پینانگ کے وزیر اعلیٰ چاؤ کون ییو نے کہا ہے کہ ریاستی حکومت کسی بھی صورت میں پناہ گزینوں کے مسئلے کو مقامی آبادی کی روزمرہ زندگی متاثر کرنے ...
پینانگ کے وزیر اعلیٰ چاؤ کون ییو نے کہا ہے کہ ریاستی حکومت کسی بھی صورت میں پناہ گزینوں کے مسئلے کو مقامی آبادی کی روزمرہ زندگی متاثر کرنے کی اجازت نہیں دے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ ملائیشیا میں موجود ہر فرد، بشمول روہنگیا برادری، کو ملکی قوانین کا احترام کرنا ہوگا اور قیام کے دوران قانونی طریقہ کار پر عمل کرنا ہوگا۔
جارج ٹاؤن میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے چاؤ کون ییو نے کہا کہ وزیراعظم کی ہدایت کے مطابق ملک میں قانون کی حکمرانی قائم ہے اور ایسے کسی بھی اقدام کی اجازت نہیں دی جا سکتی جو عوام کی زندگی، رہائشی علاقوں، ٹریفک یا عوامی مقامات میں رکاوٹ کا باعث بنے۔
انہوں نے کہا کہ جو بھی افراد ملائیشیا میں رہتے ہیں، انہیں ملکی قوانین کی پابندی کرنا ہوگی اور اپنے معاملات متعلقہ قانونی ذرائع کے ذریعے انجام دینے ہوں گے۔ ان کے مطابق قانون کی پاسداری ہر فرد کے لیے ضروری ہے تاکہ عوامی نظم و ضبط برقرار رہے۔
یہ بیان اتوار کی شب اس وقت سامنے آیا جب پینانگ کے علاقے پیناگا، کیپالا باتاس میں سابق سونامی سائٹ پر قائم عارضی بستی سے 100 سے زائد روہنگیا افراد کو رضاکارانہ طور پر کوالالمپور میں اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے مہاجرین (یو این ایچ سی آر) کے دفتر منتقل کیا گیا۔
یہ منتقلی مقامی آبادی کی جانب سے بڑھتی ہوئی روہنگیا آبادی، معاشی مقابلے اور غیر رسمی آبادیوں سے متعلق خدشات کے بعد عمل میں آئی۔ مقامی رہائشیوں نے ان مسائل پر اپنی تشویش کا اظہار کیا تھا، جس کے بعد متعلقہ فریقوں نے منتقلی کا فیصلہ کیا۔
رپورٹ کے مطابق اس وقت ملائیشیا میں رجسٹرڈ پناہ گزینوں کی تعداد تقریباً 2 لاکھ 15 ہزار 600 سے زیادہ ہے۔ موجودہ قوانین کے تحت ان رجسٹرڈ پناہ گزینوں کو قانونی طور پر ملازمت کرنے کی اجازت نہیں، جس کی وجہ سے بہت سے افراد غیر رسمی یا غیر رجسٹرڈ شعبوں میں کام کرتے ہیں۔
چاؤ کون ییو نے کہا کہ روہنگیا برادری نے بھی مقامی حالات کو سمجھتے ہوئے منتقلی کا فیصلہ کیا، تاہم انہوں نے اقوام متحدہ کے ادارے یو این ایچ سی آر پر زور دیا کہ وہ اس معاملے کی نگرانی میں زیادہ فعال کردار ادا کرے۔ ان کے مطابق اگر روہنگیا آبادی میں مسلسل اضافہ ہوتا رہا تو مستقبل میں اس صورتحال کا انتظام مزید مشکل ہو سکتا ہے۔
انہوں نے مزید واضح کیا کہ حالیہ منتقلی پینانگ حکومت کی جانب سے چلایا گیا کوئی آپریشن نہیں تھا۔ تاہم ریاستی حکومت ان علاقوں کی نگرانی جاری رکھے گی جہاں روہنگیا برادری موجود ہے، جن میں باگان سمیت دیگر علاقے بھی شامل ہیں۔
وزیر اعلیٰ کے مطابق اگرچہ ریاستی حکومت کو اس حوالے سے براہ راست شکایات کی تعداد زیادہ موصول نہیں ہوئی، پھر بھی انتظامیہ صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے تاکہ مقامی آبادی اور متعلقہ اداروں کے درمیان بہتر نظم و نسق برقرار رکھا جا سکے۔
ملائیشیا میں روہنگیا پناہ گزینوں کا معاملہ کئی برسوں سے زیر بحث ہے۔ چونکہ ملک نے پناہ گزینوں سے متعلق بعض بین الاقوامی معاہدوں پر دستخط نہیں کیے، اس لیے ان افراد کی قانونی حیثیت اور روزگار جیسے معاملات مختلف قوانین اور انتظامی پالیسیوں کے تحت دیکھے جاتے ہیں۔ اسی وجہ سے ریاستی اور وفاقی ادارے وقتاً فوقتاً اس صورتحال کا جائزہ لیتے رہتے ہیں۔

COMMENTS