ملائیشیا کی حکومت نے پرکیسو کے ایمپلائمنٹ انجری سکیم فار نان ورک ایکسیڈنٹ (لنڈونگ 24 جام) سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی کا اعلان کیا ہے۔ نئی ...
ملائیشیا کی حکومت نے پرکیسو کے ایمپلائمنٹ انجری سکیم فار نان ورک ایکسیڈنٹ (لنڈونگ 24 جام) سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی کا اعلان کیا ہے۔ نئی پالیسی کے تحت ملائیشین شہریوں کے لیے اس اسکیم میں شمولیت اب لازمی نہیں رہے گی بلکہ وہ اپنی ضرورت اور حالات کے مطابق رضاکارانہ طور پر اس میں شامل ہونے کا فیصلہ کر سکیں گے۔ تاہم حکومت نے واضح کیا ہے کہ غیر ملکی کارکنوں کے لیے اس اسکیم میں شمولیت بدستور لازمی رہے گی اور موجودہ قوانین کے مطابق اس پر عمل درآمد جاری رکھا جائے گا۔
ملائیشیا کے وزیر برائے انسانی وسائل داتوک سری آر. رامانن نے ایک بیان میں کہا کہ کابینہ نے عوامی آراء اور تجاویز کا جائزہ لینے کے بعد یہ فیصلہ کیا ہے۔ ان کے مطابق حکومت چاہتی ہے کہ مقامی ملازمین کو یہ اختیار حاصل ہو کہ وہ اپنی انفرادی ضروریات اور مالی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے اس اسکیم میں حصہ لینا چاہتے ہیں یا نہیں۔
وزیر نے بتایا کہ یہ فیصلہ فوری طور پر نافذ العمل ہے۔ اس کے تحت ملائیشین ملازمین کے لیے لنڈونگ 24 جام اسکیم میں شمولیت اختیاری ہوگی، جبکہ غیر ملکی کارکنوں کے لیے موجودہ قانونی تقاضے برقرار رہیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ غیر ملکی ملازمین سے متعلق قوانین میں اس حوالے سے کوئی تبدیلی نہیں کی گئی۔
انہوں نے مزید کہا کہ پرکیسو (سوشل سکیورٹی آرگنائزیشن) جلد ہی اس نئی پالیسی کے عملی طریقہ کار اور رضاکارانہ رجسٹریشن کے حوالے سے مکمل تفصیلات جاری کرے گا تاکہ مقامی ملازمین اسکیم میں شامل ہونے کے طریقہ کار سے آگاہ ہو سکیں۔
وزیر آر. رامانن نے اس بات پر بھی زور دیا کہ اگرچہ مقامی ملازمین کے لیے اسکیم کو رضاکارانہ بنا دیا گیا ہے، لیکن لنڈونگ 24 جام اب بھی ایک اہم سماجی تحفظ (سوشل پروٹیکشن) پروگرام ہے۔ اس اسکیم کے تحت ایسے ملازمین کو مالی اور فلاحی تحفظ فراہم کیا جاتا ہے جو کام کے اوقات سے باہر یا اپنی ملازمت کی جگہ سے دور روزمرہ زندگی کے دوران کسی حادثے کا شکار ہو جائیں۔
انہوں نے کہا کہ ملازمین کی سماجی حفاظت اور فلاح و بہبود کو یقینی بنانا وزارتِ انسانی وسائل اور پرکیسو کی بنیادی ترجیحات میں شامل ہے۔ اسی مقصد کے تحت حکومت مختلف سماجی تحفظ کی اسکیموں کا مسلسل جائزہ لے رہی ہے تاکہ وہ موجودہ ضروریات کے مطابق مؤثر انداز میں کام کرتی رہیں۔
وزیر نے اعلان کیا کہ وزارتِ انسانی وسائل سال کے اختتام تک لنڈونگ 24 جام اسکیم کے مکمل فریم ورک کا تفصیلی جائزہ لے گی۔ اس جائزے میں اسکیم کی پالیسی، اس کی عملی افادیت، مستقبل کی سمت اور طویل مدتی مالی پائیداری جیسے اہم پہلوؤں کا جائزہ لیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ اگر اس جائزے کے نتیجے میں قوانین میں تبدیلی کی ضرورت محسوس ہوئی تو حکومت متعلقہ سفارشات کے ساتھ ایمپلائیز سوشل سیکیورٹی ایکٹ 1969 (ایکٹ 4) میں مجوزہ ترامیم پارلیمنٹ میں پیش کرے گی تاکہ قانون کو نئی ضروریات کے مطابق بہتر بنایا جا سکے۔
آر. رامانن نے مزید بتایا کہ پرکیسو آئندہ بھی عوامی آگاہی مہم جاری رکھے گا تاکہ ملازمین کو سماجی تحفظ کی اہمیت اور اس اسکیم کے فوائد کے بارے میں درست معلومات فراہم کی جا سکیں۔ ان کے مطابق درست معلومات کی فراہمی سے ملازمین اپنی ضروریات کے مطابق بہتر اور باخبر فیصلہ کر سکیں گے۔
لنڈونگ 24 جام اسکیم بنیادی طور پر ایسے حادثات کے لیے تحفظ فراہم کرتی ہے جو ملازمین کو کام کے اوقات کے علاوہ پیش آئیں۔ اس کا مقصد صرف ملازمت کے دوران ہونے والے حادثات تک محدود نہیں بلکہ روزمرہ زندگی میں پیش آنے والے بعض حادثات کی صورت میں بھی متاثرہ ملازم اور اس کے اہل خانہ کو مالی معاونت اور سماجی تحفظ فراہم کرنا ہے۔ اسی وجہ سے اسے ملائیشیا کے سماجی تحفظ کے نظام کا ایک اہم حصہ تصور کیا جاتا ہے۔
غیر ملکی کارکنوں کے لیے اس اسکیم کو لازمی برقرار رکھنے کا فیصلہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ حکومت ملک میں کام کرنے والے تمام غیر ملکی ملازمین کو بھی بنیادی سماجی تحفظ فراہم کرنے کے موجودہ نظام کو برقرار رکھنا چاہتی ہے، جبکہ مقامی ملازمین کو اس حوالے سے زیادہ اختیار دیا گیا ہے۔

COMMENTS