشن اسماعیل نے کہا ہے کہ 30 جون تک ملک بھر کے 20 امیگریشن حراستی ڈیپوز میں مجموعی طور پر 22,166 غیر ...
ملائیشیا کے وزیرِ داخلہ سیف الدین ناسوشن اسماعیل نے کہا ہے کہ 30 جون تک ملک بھر کے 20 امیگریشن حراستی ڈیپوز میں مجموعی طور پر 22,166 غیر قانونی تارکین وطن زیرِ حراست تھے۔ ان میں دو عارضی امیگریشن ڈیپو بھی شامل ہیں، جہاں مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے افراد کو امیگریشن قوانین کے تحت رکھا گیا ہے۔
وزیرِ داخلہ کے مطابق زیرِ حراست افراد میں 17,872 مرد (81 فیصد) جبکہ 4,294 خواتین (19 فیصد) شامل ہیں۔ گزشتہ سال کے مقابلے میں اس تعداد میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ 6 جولائی 2025 تک ایسے افراد کی تعداد 17,896 تھی، جبکہ موجودہ اعداد و شمار اس میں واضح اضافے کی نشاندہی کرتے ہیں۔
پارلیمنٹ میں تحریری جواب دیتے ہوئے سیف الدین نصیوشن اسماعیل نے بتایا کہ حراست میں موجود افراد میں سب سے زیادہ تعداد میانمار کے شہریوں کی ہے، جن کی تعداد 11,194 ہے۔ اس کے بعد فلپائن کے 5,200، انڈونیشیا کے 3,247، بنگلہ دیش کے 1,133، تھائی لینڈ کے 277، بھارت کے 250 اور پاکستان کے 193 شہری شامل ہیں۔
اس کے علاوہ چین کے 174، ویتنام کے 85، نیپال کے 76، کمبوڈیا کے 49 جبکہ دیگر مختلف ممالک کے 288 شہری بھی امیگریشن حراستی مراکز میں موجود ہیں۔
وزیرِ داخلہ نے حراست کے دورانیے سے متعلق بھی تفصیلات فراہم کیں۔ ان کے مطابق 11,884 افراد تین ماہ یا اس سے کم عرصے سے زیرِ حراست ہیں۔ 2,891 افراد چار سے چھ ماہ، 1,492 افراد سات سے نو ماہ جبکہ 855 افراد دس سے گیارہ ماہ سے حراست میں ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق 5,035 افراد ایک سے پانچ سال کے درمیان مختلف امیگریشن ڈیپوز میں موجود ہیں۔ مزید یہ کہ آٹھ افراد ایسے ہیں جو چھ سے دس سال کے درمیان حراست میں رہے، جبکہ ایک شخص کم از کم 11 سال سے امیگریشن حراست میں موجود ہے۔
وزیرِ داخلہ نے یہ بھی بتایا کہ اس وقت 356 غیر قانونی تارکین وطن بچوں کو ان کی خواتین سرپرستوں کے ساتھ ملک بھر کے سات بیت المحبہ نگہداشت مراکز میں رکھا گیا ہے۔ یہ مراکز ایسے بچوں اور ان کے سرپرستوں کی بنیادی دیکھ بھال کے لیے قائم کیے گئے ہیں۔
یہ معلومات پارلیمنٹ میں رکنِ پارلیمنٹ وونگ چن کے سوال کے جواب میں فراہم کی گئیں، جنہوں نے امیگریشن حراستی مراکز میں موجود افراد کی عمر، جنس، شہریت اور حراست کی مدت سے متعلق تفصیلی اعداد و شمار طلب کیے تھے۔
ملائیشیا میں امیگریشن ڈیپوز ایسے غیر ملکیوں کو عارضی طور پر رکھنے کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں جو بغیر قانونی دستاویزات کے ملک میں موجود ہوں یا امیگریشن قوانین کی خلاف ورزی کے مرتکب پائے جائیں۔ متعلقہ حکام ہر کیس کا جائزہ لینے کے بعد قانونی کارروائی، وطن واپسی یا دیگر انتظامی اقدامات کرتے ہیں۔

COMMENTS