ملائیشیا کے وزیرِ داخلہ داتوک سری سیف الدین ناسوشن اسماعیل نے کہا ہے کہ وزارتِ داخلہ کی MyNIISe موبائل ایپلی کیشن نے امیگریشن خدمات کو زی...
ملائیشیا کے وزیرِ داخلہ داتوک سری سیف الدین ناسوشن اسماعیل نے کہا ہے کہ وزارتِ داخلہ کی
MyNIISe
موبائل ایپلی کیشن نے امیگریشن خدمات کو زیادہ تیز اور مؤثر بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ ان کے مطابق 28 جون 2026 تک اس ایپ کے ذریعے 1 کروڑ 94 لاکھ 80 ہزار سے زائد کیو آر کوڈ اسکین ٹرانزیکشنز ریکارڈ کی جا چکی ہیں، جس سے خاص طور پر جوہر کاز وے پر رش کم کرنے میں مدد ملی ہے۔
وزیرِ داخلہ نے ایک بیان میں بتایا کہ یہ کیو آر ٹرانزیکشنز سلطان اسکندر بلڈنگ اور سلطان ابو بکر کمپلیکس پر ریکارڈ کی گئی ہیں، جو ملائیشیا اور سنگاپور کے درمیان آمد و رفت کے دو اہم زمینی داخلی راستے ہیں۔ ان مقامات پر روزانہ ہزاروں افراد سرحد عبور کرتے ہیں، جس کی وجہ سے طویل قطاریں اور ٹریفک کا دباؤ معمول کی بات رہی ہے۔
سیف الدین ناسوشن اسماعیل کے مطابق
MyNIISe
ایپ اب تک 24 لاکھ مرتبہ ڈاؤن لوڈ کی جا چکی ہے جبکہ اس میں 12 لاکھ 70 ہزار رجسٹرڈ صارفین موجود ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایپ کے بڑھتے ہوئے استعمال سے زیادہ افراد ڈیجیٹل لینز کے ذریعے امیگریشن کلیئرنس حاصل کر رہے ہیں، جس کے نتیجے میں سرحدی گزرگاہوں پر انتظار کا وقت کم ہوا ہے اور مجموعی نظام زیادہ مؤثر انداز میں کام کر رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت نے اس ڈیجیٹل سہولت کو صرف زمینی سرحدوں تک محدود نہیں رکھا بلکہ اسے ملک کے پانچ بڑے ہوائی اڈوں تک بھی توسیع دے دی گئی ہے۔ ان ہوائی اڈوں پر اب تک 55 لاکھ 90 ہزار کیو آر ٹرانزیکشنز ریکارڈ کی جا چکی ہیں، جو اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ مسافر بھی تیزی سے اس جدید نظام کو اختیار کر رہے ہیں۔
وزیرِ داخلہ کے مطابق ایپ کا اجرا مدانی حکومت کے اس عزم کی عکاسی کرتا ہے جس کے تحت سرکاری اصلاحات کو عملی نتائج میں تبدیل کیا جا رہا ہے تاکہ عوام کو براہِ راست بہتر اور تیز خدمات فراہم کی جا سکیں۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت صرف نئی پالیسیاں متعارف کرانے پر اکتفا نہیں کر رہی بلکہ ان پر مؤثر عمل درآمد کو بھی یقینی بنا رہی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ حکومت مستقبل میں بھی اس ایپ جیسے ڈیجیٹل منصوبوں کو مزید مضبوط بنائے گی تاکہ امیگریشن خدمات کی فراہمی بہتر ہو، شہریوں اور مسافروں کے روزمرہ معاملات آسان بنیں اور ملک کا امیگریشن نظام جدید تقاضوں کے مطابق مزید مؤثر ہو سکے۔
مذکورہ ایپ بنیادی طور پر کیو آر کوڈ پر مبنی امیگریشن کلیئرنس سسٹم فراہم کرتی ہے، جس کے ذریعے رجسٹرڈ صارفین روایتی طریقہ کار کے مقابلے میں کم وقت میں امیگریشن چیک مکمل کر سکتے ہیں۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اس ڈیجیٹل نظام کا مقصد سرحدی گزرگاہوں پر بھیڑ کم کرنا، امیگریشن عملے کی کارکردگی بہتر بنانا اور مسافروں کو زیادہ سہولت فراہم کرنا ہے۔
جوہر کے سرحدی راستے، خصوصاً سلطان اسکندر بلڈنگ اور سلطان ابو بکر کمپلیکس، ملائیشیا اور سنگاپور کے درمیان روزانہ لاکھوں افراد کی آمد و رفت کے باعث دنیا کی مصروف ترین زمینی سرحدوں میں شمار کیے جاتے ہیں۔ ایسے میں کیو آر پر مبنی امیگریشن سسٹم کو جدید سفری سہولیات کی جانب ایک اہم قدم سمجھا جا رہا ہے۔

COMMENTS